TAASIR NEWS NETWORK UPDATED BY- S M HASSAN -25 SEPT
’’ساحر لدھیانوی اور معاصر شعرا‘‘ کے عنوان سے شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی میں دو روزہ قومی سیمینار کا انعقاد
پٹنہ ۲۵؍ ستمبر (پریس ریلیز) شاعری صرف معاشرتی احوال کی عکاسی نہیں ہے بلکہ سادہ دل انسان کے درد وکرب کو سمجھنے اور اس کی عکاسی کا نام شاعری ہے۔ ساحر کی شاعری میں سادہ دل انسانوں کے درد وکرب کی عمدہ مثالیں موجود ہیں۔ ساحر ایک شاعر ہے جس نے اپنی شاعری میں سادہ بیانیہ کو جگہ دی ہے۔ ساحر کی شاعری صنائع وبدائع سے پاک ہے، لیکن ان کی شاعری میں محاکات، مجسمہ سازی، پیکر تراشی اور مصوری کی عمدہ مثالیں موجود ہیں۔ ساحر نے محبت کے نغموں کو تلخیوں کا بیانیہ بنا دیا ہے اور اپنی نظم تاج محل میں پہلی بار مساوی بیانیہ کو اپنایا ہے۔ یہ باتیں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی نے ساحر لدھیانوی اور معاصر شعرا کے عنوان سے شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہیں۔
واضح رہے کہ شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی میں دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ’’ساحر لدھیانوی اور معاصر شعرا‘‘ منعقد ہوا۔ ۲۵؍ ستمبر کو افتتاحی اجلاس کی صدارت جناب چندربھان خیال، کنوینر اردو مشاورتی بورڈ ساہتیہ اکادمی نے کی، جبکہ کلیدی خطبہ خواجہ محمد اکرام الدین نے پیش کیا۔ خیرمقدمی کلمات ساہتیہ اکادمی کے آفیسر محمد موسیٰ رضا نے پیش کئے اور صدر شعبہ اردو ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے ساحر لدھیانوی کے تعلق سے بڑی قیمتی اور کارآمد باتیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ ساحر مثبت قدروں کا شاعر ہے، ساحر خوابوں اور امیدوں کا شاعر ہے۔ ساحر کی شاعری ہمیں نئی زندگی اور حوصلہ بخشتی ہے۔
پٹنہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گریش کمار چودھری نے سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئےاپنی تقریر میں کہا کہ ساحر خوابوں کا شاعر ہے اور خوابوں کو حقیقت کرنے والا شاعر ہے۔ ہمیں بھی خواب دیکھنا چاہئے اور اس کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی کی تعلمی، تحقیقی اور تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ تعمیری منصوبوں پر بھی مفصل روشنی ڈالی۔

بہار اسمبلی کے رکن قانون ساز جناب ڈاکٹر شکیل احمد خاں نے اپنی تقریر میں طلبہ کو مشورہ دیا کہ آپ خصوصی طور پر ساحر کے دو مجموعے پرچھائیاں اور تلخیاں کا مطالعہ ضرور کریں اور مزید کہا کہ اردو ادب میں زندگی گزارنے کا طریقہ اور سلیقہ ہے اور یہ ایک ایسی زبان ہے جس سے آپ دنیا فتح کرسکتے ہیں۔
سابق وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی پروفیسر اعجاز علی ارشد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پٹنہ یونیورسٹی سے میرا رشتہ پچاس سال پرانا ہے۔ بحیثیت طالب علم اور بحیثیت استاذ میں نے یونیورسٹی کی پچاس بہاریں دیکھیں ہیں۔ میرے پڑھائے ہوئے طلبہ، اساتذہ اور استاذ الاساتذہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے ساحر کے حوالے سے کہا کہ جس طرح ساحر کی شاعری مشہور ہے اسی طرح ان کا عشق بھی مشہور ہے۔ اپنی ناکام محبتوں کے طفیل میں ساحر نے جانے یا انجانے میں اردو شاعری کو ایک نیا حقیقت پسندانہ تصور عطا کیا ہے۔ نظیر اکبر آبادی کے بعد ساحر لدھیانوی سب سے بڑا عوامی شاعر ہے۔ اس لئے ساحر کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے۔
افتتاحی اجلاس کے صدر معروف شاعر جناب چندربھال خیال نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ساحر کرب و احتجاج کا شاعر ہے اور میرا پسندیدہ شاعر ہے۔ اخیر میں ڈاکٹر سورج دیو سنگھ نے تمام مہمانوں اور شرکار سیمینار کا شکریہ ادا کیا۔
لائق ذکر ہے کہ افتتاحی اجلاس کے بعد ۲ سیشن کا آغاز ہوا جس میں ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے نامور ادبا وناقدین نے شرکت کی۔ تکنیکی سیشن کے مقالہ نگاروں میں پروفیسر ریاض احمد(جموں)، پروفیسر محمد کاظمُ(دہلی)، پروفیسر ہمایوں اشرف(ہزاری باغ) ، حقانی القاسمی (دہلی) پروفیسر حامد علی خاں، پروفیسر جانکی شرما(دہلی)، پروفیسر شاہ حسین احمد اور نعیم انیس (کلکتہ) کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس سیمینار میں شعبہ کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، طلبہ و طالبات کے علاوہ بڑی تعداد میں ادب نواز لوگوں نے شرکت کی۔

