پنجاب میں مقامی طور پر تیار کردہ انجیکشن سے درجنوں افراد بینائی سے محروم ،تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل

TAASIR NEWS NETWORK  UPDATED BY- S M HASSAN -24 SEPT  

اسلام آباد،24ستمبر: حکومت پنجاب نے گزشتہ روز صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں مقامی طور پر تیار کردہ انجیکشن ’ایواسٹن‘ لگائے جانے سے درجنوں مریضوں کی بینائی ضائع ہونے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمیٹی 3 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور مستقبل میں دوبارہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے تجاویز بھی پیش کرے گی۔پنجاب کے وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر نے آنکھوں میں انفیکشن کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔کمیٹی کی سربراہی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر اسد اسلم خان بطور کنوینر کر رہے ہیں جبکہ دیگر اراکین میں ڈائریکٹر جنرل ڈرگز کنٹرول محمد سہیل، میو ہسپتال کے ڈاکٹر محمد معین، لاہور جنرل ہسپتال کی ڈاکٹر طیبہ اور سروسز ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر محسن شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق لاہور، قصور اور جھنگ کے اضلاع میں ذیابیطس کے مریضوں کو آنکھ کے پردے کے علاج کے لیے ایواسٹن انجیکشن لگائے گئے، تاہم یہ انجیکشن شدید انفیکشن کا باعث بنے، جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما چوہدری منظور کے بھائی اور ان کے دوست سمیت تقریباً 12 مریضوں کی بینائی چلی گئی۔قصور میں چوہدری شبیر، میاں اسلم، توفیق اور نسرین بی بی نامی 4 افراد کی بینائی کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔شریف ہسپتال میں انجکشن لگانے والے ڈاکٹر عاصم گل نے بتایا کہ ایواسٹن کو صرف ذیابیطس کے سبب خراب بینائی بحال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، عام طور پر ایک مریض کو 3 سے 4 انجیکشن لگائے جاتے ہیں لیکن اس کیس میں کئی افراد نے اپنی بینائی کھو دی، متاثرہ مریضوں میں سے 3 کی سرجری ہوئی اور ان کی بینائی بحال ہوگئی۔ڈاکٹر عاصم گل نے بتایا کہ میو ہسپتال کے ہیڈ سرجن پروفیسر اسد اسلام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت کو خط لکھ دیا۔انہوں نے بتایا کہ نوید نامی شخص کی جانب سے فراہم کردہ بیواکیزومیب انجیکشن لینے والے متعدد مریض لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں آنکھوں کو اندھا کرنے والے انفیکشن میں مبتلا ہوگئے ہیں۔اس انفیکشن کی وجہ جراثیم سے پاک نہ ہونے والے انجیکشن ہوتے ہیں، ڈاکٹر اسد اسلم خان نے مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔میڈیا کو جاری ایک بیان میں ڈاکٹر اسد اسلم نے تجویز دی کہ ایواسٹن انجیکشن صرف شوکت خانم سے خریدے جائیں، انہوں نے اس حوالے سے محکمہ صحت کو بھی آگاہ کردیا ہے۔