کرشن جنم بھومی پر انہدامی کارروائی پر سپریم کورٹ نے روک لگائی

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –16AUG       

نئی دہلی ،16اگست:سپریم کورٹ نے محکمے ریلوے اور متھرا انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ کرشن جنم بھومی کے ارد گرد جاری انہدم کارروائی پر روک لگائی ہے۔ یہ روک دس دن کے لئے ہے۔ عرضداشت کنندہ نے تین ممبروں پر مشتمل بنچ سے کہا کہ وہ اس لئے عدالت عالیہ سے رجوع کررہے ہیں کیونکہ اتردپردیش میں عدالتیں چھٹیوں پر ہیں۔ اس نے کہا کہ کرشن جنم بھومی کے ارد گرد 200میں سے صرف 80عمارتیں رہیں۔ اس پر بنچ نے حکم امتناعی جاری کی اورہدایت جاری کی کہ اس کیس کو ایک ہفتے کے بعد سنا جائے گا ۔ اس دوران ریلوے انتظامیہ نے کہا کہ وہ غیرقانونی عمارتوں کو منہدم کررہے ہیں تا کہ وہ اس علاقے میں بڑی لائن بچھا سکیں۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا تھا کہ جس زمین سے ریلوے تجاوزات ہٹا رہا تھا، وہاں پر لوگ 100 سال سے زائد عرصے رہ رہے ہیں سے۔ اس بنیاد پر کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ریلوے کی جانب سے پہلے ہی بہت سی تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں۔ اب صرف 70-80 مکانات رہ گئے ہیں، ان کے گرانے پر پابندی لگائی جائے۔ عدالت عظمیٰ نے فوری اثر کے ساتھ کارروائی روک دی اور ریلوے سے جواب طلب کیا۔ تاہم سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں ریلوے کی جانب سے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ ورنداون ریلوے لائن کے کنارے ریلوے کی زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کرکے رہنے والے لوگوں سے ریلوے نے زمین خالی کرنے کیلئے کہا تھا۔ عرضی گزار کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانتو سین نے عدالت کو بتایا کہ اس کارروائی میں 200 مکانات گرائے جائیں گے اور 3000 لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔ ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے اور وہ یہاں 100 سال سے زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں۔یہ معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں چل رہا تھا، لیکن ہڑتال کی وجہ سے پیر کو سماعت نہیں ہو سکی تھی، ایسے میں درخواست گزار سپریم کورٹ پہنچے تھے۔