! کہاں ہے میرا ہندُستان

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -05 SEPT     

بھارت دنیا کے 20 ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی تنظیم جی ۔20کے سربراہی اجلاس کی صدارت کر نے جا رہا ہے۔دارالحکومت دہلی میں 9 اور 10 ستمبر کو جی ۔20سربراہی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لیےصدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی طرف سے مختلف سیاسی جماعتوں، اہم تنظیموں اور معروف شخصیات کو دعوت نامے بھیجے جا رہے ہیں، لیکن لیٹر ہیڈ پر ’’پریسیڈنٹ آف انڈیا‘‘ کی جگہ ’’ پریسیڈنٹ آف بھارت‘‘ لکھے جانے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے جب اس پر اعتراض درج کیا تو پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی ’انڈیا‘ اور ’بھارت ‘ پرآئین کا حوالہ دیدیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئین کے آرٹیکل۔ 1 میںمتذکرہ ’بھارت ریاستوں کی یونین‘ کا ذکر کیا ہے ۔ اس کے بعد سےسوشل میڈیا پر’ آرٹیکل۔1‘ ٹرینڈ ہونے لگا ہے۔ لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آئین کے متعلقہ آرٹیکل میں انڈیا اور بھارت کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔
اس بیچ راہل نے پھر اپنے ایک ٹویٹ میں ایک بار پھر یہ لکھا ہے کہ ’بھارت ریاستوں کی یونین ہے۔‘ ان کا کہنا ہے’’ انڈیا یعنی بھارت ریاستوں کی ایک یونین ہے۔‘‘ اسی بنیاد پر انہوں نے’’ایک نیشن ایک الیکشن‘‘ کے نظریے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے ’’ ایک نیشن ایک ایلکشن‘‘ کا نظریہ بھارتیہ یونین اور اس کی تمام ریاستوں پر حملہ ہے۔‘‘ وہیں صد ر جمہوریہ کی طرف سے بھیجے جانے والے خط پر جے رام رمیش کا کہناہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کو تقسیم کرنے کے لیے تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی آرٹیکل۔1 کا ذکر کیا ہے۔انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے’’مسٹرمودی تاریخ سے چھیڑ چھاڑ اور انڈیا یعنی بھارت ، جو ریاستوں کی ایک یونین ہے، کو بانٹنا چاہتے ہیں ، لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔‘‘ انھوں نے اپنے اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا’تو یہ خبر درست ہے۔ راشٹرپتی بھون نے 9 ستمبر کو ہونے والی ضیافت میں شرکت کے لیے ’’پریسیڈنٹ آف بھارت‘‘ کے نام سے دعوت نامے بھیجے ہیں، جب کہ عام طور پر یہ ’’ پریسیڈنٹ آف انڈیا‘‘ ہوا کرتا تھا۔ اب آئین کے آرٹیکل۔ 1 کو پڑھا جا سکتا ہے، بھارت یعنی انڈیا ، ریاستوں کی ایک یونین ہوگا۔‘ انہوں نے مزید لکھا، ’لیکن اب ریاستوں کی یہ یونین بھی نشانے پر ہے۔‘
ایسے میں یہ جاننے کی بات ہے کہ آئین کے آرٹیکل۔ 1 میںبھارت اورانڈیا کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔ آرٹیکل۔ 1 کا عنوان ’یونین اور اس کا علاقہ‘ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے :1۔ یونین کا نام اور علاقہ۔ (1) بھارت، یعنی انڈیا، ریاستوں کا اتحاد ہوگا۔ (2) ریاستیں اور ان کے علاقے ایسے ہوں گے جیسا کہ پہلے شیڈول میں بیان کیا گیا ہے۔(3) بھارت کے حدود کے اندر (الف) ریاستوں کے علاقے، (ب) پہلے شیڈول میں متعین یونین کے زیر انتظام علاقے، اور(ج) ایسے دوسرے علاقے جو حاصل کیے جائیں، شامل ہوںگے۔
ایسے میں چند سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی اور جئے رام رمیش جس ’انڈیایعنی بھارت‘ کی بات کر رہے ہیں وہ دراصل آئین کے آرٹیکل میں ہو بہو بیان کیا گیا ہے، لیکن بات اس کی تشریح کی ہے۔ سوال ہے کہ دونوں کانگریس لیڈر آرٹیکل۔ 1 جس شکل میںپیش کر رہے ہیں، کیا وہ صحیح ہے؟ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں یہ بھی کہہ چکے ہیںکہ بھارت ایک راشٹر نہیں ریاستوں کی ایک یونین ہے۔ اس بیان پر بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا اور شدید بحث ہوئی تھی۔ تب حکمراں بی جے پی نے راہل گاندھی پر علاقائی جذبات بھڑکا کر ملک کو کمزور کرنے اور علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کا الزام لگایا تھا۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کانگریس کے رہنما بار باربھارت کی ریاستوں کی یونین پر کیوں اصرار کرتے ہیں؟ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یورپی یونین کی طرح ہر ریاست آزاد ہے اور بھارت محض ان کی چھتری؟ قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کے تمام ممالک خودمختار ہیں۔ ان کی اپنی حکومتیں ہیں، اپنی سرحدیں ہیں، مکمل طور پر خودمختار ہیں، لیکن تجارت اور دیگر سیاسی و اقتصادی سرگرمیوں کو آسانی سے چلانے کے مقصد سے سب نے مل کر ایک فیڈریشن بنا رکھی ہے۔ یقیناًبھارت کی ریاستوں کی بھی اپنی اپنی حکومتیں ہیں اور ان کے اپنے سرحدی علاقے بھی ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بھارتی حکومت اپنے سرحدی علاقوں میں تبدیلیاں بھی کر سکتی ہے۔ آئین کا آرٹیکل۔ 2 یہ کہتا ہے’پارلیمنٹ، قانون کے ذریعے، ایسی شرائط و ضوابط پر وہ مناسب سمجھے یونین میں نئی ریاستوں کو داخل یا قائم کر سکتی ہے ‘‘خود آرٹیکل 2۔ کا عنوان ہے’’نئی ریاستوں کا داخلہ یا قیام۔‘‘پھر آرٹیکل۔ 3 بھارت کی پارلیمنٹ کو’نئی ریاستوں کی تشکیل اور موجودہ ریاستوں کے علاقوں، حدود یا ناموں کو تبدیل کرنے‘ کا اختیار دیتا ہے۔ ان دونوں آرٹیکلز سے واضح ہے کہ بھارت کی پارلیمنٹ ریاستوں سے بالاتر ہے۔ اس طرح ریاستیں خود مختار ہیں، آزادنہیں۔ وہ بھارت راشٹر میں ضم ہیں اور ان کا کوئی آزاد وجود نہیں ہوسکتا ہے اور جب بات ریاست بنام بھارت کی ہوگی تو بھارت بالاتر ہوگا۔ بھارت جب چاہے جیسا چاہے اپنی ریاستوں میں تبدیلیاں کر سکتا ہے۔
کانگریس لیڈر جے رام رمیش اور راہل گاندھی کے خیالات کے خلاف اوپر کی دلیلوں سے تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے وطن عزیز کا اصلی نام ’’بھارت‘‘ ہی ہے ’’انڈیا‘‘ نہیں ۔اس لئے صدر جمہوریہ کے مذکورہ دعوت ناموں میں یہ ’’ پریسیڈنٹ آف انڈیا‘‘ کی جگہ ’’پریسیڈنٹ آف بھارت‘‘ لکھا گیا ہے، لیکن ان ساری باتوں کے درمیان ایک مشہور نظم کامشہور مصرعہ بھی ہوا میں گشت کر رہا ہے اور وہ ہے ’’کہاں ہے میرا ہندُستان!‘‘
***********************