TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -09 SEPT
جی۔ 20 سربراہی اجلاس کل سے نئی دہلی میں چل رہاہے۔ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت منڈپم میں افتتاحی تقریر کی تو اس وقت جو تصویر دنیا کے سامنے آئی اس نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔ پی ایم مودی کے سامنے ملک کا نام انڈیانہیں بلکہ بھارت لکھا ہوا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے، جب کسی بین الاقوامی تقریب میں وزیر اعظم کی نشست کے سامنے وطن عزیز کا نام انڈیا نہیں لکھا گیا ہے۔ پچھلاجی۔ 20 اجلاس 14 سے 16 نومبر تک انڈونیشیا کے شہر بالی میں ہوا تھا۔ اس اجلاس میں ایم مودی کے آگے ملک کا نام انڈیا ہی لکھا ہوا تھا۔
ایک طرف بھارت منڈپم میںجی۔ 20 سربراہی اجلاس چل رہا ہے اور دوسری طرف سیاسی حلقوں میں بھارت اور انڈیا کو لیکر رد عمل در رد عمل کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بھارت بنام انڈیا کا ایک نیا سیاسی تنازعہ ملک میں جی۔ 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی جانب سے کل بروز سنیچر عشائیے کے لیے بھیجے گئے دعوت نامے پر تحریر الفاظ کے باعث چھڑ ا ہوا ہے۔صدر جمہوریہ کی جانب سے بھیجے جانے والے سرکاری دعوت نامے میں روایتی طور پر ’پریزیڈنٹ آف انڈیا‘ کی جگہ ’پرزیڈنٹ آف بھارت‘ لکھا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی اپوزیشن اتحاد’’ انڈیا ‘‘ سے وابستہ جماعتوں نے یہ کہناشروع کر دیا ہے کہ بی جے پی کی حکومت ملک کے نام کے طور پر لفظ ’’انڈیا‘‘ کا استعمال بند کرنے جا رہی ہے اور اب وہ اس ملک کو صرف ’بھارت‘ کہنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس دعوت نامے کے وائرل ہونے کے بعد ایک طرف اگر اپوزیشن پارٹیاں یہ کہہ رہی ہیں کہ بی جے پی ’’انڈیا‘‘اتحاد سے خوفزدہ ہو گئی، تو وہیں دوسری طرف حکمراں جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’بھارت‘ نام کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ بھی آئین کا ایک حصہ ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا ہے ’انڈیا دیٹ از بھارت‘ ہمارے آئین میں ہے۔ میں سب سے کہنا چاہوں گا کہ اسے پڑھیں۔ جب آپ بھارت کہتے ہیں تو اس کے ساتھ ایک مطلب ایک مفہوم ابھرتا ہے اور میرے خیال سے وہ ہمارے آئین میں بھی جھلکتا ہے۔‘مگر اپوزیشن اتحاد بی جے پی کی اس دلیل سے قطعی مطمٔن نہیں ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر الزام عائد کیا ہے: ’’مودی تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری رکھ سکتے ہیں اور انڈیا کو تقسیم کرنا جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن ہم نہیں رکیں گے۔آخر کار ’انڈیا‘ اتحاد کی پارٹیوں کا مقصد کیا ہے؟ یہ بھارت ہے، ہم آہنگی، دوستی، مفاہمت اور اعتماد پیدا کریں۔ جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا۔‘‘
دوسری جانب مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھیں ہر چیز سے مسئلہ ہے، میں انھیں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ میں ایک بھارت کا رہنے والا ہوں، میرے ملک کا نام بھارت ہے اور ہمیشہ بھارت رہے گا۔ اگر کانگریس کو اس سے کوئی مسئلہ ہے تو انھیں اپنا علاج کرانا چاہیے۔‘ اسی طرح بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سوشیل مودی کا کہنا ہے کہ ’آئین میں بھارت اور انڈیا دونوں ہیں، اگر 75 سالوں تک ’’پریزیڈنٹ آف انڈیا‘‘ لکھا جاتا رہا ہے تو پھر’’پریزیڈنٹ آف بھارت‘‘ لکھنے میں کیا اعتراض ہے؟ ہم بھارت ماتا کی جئے کہتے ہیں نہ کہ انڈیا ماتا کی جئے کہتے ہیں۔‘‘بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہرناتھ سنگھ یادو کہتے ہیں’ ’میں یہ مہم نہیں چلا رہا ہوں۔ پورا ملک یہ چاہتا ہے۔ یہ مطالبہ ملک کے ہر کونے سے آ رہا ہے۔ ہمارے آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک نے بھی ملک کے لئے لفظ’’بھارت ‘‘ استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔‘
ملک کے نام کے طور پر انڈیا استعمال کیا جائے یا بھارت ؟ اس معاملے میںسوشل میڈیا دو حصوں میں بٹا نظر آرہا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ ’یہ ملک 140 کروڑ لوگوں کا ہے، یہ ملک کسی ایک پارٹی کا نہیں ہے، فرض کریں کہ کل ’’انڈیا‘‘ اتحاد اپنا نام بدل کر بھارت رکھ لیا تو کیا وہ (بی جے پی) بھارت کا نام بھی بدل دیں گے۔ پھر کیا بھارت کا نام بی جے پی رکھیں گے؟‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے : ’یہ کیا مذاق ہے؟ ہمارا ملک ہزاروں سال پرانا ہے، اس کا نام صرف اس لیے بدلا جا رہا ہے کہ ‘’’انڈیا‘‘ نام کا اپوزیشن الائنس بنا۔ بی جے پی کو لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے’’انڈیا‘‘ الائنس کے کچھ ووٹ کم ہو جائیں گے۔ یہ تو ملک کے ساتھ غداری ہے۔‘
یہ بات طے ہے کہ اپوزیشن اتحاد اب چاہے جتنا بھی ہو ہلّا مچا لے لفظ ’’انڈیا ‘‘ اب شاید ہمیشہ کے لئے تاریخ کے صفحات کی نذر ہو جا ئے گا۔ جی ۔20 کے قبل پی ایم مودی 20ویں آسیان۔انڈیا چوٹی کانفرنس اور 18ویں مشرقی ایشیا چوٹی کانفرنس (ای اے ایس) میں شرکت کے لیے پچھلے دنوں انڈونیشیا گئے تھے۔ اس موقع پر بھی سوشل میڈیا x (پہلے ٹویٹر) پر پی ایم کے دورے کے پروگرام سے متعلق ایک کارڈ شیئر کیا گیا تھا، جس میں ’’ پرائم منسٹر آف بھارت ‘‘ لکھا ہوا تھا۔اس کا مطلب صاف ہے۔ مرکزی حکومت نے جو من بنا لیا ہے ، اسے عملی جامہ پہنانا شروع کردیا ہے۔ چنانچہ 18 سے 22 ستمبر تک کے لئے بلائے گئے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا آخری وقت میں یہی ایجنڈا بن جائے تو کسی کو حیرت زدہ نہیں ہونا چاہئے۔
************

