TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –31 AUG
کل سے پورے ملک کی نظریںممبئی میں منعقدہ اپوزیشن اتحاد کے اجلاس پر لگی ہوئی ہیں۔ تاہم بہار کے لوگوں کی نظریں سی ایم نتیش کمار پر جمی ہوئی ہیں۔ جس طرح انہوں نے اپوزیشن اتحاد کو لے کر پہل کی اور شروع سے لیکر اب تک اپوزیشن اتحاد کو مضبوط بنانے میں ان کا جو رول رہا ہے وہ کسی سے بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔ ان کی کوششوں کا کتنا اثر ممبئی میں جاری اجلاس میں ہوگایہ ابھی دیکھنے کی بات ہے۔ یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ ’’انڈیا‘‘ کے ساتھ وابستہ تمام بی جے پی مخالف پارٹیاں اپوزیشن اتحاد مہم کے سربراہ نتیش کمار کے تئیں کتنی عزت، اعتماد اور احترام کا جذبہ رکھتی ہیں۔ اپوزیشن اتحاد میں نتیش کمار کو بڑی ذمہ داری دی جاتی ہے، یہ بھی بہت اہم ہے۔ اس سب کے درمیان یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا کانگریس پورے اپوزیشن اتحاد کی طاقت کا استعمال اپنے ڈھنگ سے کرنا چاہتی ہے ؟
اس سے قبل بنگلور میں منعقدہ اپوزیشن اتحاد’’ انڈیا‘‘ کے اجلاس میںشریک نتیش کمار کو شاید اتنی توجہ نہیں دی گئی تھی، جتنی دی جانی چاہئے تھی۔سیاسی حلقوں میں یہ چرچا تھا کہ پوری میٹنگ کو کانگریس اور لالو پرساد یادو نے اپنے ڈھنگ سے چلایا تھا۔کہا جاتا ہے کہ . بنگلور میں منعقدہ میٹنگ میں نتیش کمار کی طرف سے ایجنڈا تیار کیا گیاتھا، لیکن اس کے مطابق میٹنگ نہیں چلی۔ اتحاد کے نام پر دی گئی تجاویز پر بھی عمل نہیں کیا گیا تھا۔ نتیش کمار کو’’انڈیا ‘‘ کے نام پر اختلاف تھا، لیکن ان کے مشورے کو نظر انداز کردیا گیا اور سب سے بڑھ کر بنگلور میں کانگریس کی حکومت ہونے کے باوجود شہر میں نتیش کمار کی مخالفت کرنے والے پوسٹر لگائے گئے اور حکومت خاموش تماشائی بنی۔میٹنگ کے آخر میں منعقد مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی نتیش کمار موجود نہیں تھے۔ شاید اسی وجہ سے سیاسی حلقوں سے لیکر میڈیا تک میں یہی چرچا تھا کہ ناراض نتیش کمار بنگلور سے اکیلے ہی پٹنہ لو ٹ آئے تھے اور لالو پرساد اور تیجسوی یادو بنگلور میں رہ گئے تھے۔حالانکہ نتیش کمار نے میڈیا کے ذریعہ پوچھے جانے پر یہ واضح کیا تھا کہ راجگیرمیں منعقد ہونے والے ملماس میلہ کے افتتاح کے لئے انھیں پہلے پٹنہ لوٹ آنا پڑا تھا۔
ممبئی میں منعقدہ میٹنگ میں کیا کچھ ہونے والا ہے، یہ سلسلے میں میڈیا کے ذریعہ بہت کچھ کہا جاتا رہا ہے۔ بہار کے لوگ اس بات کی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد کے سلسلے میں اب تک نتیش کمار کے ذریعہ کی گئی کوششوں کے عوض میں انھیں کوئی بڑی ذمہ داری ملنے والی ہے۔حالانکہ یہ طے ہے کہ اس میٹنگ میں بہت کچھ طے ہونے والا ہے۔ اس میں اپوزیشن اتحاد کے لوگو اور جھنڈا کے ساتھ ساتھ اس کے کنوینر بورڈ، کنوینربورڈ کا صدر، ’’ون ٹو ون ‘‘سیٹوں کی تقسیم اور کون سی جماعتیں کتنی سیٹوں پر الیکشن لڑیں گی، ان سب امور پر فیصلہ لیا جانا ہے۔اس میں نتیش کمار کی کیا ذمہ داری ہوگی، اس سلسلے میں بہار کے لوگ بڑی تجسس کے ساتھ اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ممبئی میٹنگ میں ہی یہ طے ہو جائے گا کہ اپوزیشن اتحاد کا کیا مستقبل ہے۔ پورے ملک کے سیاست دان اس پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ کانگریس ایک بڑی اور قومی پارٹی ہے، لیکن اپوزیشن اتحاد کا پلیٹ فارم نتیش کمار نے اپنی مسلسل کوششوں سے تیار کیا ہے۔ وہ بھی اس سوچ کے ساتھ کہ کانگریس ملکی سطح پر لبرل ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن ریاستوں میں علاقائی پارٹیاں کانگریس کو شکست دے کر اقتدار میں ہیں، وہاں کانگریس کو زیادہ لبرل ہونا پڑے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو بنگال، دہلی اور پنجاب میں اپوزیشن اتحاد کوکافی پریشانی ہوگی، اب نتیش کمار نے ملک کی 26 پارٹیوں سے بات کرنے کے بعد انہیں ایک پلیٹ فارم پر لایا ہے۔ جن شرائط پر وہ آئے ہیں، ان کو پورا کرنے کے لیے نتیش کمار کو اتحاد میں ایک اہم عہدے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ اتحاد انتشار کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔
یہ بات سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ نتیش کمار کے پاس طویل سیاسی تجربہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ سیٹوں کی تقسیم کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نتیش کمار بی جے پی کی حکمت عملی کو جانتے ہیں۔ اس لیے نتیش کمار چاہتے ہیں کہ اگر یہ طے ہو جائے کہ کون کس سیٹ پر الیکشن لڑے گا تو تیاریاں ابھی سے شروع کی جا سکتی ہیں۔ چاہے بی جے پی وقت سے پہلے الیکشن کرائے یا وقت پر، اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ مقابلے کے لیے ابھی سے خود تیار رکھے گا۔ تاہم ممبئی کی میٹنگ کانگریس کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ نتیش کمار کے لیے ہے۔ اگر دونوں کا مقصد نریندر مودی کو اقتدار سے ہٹانا ہے تو کانگریس کی رکنیت کے ساتھ ساتھ نتیش کمار کی کوششوں کا بھی احترام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سب کچھ توازن کے ساتھ انجام تک پہنچ سکے۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو کانگریس کے خلاف جیت کر ریاست میں اقتدار پر قبضہ کرنے والی پارٹیاں کسی بھی وقت اپوزیشن اتحاد سے الگ کھڑی نظر آ سکتی ہیں۔ خاص طور پرعام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس اپنی پارٹی کو کمزور کرکے شاید ’’انڈیا‘‘ میں رہنا پسند نہیں کریں گی۔اس لئے کانگریس کو ایک ایک قدم پھونک پھونک کر چلنا پڑے گا۔
*************

