این ڈی اے اور انڈیا کے بعد ایک اور فرنٹ بننے کی کوشش جاری ہے، تلنگانہ وزیر اعلی فکر مند، ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کا لاءیحہ عمل کیا ہوگا، تجزیہ ایم اے فردین‎

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -04 SEPT     

خصوصی سیاسی رپورٹ/ انڈیا گٹھ بندھن کے بعد بھی کوئی اور گٹھ بندھن ممکن ہے کیا، قیاس کیا جارہا ہے کہ بہن مایا وتی جی نے کسی کے ساتھ جانے سے انکار کے بعد تیسرے محاذ کے کوشاں تھے وزیر اعلی تلنگانہ کیا وہ اسپر غور کررہے ہیں یا پھر ایم آیی ایم کے صدر ممبر پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب بھی تھرڈ فرنٹ پر سنجیدہ ہیں’

قیاسات تو بہت ہیں اور انڈیا پارٹی میں بہت سی پارٹی آگیے ہیں اور 28،/ جماعتوں کی پارٹی باقاعدہ بن گیا اور اسپر ممبی اجلاس سے کام کا آغاز بھی ہوگیا ہے اور اس جماعت نے تمام آپسی مساءیل کو حل کرلیتے ہوءے دیکھ رہے ہیں
اب سوال یہ ہے کہ مایا وتی بہن جی کیوں انڈیا کا حصہ نہیں بنیں اور بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب ممبر پارلیمنٹ کا صاف صاف کہنا ہے کہ
2024 الیکشن کیلیے بہتر ہمیں ایلاءینس ملا تو سوچوں گا مگر انکا ریاستی سطح پر بی آر ایس پارٹی کے ساتھ تو ہے’مگر سینٹرل لیڈرشپ اور ایلاءینس میں شامل نہیں ہوں اگر تھرڈ فرنٹ پر بہن مایا وتی سوچتی ہیں تو پھر وزیر اعلی تلنگانہ کا رول اہم ہوگا اور فی الحال تو اسپر بہت زیادہ بات آگے نہیں بڑھ پایی ہے
مگر تیسرے محاذ پر لوگوں کی نظر تو ہے’اور ایسے ابتک کی رپورٹ کے مطابق وایی ایس آر شرمیلا نے کانگریس سے ملکر تلنگانہ کے لیے حامی بھر لی ہے اور کانگریس مضبوط ہونے لگی ہے اور بی جے پی بھی وزیر تلنگانہ کے خلاف اپنی جگہ بنانے میں کامیاب کوشش جاری ہے دہلی لیڈرشپ یہاں کا دورہ کرنے میں مصروف ہیں
مودی جی وزیراعظم ہی کیطرح وزیر اعلی تلنگانہ نے بھی تیسری بار حکومت سازی کے داعویدار ہیں اور دوسری جانب بی جے پی بھی تلنگانہ پر فوکسنںگ کر رکھی ہے
وایی ایس آر شرمیلا میڈم کی پارٹی کے آنے سے کسکو فاءیدہ ہوگا، کانگریس اپنی ماضی واپس لا سکتی ہے کیا، اور ادھر تیلگو دیشم پارٹی بھی آگے ارہی ہے’ایک اور پارٹی جگن موہن ریڈی صاحب کی پارٹی خاموش ہے’بی جے پی کے ساتھ چندر بابو نائڈو جی آرہے ہیں تو پھر جگن موہن ریڈی صاحب کے لیے کویی دوسرا سیاسی راہ نہیں بچ جاتا تو پھر کیا کریں گے
اب اگر تیسرا مورچہ بنتا ہے تو کون پارٹی کو کتنا سیٹ ملے گا اور فاءیدہ حاصل ہوگا کہنا مشکل ہے مگر کانگریس مضبوط ہونے لگی ہے اور پارٹی کیڈروں میں اضافہ ہوا ہے
قابلِ ستائش اور بہترین تجزیہ یہ ہے کہ ممبر پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب کی باتوں کو آسانی سے در کنار نہیں کیا جا سکتا ہے اسلیے تھرڈ فرنٹ کیلیے ضروری ہے کہ اتفاق و اتحاد پیدا ہو اور جگن موہن ریڈی وزیر اعلی آندھراپردیش کو سوچنا پڑے گا کہ آءیندہ کا لاءیحہ عمل کیا ہوگا، ابھی چند دنوں پہلے بی جے پی نے ون نیشن ون الیکشن کا فارمولہ پیش کیا گیا ہے اور خصوصی سیششن پارلیمنٹ میں کیا ہوتا ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔قیاس یہ بھی ہے کہ 2024/ کا الیکشن قبل از وقت بھی ممکن۔۔۔۔۔۔۔!