سناتن دھرم پر بیانات کے معاملے میں مدراس ہائی کورٹ کے وکلاء سپریم کورٹ پہنچے

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –16 SEPT   

نئی دہلی،15ستمبر:سناتن دھرم پر بیانات کے معاملے میں مدراس ہائی کورٹ کے وکلاء سپریم کورٹ پہنچے ہیں اور اسٹالن اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹالن سے مزید کوئی تبصرہ نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ سناتن دھرم کے خلاف تمام جلسوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ طلباء کو مذہب کے خلاف بولنے کے لیے کالجوں میں میٹنگز منعقد کرنے کے لیے تمام “مجوزہ منصوبوں” پر پابندی لگائی جائے۔ تاہم فی الحال سپریم کورٹ نے اس پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ پہلے جلد سماعت کے لیے ای میل بھیجیں۔اس سے قبل تمل ناڈو کے وزیر ادھیانیدھی اسٹالن اور رکن پارلیمنٹ اے راجہ کے سناتن دھرم پر تبصرہ کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا تھا۔ درخواست میں ادھیاندھی اسٹالن اور ایم پی اے راجہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ دہلی اور چنئی کے پولیس کمشنر کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ وکیل ونیت جندال نے سناتن دھرم کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔