TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -07 SEPT
اتحادی سیاست میں اچانک بی جے پی سے الگ ہوکر آر جے ڈی کے ساتھ ہو جانے کے بعد سے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار لگاتار اس کوشش میں ہیں کہ ملک میں آئین کی بالادستی قائم رہے، امن و امان قائم رہے اور مذہبی منافرت کو بھول کر ملک کے تمام شہری آپس میں بھائی بھائی کی طرح زندگی گزاریں۔ وہ اشاروں اشاروں میں کئی بار یہ بات کہہ بھی چکے ہیں کہ ’’ ملک میں بھائی چارے کے ماحول کو کون بگاڑ رہا ہے یہ پورا بھارت دیکھ رہا ہے۔‘‘نتیش کمار اس طرح کی باتیں عموماََ اشاروں اشاروں میں ہی کہا کرتے ہیں اور اشارہ بھی ایسا ہوتا ہے کہ عام آدمی بھی سمجھ جاتا ہے کہ وہ بی جے پی کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔
یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کے کہ نتیش کمار پچھلے کئی مہینوں سے بی جے پی کو مرکزی اقتدار سے بے دخل کرنے کے مقصد سے ملک کی تمام اہم اپوزیشن جماعتوں کو متحد رکھنے او ر 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ’ ’ون ٹو ون‘‘ کے اصول پر این ڈی اے کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی جانب سے میدان میں امیدوار اتارنے کی حکمت عملی مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔فی الحال ان کی نظر بہارکی 40 سیٹوں کی شیئرنگ پر بھی ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی جے ڈی یو کو 16 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔یعنی ابھی ان کی پارٹی کے 16 ایم پی ہیں۔ان سبھی 16 سیٹوں کو سیٹ شیئرنگ میں اپنی پارٹی کے کوٹے میں رکھنے اور پھر ان پر کامیابی کا جھنڈا گاڑنا اس بار نتیش کمار کے لئے دُہری چنوتی ہے۔
دراصل، بہار کی سیاست میں بی جے پی کے فیڈ بیک کا اپنا منفرد طریقہ ہے۔ پارٹی رہنما ہر بار کوئی نہ کوئی نیا طریقہ ایجاد کرتے ہیں اور انتخابات کی زمینی حقیقت کا گہرائی سے تجزیہ کرتے ہیں۔ اس بار بھی لوک سبھا انتخابات سے پہلے نتیش کمار نے اپنی پارٹی کے سلسلے میں بہار کی زمینی حقیقت کا جائزہ لینےکے لئے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر 11 اور 12 ستمبر کو پنچایت سطح تک کے لیڈروں کو مدعو کیا ہے ۔نتیش کمار کے ذریعہ بلائی گئی اس میٹنگ کو سیاسی حلقوں میں بڑا اہم قرار دیا جا رہا ہے۔سب سے پہلے سی ایم نتیش کمار کی صدارت میں ضلع صدر اور ڈویژنل انچارج کی میٹنگ ہوگی۔ یہ میٹنگ 11 ستمبر کو ہوگی، جس میں نتیش کمار ان سے فیڈ بیک لیں گے۔ اس فیڈ بیک میںا ہم عوامی نمائندوں کے کاموں اور عوامی افادیت کے منصوبوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔ 12 ستمبر کو وہ بلاک صدر اور اسمبلی انچارج، پارٹی قائدین اور پارٹی عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ بھی کریں گے تاکہ صحیح جانکاری حاصل کی جاسکے۔ یہ میٹنگ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سرکاری رہائش گاہ پر ہوگی۔
مانا جا رہا ہے کہ نتیش کمار ایسا کرکے بی جے پی کو اس کے اپنے انداز میں جواب دیں گے۔ یعنی بی جے پی کے مائیکرو مینجمنٹ کے راستے پر چل کر وہ بھی حکومت اور تنظیم دونوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔ آنے والے لوک سبھا اور ودھان سبھا انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایم ایل اے، سابق ایم ایل اے اور کچھ مقامی منتخب لیڈران کی طرف سے طرز عمل، کام کی کارکردگی، میدان میں موجودگی اور عوامی رابطہ کی صورتحال جیسی معلومات لی جائیں گی۔ نئے اتحاد کے نقصانات اور فوائد کے بارے میں بھی معلومات حاصل کریں گے۔
اِدھر بی جے پی کے چانکیہ مانے جانے والے پارٹی کے قد آور لیڈر اور مرکزی وزیر امیت شاہ ایک بار پھر 15 ستمبر کو بہار آ رہے ہیں۔ یہ ان کا پانچواں چناوی دورہ ہے۔ اس بار امت شاہ کا ہدف دربھنگہ اور آس پاس کی لوک سبھا سیٹیں ہیں۔ اس سے پہلے امیت شاہ پورنیہ، نوادہ، والمیکی نگر اور مونگیر میں اپنے مخالفین کو للکار چکے ہیں۔ سہسرام کے لیے بھی ایک پروگرام بنا تھا، لیکن کشیدگی کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ تاہم، امت شاہ اور بہار پر ان کی انتخابی ترجیح کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اِدھر لوک سبھا کا خصوصی اجلاس شروع ہونے والا ہے اور امت شاہ 15 تاریخ کو بہار کے لوگوں سے خطاب کرنے آ رہے ہیں۔
اس طرح ایک طرف وقت وقت پر بہار میں امیت شاہ کا گھن گرج تو دوسری طرف انتخابات کے تناظر میں لو کش ایکویشن کے ساتھ انتہائی پس ماندہ ووٹوں میں انتشاروزیر اعلیٰ نتیش کمار کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہے۔ اسی وجہ سے پچھلے دنوں ضمنی انتخابات میں دو اسمبلی حلقوں سے عظیم اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایسے میں اپوزیشن اتحاد کی مہم کے پیش نظر نتیش کمار کے سامنے ابھی دو دو چنوتیاں درپیش ہیں۔ پہلی لوک سبھا سیٹ شیئرنگ میں ’’انڈیا‘‘ سے وابستہ تمام لیڈروں کو آخر آخر تک مطمئن رکھنا اور دوسری اپنے ارکان پارلیمنٹ کی عددی طاقت کو بر قرار رکھنا۔ تاہم نتیش کمار نے بہار کی 40 لوک سبھا سیٹوں میں سے 40 سیٹوں کو نکالنے کا جو عہد کیا ہے ، اس کے لیے بہار کی زمینی حقیقت کو جاننا بے حدضروری ہے ۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ بنیاد کو زمینی سطح پر ہی تیار کرنا پڑے گا۔ چنانچہ اس کے لیے مانا جا رہا ہے 11 اور 12 ستمبر کا اجلاس بے ہد اہم اور ضروری ہے۔
************************

