ہماچل کے چمبا میں ندی میں گری پولیس جوانوں کی جیپ، چھ ہلاک

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -11 AUG

شملہ، 11 اگست: ہماچل پردیش میں مانسون کی تباہ کاریوں کے درمیان سڑک حادثات بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ چمبا ضلع کے تیسا تھانہ علاقے میں پولیسجوانوں سے بھری بولیرو جیپ بے قابو ہو کر کھائی میں پھسلنے کے بعد سیول ندی میں گر گئی۔چمبہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیشیک یادو نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی بولیرو جمعہ کی صبح تیسا سے بیرا گڑھ کی طرف جارہی تھی ، اسی دوران تروائی نامی جگہ پر توازن کھو نے کی وجہ سے ندی میں گر گئی۔ بولیرو میں ہماچل پولیس بٹالین کے نو جوان اور دو مقامی لوگ سوار تھے۔ حادثے کا پتہ چلتے ہی تیسا پولیس نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر راحت اور بچاؤ کام شروع کر دیا۔ بولیرو کے گرنے کے دوران کچھ لوگ چھٹک کر باہر آنے کی وجہ سے بال بال بچ گئے، تاہم وہ بھی شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس دردناک حادثے میں گاڑی میں سوار چھ افراد کی موت ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ڈرائیور اور پانچ پولیس اہلکار شامل ہیں۔ چار لوگوں کو بچا کر اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ایک دریا کے تیز بہاو میں لاپتہ ہے۔ تیسا پولیس حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ریسکیو آپریشن میں این ڈی آر ایف کی ٹیم نے بھی تعاون کیا۔
گورنر شیو پرتاپ شکلا اور وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے سڑک حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ نے ایشور سے سے مرحومین کی روح کی تسکین کے لیے دعا کی ہے اور سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضلع انتظامیہ کو زخمیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دریں اثنا مقامی بی جے پی ایم ایل اے ہنس راج نے اس حادثے کے لیے محکمہ تعمیرات عامہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے محکمہ کے ایکس ای این کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک بیان میں ہنس راج نے کہا کہ پہاڑ سے پتھر گرنے کی وجہ سے بولیرو کو حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے حکومت سے مسلسل التجا کرکے اس سڑک کو بند کروایا تھا، لیکن حکومت نے اس سڑک کو دوبارہ کھول دیا ہے۔