TAASIR NEWS NETWORK UPDATED BY- S M HASSAN -29 SEPT
مہاراشٹر کی سیاست بھی بہت دلچسپ ہے۔ این سی پی میں ٹوٹ کی بحث ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ موجودہ اتحاد کے درمیان تلخی کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے کئی بیانات اور فیصلے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
در اصل ڈپٹی سی ایم اجیت پوار نے ریاستی اقلیتی محکمہ کی میٹنگ میں مسلم ریزرویشن کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر سی ایم ایکناتھ شندے اور ساتھی ڈپٹی سی ایم دیویندر فڑنویس سے بات کریں گے۔ اجیت پوار نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے باوجود، وہ درج فہرست ذاتوں، دلتوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کے این سی پی کے بنیادی نظریہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اجیت پوار اور بی جے پی کے درمیان تلخی کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی نے ہمیشہ مذہبی بنیادوں پر ریزرویشن کی مخالفت کی ہے، فڑنویس نے کئی بار قانون ساز اسمبلی میں اس معاملے پر پارٹی کی پوزیشن واضح کی ہے۔ اس کے علاوہ اجیت پوار نے اس وقت ہلچل مچا دی تھی جب انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ وہ فی الحال وزیر خزانہ ہیں لیکن انہیں ابھی اس عہدے پر فائز نہیں ہونا چاہئے۔
نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ ممبئی کے دوران لاپتہ تھے۔ وہ مہاراشٹر کے واحد وزیر تھے، جنہوں نے فرقہ وارانہ فسادات میں ایک کی موت کے بعد ستارہ ضلع کے پوسیساولی کا دورہ کیا اور ورلی میں ایک جلسہ عام میں’’جے شری رام‘‘ کے نعروں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا، جہاں انہوں نے بی جے پی اور شندے پر تنقید کی تھی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ بی جے پی اجیت پوار کی ‘’’عزائم‘‘ سے ناراض ہے۔ مثال کے طور پر، حال ہی میں ممبئی کے لال باغچا راجہ گنپتی منڈل کے ایک پروگرام میں، جہاں ایک این سی پی کارکن نے کہا کہ وہ اجیت پوار کو اگلا وزیر اعلیٰ بنتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ اجیت پوار نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی لیکن، بی جے پی لیڈر موہت کمبوج نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا کہ سی ایم بننے کے لیے 45 نہیں بلکہ 145 ایم ایل اے کی ضرورت ہے۔
ٍ سیاسی مبصرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کو لے کر مہاراشٹر کی این ڈی اے حکومت میں بحث چل رہی ہے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا کہنا ہے کہ پہلے جب ریزرویشن دیا گیا تھا، تو عدالت نے اس سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے تعلیم میں ریزرویشن بحال کیا تھا لیکن نوکریوں میں نہیں۔اجیت پوارکا کہنا ہےکہ اس حکومت میں تین پارٹیاں شامل ہیں۔ اس لیے میں یہ مسئلہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ساتھ اٹھاؤں گا۔ ہم سب مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔
واضح ہو کہ مہاراشٹر میں پہلے بھی مسلم ریزرویشن کو لے کر سیاست ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ جون میں کانگریس نے ایک بار پھر ریاست میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ تب اجیت پوار این سی پی لیڈر کے طور پر مہاوکاس اگھاڑی اتحاد کے رکن تھے۔ یہ مسئلہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ صدر اور سابق وزیر نسیم خان نے اٹھایا تھا۔ اس کے بعد مسلم کمیونٹی کے لیے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں پانچ فیصد ریزرویشن کا مطالبہ کیا گیا۔ اس وقت اس مطالبے کو مہاوکاس اگھاڑی کے سیاسی کارڈ کے طور پر دیکھا گیا تھا کیونکہ اگلے سال لوک سبھا اور اسمبلی دونوں انتخابات کی تجویز ہے۔قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر میں ان دنوں مراٹھا ریزرویشن کا معاملہ بھی زور پکڑنے لگا ہے۔ ریاست کی اس اہم کمیونٹی کی آبادی تقریباً 32 فیصد ہے۔ یہ برادری ہمیشہ سیاست کے مرکز میں رہی ہے۔ مراٹھا برادری کا مطالبہ ہے کہ ہمیں دیگر پسماندہ طبقے یعنی او بی سی میں شامل کیا جائے۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ جلد ہی اس معاملے کو وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ اٹھائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم معاشی طور پر پسماندہ مسلمانوں کے لیے خصوصی پیکج پر بھی غور کریں گے۔اسی بات پر ریاست میں سیاسی رسہ کشی جاری ہے۔بی جے پی سے وابستہ رہنما کا یہی کہنا ہے کہ اگر مسلمانوں کو ریزرویشن دینا ہے تو آئین کے دائرے میں رہ کر اس پرغور کرنا چاہئے۔
ادھر دوسری طرف سابق وزیر مملکت محمد عارف نسیم خان کا کہنا ہے کہ یہ 5 فیصد ریزرویشن کے حوالے سے سامنے آ رہی بات کسی کی ذاتی رائے ہے۔ کئی کمیشنوں اور کمیٹیوں کی سفارشات کے بعد 2014 میں کانگریس حکومت میں مسلم کمیونٹی کے لیے ریزرویشن کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے بھی مسلم کمیونٹی کو ریزرویشن دینے کی منظوری دی تھی۔ مسلمانوں کو ریزرویشن مذہب کی بنیاد پر نہیں، ان پسماندگی کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کا بھی کہنا ہے کہ اقتصادی پسماندگی کی بنیاد پر مسلم کمیونٹی کی ہر ذات کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ہائی کورٹ نے بھی 5 فیصد ریزرویشن پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس ریزرویشن کا پروویژن کانگریس اور این سی پی حکومتوں نے دیا تھا۔ اس لیے انہیں بہانے بنانا بند کرنا چاہیے اور مسلم ریزرویشن کے حوالے سے مناسب قدم اٹھانا چاہئے۔مہا راشٹر کے ڈپٹی سی ایم اجیت پواربھی اس مطالبے کے حق میں ہیں۔
****************

