TAASIR NEWS NETWORK UPDATED BY- S M HASSAN -24 SEPT
کرپوری ٹھاکر کے ریزرویشن فارمولہ کو پورے ملک میں نافذ کئے جانے کی ضرورت،نتیش کمار انصاف کے ساتھ ترقی کے علمبردار:چندیشور چندرونشی
پٹنہ24ستمبر(پریس ریلیز):جنتادل یونائیٹڈ انتہائی پسماندہ سیل کی جانب سے ’’کرپوری چرچا‘‘ پروگراموںکے انعقاد کا بڑے پیمانے پر سلسلہ ہنوز جاری ہے جس کے تحت اتوار کو اورنگ آبا د ضلع کے گوہ اسمبلی حلقہ میں منعقد ایک بڑے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سرکردہ رہنما اور رکن قانون ساز کونسل پروفیسر غلام غوث نے کہا کہ انہیں کرپوری ٹھاکر کے ساتھ کام کرنے کا موقع حاصل رہا ہے جسے وہ اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیں اور ان سے انہوں نے سیاسی زندگی میں سادگی اور ایمانداری کا سبق سیکھاہے جس کی آج موجودہ سیاست میں شدید ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اقتدار میں انتہائی پسماندہ سیل ذاتوں کی حصہ داری کو یقینی بنایا جانا چاہیے جس کی پورے سماج میں سب سے زیادہ اور بڑی آبادی ہے اس لئے آبادی کے تناسب میں انہیں حصہ داری بھی ضرور ملنی چاہیے۔ اس کی وکالت آنجہانی کرپوری ٹھاکر نے کی تھی اور اپنے دور اقتدار میں پسماندہ و انتہائی پسماندہ طبقوں کے لیے 27 فیصد ریزرویشن نافذ بھی کیا تھا جس کے لیے انہیں کئی قربانیاں پیش کرنی پڑی تھیں۔ ان کی قربانیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اپنے دور میں جہاں ایک طرف انتہائی پسماندہ ذاتوں کو ایک بڑی حصہ داری دی وہیں دوسری طرف اعلیٰ ذات کے غریبوں کی بھی فکر کرتے ہوئے انہیں 10فیصد ریزرویشن دینے کا منصوبہ تیار کیا جس کی اورسورن آیوگ قائم کیا جس سے متاثر ہوکر مرکزی حکومت نے اعلیٰ ذات کے غریبوں کو 10فیصد ریزرویشن دیا،دراصل یہ بہار ہی کی دین ہے۔
رکن پارلیمنٹ چندیشور پرساد چندرونشی ، رکن کونسل کمد ورما اور دیگر سرکردہ رہنمائوں نے شرکت کی اور مرکز کی فرقہ پرست حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے بہار کی سرزمین سے پوری قوت جھونک دینے کا اعلان کیا۔ کرپوری چرچا کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر غلام غوث نے کہا کہ ملک میں جہاں کہیں بھی فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوتے ہیں اس کے پیچھے مٹھی بھر شدت پسند اور امیر طبقہ کے لوگ ہی سازش میں ملوث رہتے ہیں جبکہ ان کی سازشوں کا شکار پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقہ اور دلت و آدیباسی طبقہ کے لوگ ہی ہوتے ہیں جو میدان میں جاکر تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ اور دلت طبقہ حق و انصاف اور ریزرویشن کی لڑائی میں ہمیشہ آگے رہا ہے جبکہ مٹھی بھر لوگ صرف سازش اور انگریزوں کی غلامی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’نہ ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا، ایک انسان کی اولاد بس انسان بنے گا‘‘ پروفیسر غوث نے مسلمانوں کو مرکز کی مودی حکومت سے ہوشیار رہنے اور ان کے جھانسے میں نہیں آنے کی تلقین کی اور کہا کہ ووٹ تو ہم لوگوں نے بہت سے لوگوں اور بہت سی پارٹیوں کو دیا مگر نتیش کمار کی حکومت نے اقلیتوں کے لیے بے شمار کام کئے ہیں جسے فراموش نہیں کیاجاسکتا۔قبرستانوں کی گھیرابندی کا معاملہ ہو یا اقلیتی ہاسٹلوںکی تعمیر کی بات ہوہر معاملے میں نتیش حکومت نے بڑھ چڑھ کر کام کئے ہیں۔ دیگر طبقوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو بھی ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع ملے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی کے بہکاوے میں ہرگز نہ آویں۔ نتیش کمار کی شکل میں ہمارا سپہ سالار بہت ہی مضبوط ہے جس نے مودی حکومت کے خلاف بہار کی سرزمین سے تحریک شروع کی ہے اور اب پورے ملک میں یہ تحریک پھیل چکی ہے۔ پروفیسر غوث نے کہا کہ بہار سے جو آندھی چلتی ہے وہ پورے ملک کو متاثر کرتی ہے۔ بہار نے جب جب انگڑائی لی ہے ملک کا اقتدار تبدیل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو 9سال تک پسماندہ مسلمانوں کی یاد نہیں آئی لیکن اب جب چنائو سامنے ہے تو انہیں پسماندہ مسلمانوں کی یاد ستانے لگی ہے جو محض چناوی چھلاوا ہے۔ حقیقت یہی رہی ہے کہ بی جے پی ہمیشہ سے ریزرویشن کی مخالف رہی ہے۔ پسماندوں اور دلتوں کی بھی دشمن رہی ہے۔ اس لئے پسماندہ مسلمانوں کو وزیراعظم کے بہکاوے سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ پروفیسر غوث نے کہا کہ مرکز کی فرقہ پرست حکومت ملک کا آئین بدل دینے کی بات کرتی ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ وہ ملک کے اقتدار میں رہیں گے تبھی تو آئین بدلیں گے۔ اب حالات یہ ہے کہ آئین بدلنے کی بات کہنے والوں کو ہی ہم لوگ مل جل کر بدل ڈالیں گے۔ لیکن کسی بھی قیمت پر آئین اور تاریخ نہیں بدلنے دیں گے۔پروفیسر غوث نے کہا کہ ہماری تاریخ رہی ہے کہ ہم سب ہندو اور مسلمان صدیوں سے مل جل کر رہ رہے ہیں اور قومی یکجہتی کی بڑی مثال پیش کرتے رہے ہیں۔ ہم سب آج بھی ایک ہیں۔ فرقہ پرست قوتوں کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے اس لئے اب وہ الیکشن جیتنے کے لیے اور ہندو ووٹروں کو ورغلانے اور مشتعل کرنے کے لیے فرقہ وارانہ تشدد کا حربہ اختیار کر رہی ہے، جسے ناکام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آنجہانی کرپوری ٹھاکر کی خدمات کی معنویت آج زیادہ بڑھ گئی ہے۔ریزرویشن کا تذکرہ کرپوری ٹھاکر کے نام کے بغیر نامکمل ہے۔ بی جے پی اور منووادی قوتوں نے کرپوری ٹھاکر کی مخالفت ریزرویشن کی وجہ سے ہی کی تھی اور یہاں تک نعرہ دے دیا تھا ’’کرپوری-کرپورا-ورنہ گدّی چھوڑ پکڑ استورا‘‘۔تو اب ہم پسماندہ اور انتہائی پسماندہ لوگوں نے ’استورا‘ پکڑ لیا ہے اور میدانِ جنگ میں کود پڑے ہیں جہاں اب فرقہ پرست قوتوں کی خیر نہیں۔ مرکز کے اقتدار سے فرقہ پرست قوتوں یعنی مودی حکومت کا جانا طے ہوگیا ہے۔ پروفیسر غوث نے کہا کہ ’’کرپوری ٹھاکر نے ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور گالیاں بھی سنی ہیں۔ اس لئے اپنے اس عظیم محسن کو یاد کرنا ہم سب کا فریضہ ہے اور ریزرویشن بچانے کے لیے تیار بھی رہنا ہوگا۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی فطری طور پر ریزرویشن ، مسلمان، ذات پر مبنی گنتی، ذات پر مبنی مردم شماری اور محروم و مظلوم طبقوں کے مفاد کی مخالف رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اپنے دور اقتدار میں سبھی علاقوں اور طبقوں کے لیے کام کئے ہیں۔ کبھی کسی کو نظرانداز نہیں کیا ہے۔

