ہندوستان کی پہلی ’گرین ہائیڈروجن فیوئل سیل بس‘ کو مرکزی وزیر ہردیپ پوری نے دکھائی ہری جھنڈی

TAASIR NEWS NETWORK  UPDATED BY- S M HASSAN -25 SEPT  

نئی دہلی ،25ستمبر:ہندوستان کو آج پہلی گرین ہائیڈروجن ایندھن سیل بس مل گئی۔ مرکزی وزیر برائے پٹرولیم، قدرتی گیس اور رہائش و شہری امور ہردیپ سنگھ پوری نے ملک میں سبز ہائیڈروجن پروڈکشن اور استعمال کو فروغ دینے کی وزارت کی پیش قدمی کے تحت پیر کے روز دہلی میں پہلی گرین ہائیڈروجن ایندھن سیل بس کو لانچ کیا۔ انھوں نے اس موقع پر کہا کہ ہائیڈروجن مستقبل کا ایندھن ہے جو ہندوستان کو اپنے ڈی کاربونائزیشن اہداف کو حاصل کرنے اور شفاف توانائی کے بڑھتے مطالبے کو پورا کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔مرکزی وزیر نے دہلی کے ’کرتویہ پتھ‘ پر ملک کی پہلی گرین ہائیڈروجن فیوئل سیل بس کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت جلد ہی دہلی این سی آر علاقے میں 15 مزید فیوئل سیل بسیں چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ہردیپ سنگھ پوری کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن کو فیوچر کا ایندھن مانا جاتا ہے جس میں ہندوستان کو ڈی کاربونائزیشن ٹارگیٹ کو پورا کرنے میں مدد کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے اور 2050 تک ہائیڈروجن کی گلوبل مانگ 4 سے 7 گنا بڑھ کر 800-500 ملین ٹن ہونے کی امید ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ گھریلو طلب موجودہ 6 ملین ٹن سے بڑھ کر 2050 تک 28-25 میٹرک ٹن تک چار گنا بڑھنے کی امید ہے۔ وزارت پٹرولیم کے تحت پی ایس یو 2030 تک تقریباً 1 ایم ایم ٹی پی اے گرین ہائیڈروجن کا پروڈکشن کرنے میں اہل ہوں گے۔مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کا کہنا ہے کہ ’’گرین ہائیڈروجن سے چلنے والی یہ بس ملک میں شہری ٹرانسپورٹیشن کا چہرہ بدلنے جا رہی ہے۔ میں اس پروجیکٹ کی باریکی سے نگرانی کروں گا اور قومی اہمیت کے اس منصوبے کو کامیابی کے ساتھ پورا کرنے کے لیے ا?پ سبھی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘