TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -07 SEPT
ماسکو،7ستمبر: روسی صدر ولادی میر پوتین نے بدھ کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی سپلائی میں کٹوتی سے متعلق حالیہ سمجھوتوں سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنایا گیا ہے۔تیل کی پیداوار میں عالمی لیڈر کی حیثیت رکھنے والے دونوں ممالک سعودی عرب اور روس نے اپنی پیداوار میں رضاکارانہ کٹوتی کو اس سال کے آخر تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے چوتھی سہ ماہی میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی سکڑنے کی توقع ہے۔روس نے تیل کی اپنی یومیہ برآمدات میں تین لاکھ بیرل کی کمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور سعودی عرب آیندہ سال تک تیل کی یومیہ پیداوار میں دس لاکھ بیرل کی کمی جاری رکھے گا۔کریملن نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں لیڈروں نے اوپیک پلس کے فریم ورک کے تحت ان کے ممالک کے درمیان تعاون پر انتہائی اطمینان کااظہار کیا ہے۔اس گروپ میں روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک اور سعودی عرب کی قیادت میں اوپیک کے رکن ممالک شامل ہیں۔کریملن نے دونوں لیڈروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے حوالے سے کہا کہ ’’اس میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق طے شدہ حالیہ سمجھوتوں اور اس کے ساتھ اس کی سپلائی کو محدود کرنے کے لیے رضاکارنہ وعدوں سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے‘‘۔

