TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –14 SEPT
کولکاتا 13/ستمبر (محمد شبیب عالم) آج پوری دنیا کو سوشل میڈیا اپنی قید میں جکڑ لیا ہے وہ بھی اس قدر کے لوگ ایک پل کےلئے سانس نہ رہے تو بچ سکتے ہیں ۔ لیکن سوشل میڈیا کا پیج سے ایک پل بھی دور نہیں رہ سکتے ہیں ۔
لیکن اسکے باوجود لوگوں کے سامنے اخبار پیش کرنا کتنا بڑا چلینج ہے یہ سبھی جانتے ہیں اور وہ بھی اردو اخبار ریاست مغربی بنگال سے شائع کرنا کسی بڑے دل گردے والے کا کام ہے ۔ ساتھ ہی آج اس بات کو بھی ثابت کیا کہ اخبار اخبار ہے جس کے سامنے سوشل میڈیا کا مقابلہ کسی بھی صورت میں ناممکن ہے ۔ یہاں اخبار کی اہمیت کو پھر سے ثابت کیا گیا ہےکہ جو کبھی مٹ نہیں سکتا ۔ آج بارہ ستمبر کولکاتا کے پریس کلب میں نیوز لائن کولکاتا روزنامہ اردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ پندرہ روزہ سنگباد یودھا ، ہندی پندرہ روزہ آواز آپ تک اور انگلش پندرہ روزہ نیوز کوئک نام سے اخبارات کا رسم اجراء ہوا ۔ اس افتتاحی تقریب میں مغربی بنگال کے کئی نامور ہستیوں کو مدعو کیا گیا تھا ۔ جس حج کمیٹی کی رکن اور ایم ایل اے فردوس بیگم ، شبیر علی وارثی ، شیخ مرسلین ، سنجیو داس ، ناصر خاں ، جاوید احمد ، کمار داس اور دیگر تقریب کی افتتاح نیشنل اینتھم سے ہوئی ۔ اسکے بعد باری باری سے سبھی مہمانوں نے ان چاروں اخبارات کے مالکان ، کارندوں کا شکریہ ادا کیا ساتھ ہی اس اقدامات کےلئے انہیں مبارکباد بھی دیا ۔ تقریب کی نقابت کررہے تھے ہوڑہ کے رہنے والے ماسٹر خورشید جمال ۔ سب سے پہلے سبھی مہمانوں کو اعزازات سے نوازا گیا اسکے بعد مدعو سماجی رہنماء بھیکو داس نے اپنی تقریر کے دوران مرکزی حکومت کی عوام مخالف روپئے کے خلاف کہا کہ آخر یہ ہوکیا رہا ہے ملک ہمارا ہندوستان بھی ہے انڈیا بھی ہےاور بھارت بھی لیکن بھارت کہنے پر زور کیوں دیا جارہا ہے ملک میں سیکڑوں عوامی مسائل ہیں اسے حل کرنے کے بجائے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے آخر کیوں یہ کیسی سیاست ہے ۔ انہوں نے اور کہا کہ ملک کی کچھ میڈیا ہاؤس بھی لوگوں کو گمراہ کرنے میں لگی ہوئی ہیں کہتے ہیں ” خبر سچ کی ” مگر کوئی خبر سچی نہیں دیکھاتے ہیں ۔ ایم ایل اے فردوس بیگم نے اپنی مختصر سی تقریر میں کہی کہ کون کیا کہتا ہے کیا کرتا ہے اس کے پیچھے نہیں جانا ہے ہمارا مقصد ہونا چاہئے کہ جو حق اور سچ بات ہو اسے ہی شائع کرنی چاہئے ۔ عوام کے اعتماد کو لیکر آگے بڑھنا چاہئے ۔ فردوس بیگم نے اور کہا کہ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اور مختلف زبانیں بھی بولتے ہیں اسی بات کا خیال رکھتے ہوئے چار زبانوں میں اخبارات کی آج رسمِ اجراء ہوئی ۔ اسکے بعد مستفیض ہاشمی جو اخبار کی اشاعت میں اہم رکن ہیں انہوں نے سب سے پہلے تقریب میں شامل سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سوچ مشترکہ ہوگی ۔ ہم آپس میں اتحاد و بھائی چارہ کے فروغ کےلئے کام کریں گے ۔ انکے بعد شبیر شیر علی وارثی نےکہا کہ سوشل میڈیا جتنی ترقی کرلے مگر اخبار کی طاقت اسکی اہمیت کو ختم نہیں کرسکتی ۔ صابر علی نے کہا کہ مین اسٹریم میڈیا ملک کی اعلیٰ موضوع سے عوام کو گمراہ کررہی ہے ۔ جس کی وجہ سے میڈیا یا اس شعبے سے جڑے لوگوں سے لوگ نفرت کرنے لگے ہیں ۔ وہیں شیخ مرسلین نےکہا کہ میڈیا کو اپنی طاقت و اہمیت کو سمجھنی ہوگی عوام کا اعتماد ہمیشہ شامل رکھنا ہوگا ۔ اس تقریب کو کامیاب بنانے میں ماسٹر خورشید جمال ، محمد سرفراز ، محمد ظہیر، دلشاد انصاری اور نکہت پروین نے اہم کردار ادا کیا۔ اس تقریب کے دوران کئی صحافیوں کو بھی انکی صحافتی خدمات کےلئے اعزاز سے نوازا گیا۔