یہ رویہ ایک مہذب سماج کے لئے ناقابل بر داشت نہیں ہے ؟

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -22 SEPT     

جمعرات 21 ستمبر کو لوک سبھا میں چندریان پر بحث کے دوران جنوبی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بِدھوری نے امروہہ سے بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے ساتھ بدسلوکی اور بدتمیزی کی ساتھ ہی ان کے خلاف غیر پارلیمانی لفظوں کا استعمال کیا۔ رمیش بِد ھوری کا پارلیمنٹ میں بی ایس پی کے رکن کنور دانش علی خلاف متنازعہ بیان اب زور پکڑتا جا رہا ہے۔ہوا میں یہ بات بھی گشت کر رہی ہے کہ جب رمیش بدھوری بول رہے تھے، بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ اور سابق وزیر روی شنکر پرساد اور ہرش وردھن ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہنس رہے تھے۔ جب لوگوں نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف لکھنا شروع کیا تو انہوں نے واضح کیا ہےکہ وہ اداس اور توہین محسوس کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اس کا نام گھسیٹ لیا ہے۔ دریں اثنا ہرش وردھن نے ایک بیان جاری کرکے یہ وضاحت کی ہے کہ میں نے ٹویٹر پر اپنا نام ٹرینڈ کرتے دیکھا ہے، جہاں لوگوں نے مجھے غیر ضروری طور پر اس افسوس ناک واقعے میں گھسیٹ لیا ہے،جس میں دو ارکان پارلیمنٹ ایوان میں ایک دوسرے کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کر رہے تھے۔ ہرش وردھن نے صفائی میں یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے سینئر اور قابل احترام لیڈر راج ناتھ سنگھ پہلے ہی دونوں پارٹیوں کی طرف سے اس طرح کی نامناسب زبان کے استعمال کی مذمت کر چکے ہیں۔ہرش وردھن نے سوالیہ انداز میں کہا ہے’’میں اپنے مسلمان دوستوں سے پوچھتا ہوں جو آج سوشل میڈیا پر میرے خلاف لکھ رہے ہیں، کیا وہ واقعی یہ مانتے ہیں کہ میں کبھی ایسی توہین آمیز زبان کے استعمال کا فریق بن سکتا ہوں، جس سے کسی ایک کمیونٹی کی حساسیت کو ٹھیس پہنچے۔ سوشل میڈیا پر کچھ مفاد پرست سیاسی عناصر میری شبیہ کو خراب کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا کے رواں خصوصی اجلاس کے دوران جمعرات کوایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے بیدھوری نے کنور دانش علی کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے لئے ’’اُگروادی اور ملّا ‘‘ جیسے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیا۔ اس کے بعد ایوان میں ہنگامہ شروع ہوگیا اور  پھر وہیں سے اپوزیشن لیڈروں نے رمیش بِدھوری کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ شروع کر دیا۔بات کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے لوک سبھا کے اسپیکراوم بڑلا کو آگے آنا پڑا۔ انھوں نے رمیش بِدھوری نے  کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں اس طرح کا رویہ دہرایا گیا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ایک رپورٹ کے مطابق بیدھوری کے تبصرے کے فوراً بعد ایوان میں موجود وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نےبھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر بی جے پی صدر جے پی نڈا کی ہدایت پر رمیش بدھوری کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے ’’ میں نے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب میرے جیسے منتخب رکن کا یہ حال ہے تو ایک عام آدمی کا کیا حال ہو گا۔ امید ہے انصاف ملے گا، سپیکر تحقیقات کرائیں گے۔ ورنہ میں بھی اس پارلیمنٹ کو چھوڑنے کا سوچ رہا ہوں کیونکہ یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ سننے میں یہ بات آ رہی ہے کہ بیدھوری کی بد زبانیوں کو ایوان کی کارروائی سے ہٹا دیا گیا ہے۔
بیدھوری کی بد زبانیوں کو ایوان کی کارروائی سے ہٹادینے یا رمیش بِدھوری کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کئے جانے کو اپوزیشن لیڈر کافی نہیں سمجھ رہے ہیں۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن پارٹیاں بیدھوری کو ایوان سے معطل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے جو کہا ہےرمیش بِدھوری نے جن لفظوں کا استعمال کیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ وزیر دفاع کی معافی ناکافی ہے۔ایسی زبان ایوان کے اندر یا باہر استعمال نہیں ہونی چاہئے۔ یہ رمیش بدھوری کی نہیں بلکہ بی جے پی پارٹی کی سوچ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ رمیش کی رکنیت منسوخ کی جائے۔عام آدمی پارٹی ایم پی سنجے سنگھ نے کہا  کہ یہ بی جے پی غنڈہ گردی کر رہی ہے۔ بدھوری کی زبان ایک غنڈے، مافیا کی زبان ہے۔ دانش علی کی توہین اپوزیشن کے تمام ارکان پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ مجھے منی پور کا مسئلہ اٹھانے پر معطل کیا گیا،بدھوری کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی ؟ ٹی ایم سی لیڈر مہوا موئترا کا کہنا تھا مسلمانوں اور او بی سی کو گالی دینا بی جے پی کا کلچر ہے۔ بہت سے لوگ اب اس میں کچھ غلط نہیں دیکھتے ہیں۔ پی ایم مودی نےبھارتی مسلمانوں کو اپنی ہی سرزمین پر خوف کے ساتھ رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ کا کہنا ہے مسلمان اسے کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟  اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے، بیدھوری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ امکان ہے کہ انہیں بی جے پی دہلی کا ریاستی صدر بنا دیا جائے۔ آج  بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جیسا کہ ہٹلر کے جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔
یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ آئین کے آرٹیکل 105 (2) کے تحت، بھارت میں کوئی بھی رکن پارلیمنٹ، پارلیمنٹ میں کہی گئی بات کے لیے کسی بھی عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایوان میں کہی گئی کسی بھی طرح کی بات کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ ارکان پارلیمنٹ، پارلیمنٹ میں کچھ بھی کہنے کے لیے آزاد ہیں۔ ایک رکن پارلیمنٹ جو کچھ بھی کہتا ہے وہ لوک سبھا کے طریقہ کار اور کاروبار کے قاعدہ 380 کے تحت اسپیکر کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی رکن پارلیمنٹ، پارلیمنٹ میں غیر پارلیمانی زبان استعمال کرتا ہے تو اس پر کارروائی کا حق صرف اسپیکر کو ہے۔ ارکان پارلیمنٹ، پارلیمنٹ میں بدعنوان، جھوٹ اور توہین جیسے الفاظ نہیں استعمال کر سکتے۔ 2022 میں پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہونے سے پہلے غیر پارلیمانی الفاظ کی ایک فہرست جاری کی گئی تھی۔اس فہرست میں شاید ’’ملّا اوراُگروادی‘‘ جیسے الفاظ کو جگہ نہیں مل پائی ہے۔شاید اسی سہولت کا فائدہ رمیش بِدھوری جیسے لیڈر اٹھاتے رہتے ہیں۔ کیا یہ رویہ ایک مہذب سماج کے لئے ناقابل بر داشت نہیں ہے  ؟
*******