ایم پی میں بی جے پی بکھر رہی ہے ؟

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –15 SEPT     

ان دنوںبی جے پی مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں زور و شور سے مصروف ہے۔مگر ابھی تک یہ طے نہیں ہوا ہے کہ انتخاب کے میدان میں بی جے پی کا چہرہ کون ہوگا۔پارٹی بھی اس پر کھل کر بات نہیں کر رہی ہے۔ اکثر لیڈر یہی کہتے ہیں کہ کنول کا پھول ہی ہمارا چہرہ ہے۔ کچھ دن پہلے جب وزیر داخلہ امت شاہ رپورٹ کارڈ جاری کرنے ایم پی آئے تھے تو ان سے یہ سوال پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ فی الحال شیوراج سنگھ چوہان وزیر اعلیٰ ہیں۔ باقی کام پارٹی کو کرنے دیں۔ سی ایم شیوراج سنگھ چوہان کا بھی دعویٰ ہے کہ ’’ میں اگلی بار بھی آ رہا ہوں۔ ‘‘
چند میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیاجا رہا ہے پی ایم مودی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے انتخابات میں پارٹی کا چہرہ ہوں گے۔یہ مانا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی ایم پی میں مضبوط گرفت ہے، لیکن پارٹی نے پی ایم مودی کے چہرے کے ساتھ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دراصل، کچھ دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے سی ایم کے چہرے کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ سوال پر ا مت شاہ نے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے سامنے کہا تھا کہ اس وقت شیوراج سنگھ چوہان وزیر اعلیٰ ہیں۔ ایم پی میں الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کے کنوینر نریندر سنگھ تومر نے بھی کہا ہے کہ فی الحال شیوراج سنگھ چوہان وزیراعلیٰ ہیں۔ ان دونوں لیڈروں کے بیان کے بعد سی ایم نے بھی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ اگلی بار بھی آ رہے ہیں، لیکن بی جے پی کی جانب سے ایم پی میں جو انتخابی گانا شروع کیا گیا ہے،اس میں وزیر اعظم نریندر مودی کو خوب ہائی لائٹ کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ پی ایم نریندر مودی کا ریاست میں خوب دورہ ہو رہا ہے۔وہ کل 14 ستمبر کو بھی وہ بھوپال میں ہی تھے۔ اس کے بعد 25 ستمبر کو ’’کارکن مہاکمبھ‘‘ میں شرکت کے لیے بھوپال آ رہے ہیں۔ وہ بھوپال سے ہی اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔اِدھر چرچا ہے کہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ریاست میں ضابطۂ اخلاق نافذ ہو جائے گا۔
سی ایم شیوراج سنگھ چوہان نے پچھلے دنوں سی ایم ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ اس میںصحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اعلانات کیےتھے۔ شیوراج سنگھ چوہان نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ہم ایک اور بات کہتے ہیں کہ ہم وہی ہیں جو اس الیکشن کے بعد رہیں گے۔ ہم اس سے پہلے تمام اعلانات مکمل کر لیں گے۔ بعد میں بھی ہم اسے آگے بڑھانے کے لیے کام کریں گے۔
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کے مد نظر بی جے پی اپنی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش میں لگی ہے، لیکن دوسری طرف وہ خود کو بڑے بڑے جھٹکوں سے نہیں بچا پا رہی ہے۔ ترمودرا پورم ضلع کے سینئر بی جے پی لیڈر گریجاشنکر شرما نےحال ہی میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ گرجاشنکر شرما بی جے پی کے ایم ایل اے اور مدھیہ پردیش اسمبلی کے سابق اسپیکر ڈاکٹر سیتا شرن شرما کے بھائی ہیں۔ گرجاشنکر شرما بی جے پی کے ٹکٹ پر دو بار اسمبلی انتخابات جیت چکے ہیں۔ بھائی 2003 اور 2008 میں بی جے پی کے ایم ایل اے تھے۔ پارٹی پر مسلسل نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم انہوں نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ کس پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں۔جانکار بتاتے ہیں کہ حال ہی میں انہوں نے بھوپال میں سابق سی ایم کمل ناتھ سے بھی ملنے کی کوشش کی تھی، لیکن دونوں لیڈروں کے درمیان ملاقات نہیں ہو سکی۔ اب قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ وہ کانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ سابق ایم ایل اے گریجاشنکر شرما نے پارٹی چھوڑنے کی وجہ خود کو نظر انداز کرنا بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 10 سال سے زائد عرصے سے پارٹی میں انھیں نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ اب پارٹی میں نئے لوگوں کی باتیں سنی جا رہی ہیں۔پرانے لوگوں کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے تنظیم سے بھی بات کرنے کی کوشش کی، لیکن انھیں محسوس ہوا کہ اب وہاں کوئی سننے والا نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی بات سامنے نہیں رکھ سکے۔
قابل ذکر ہے کہ گرجاشنکر شرما نے اپنی سیاست کی شروعات جن سنگھ سے کی تھی۔ میونسپلٹی صدر اور بعد میں ایم ایل اے بنے۔ انہوں نے بی جے پی تنظیم میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ واضح ہو کہ ریاست کےنرمداپورم ضلع میں شرما خاندان کا غلبہ ہے۔ گرجاشنکر شرما کے بھائی شیوراج حکومت میں اسمبلی کے اسپیکر اور 5 بار بی جے پی کے ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔اِدھرگرجاشنکر شرما کی طرح مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے کیلارس اسمبلی سیٹ کے ایم ایل اے بیرندر، رگھوونشی نے بھی بی جے پی سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ بیریندر رگھوونشی نے گزشتہ جمعرات کو استعفیٰ دے دیا تھا۔ استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا پر شدید حملہ کیا تھا۔ وریندر رگھوونشی 2013 میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے، لیکن دس گیارہ برسوں کے بعد انھیں بھی بی جے پی میں گھٹن کا احساس ہونے لگا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ اس صورتحال پرکانگریس کی بھی نظر یں ٹکی ہوئی ہیں۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے انچارج جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجیوالا کا کہنا ہے’’ شیوراج سنگھ چوہان گھبراہٹ میں ہیں۔ پارٹی نے ابھی تک سی ایم کا چہرہ ظاہر نہیں کیا ہے۔ایم پی میں بی جے پی بکھر رہی ہے۔ ‘‘ حالانکہ سرجیوالاکے دعوے میں کتنی صداقت ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
************************