امریکہ ایرانی متاثرین کو 420 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرے: ایرانی عدالت کا فیصلہ

تاثیر،۲۷  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

تہران،27اکتوبر:ایران کی عدالت نے حکم دیا ہے کہ امریکہ کے یرغمالی رہا کرانے کے متاثرہ ایرانیوں کو 420 ملین ڈالر ہرجانے کے طور پر ادا کیے جائیں۔ ایرانی عدالت کا یہ فیصلہ تقریبا 44 سال قبل تہران کے امریکی سفارت خانے میں یرغمال بنائے گئے امریکیوں کی رہائی کے لیے امریکی آپریشن کے متاثرہ خاندانوں کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ایران میں امریکہ کے حمایت یافتہ شاہ ایران کے خلاف آنے والے انقلاب کے بہت تھوڑے دنوں بعد ایرانی طلبہ تہران میں امریکی سفارت خانے پر چڑھ دوڑے تھے، جنہوں 444 دن تک امریکی سفارتخانے کے عملے کے 50 ارکان کو یرغمال بنایا تھا۔سفارت خانے کے عملے کو یرغمال بنانے والے ایرانی طلبہ سابق شاہ ایران کو ایران کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے جو ایران سے بھاگنے کے بعد امریکہ میں زیر علاج تھے۔ امریکہ نے اپنے یرغمال بنائے گئے سفارت کاروں کو رہا کرانے کے لیے ‘ پنجہ عقاب ‘ کے نام سے خفیہ آپریشن کیا۔ لیکن یہ آپریشن بری طرح ناکام ہو گیا۔ ایک طرف ریت کا ایسا طوفان اٹھا کہ امریکہ کمانڈوز کے ساتھ آئی مشینری کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب اپنے آپریشن کرنیوالے اہلکاروں کے پیچھے ہٹنے کے دوران 2 امریکی طیارے آپس میں ہی ٹکرا گئے۔ طیاروں کے اس ٹکراو سے آٹھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ ایرانی عدالت کے فیصلے کو ‘میزان آن لائن’ نامی خبر رساں ادارے نے رپورٹ کرتے ہوئے لکھا ہے ‘ امریکیوں نے ایران کی ایک عام مسافر بس پر اسی دوران بوکھلاہٹ میں حملہ کر دیا۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عدالتی فیصلہ امریکی آپریشن کے دوران متاثر افراد کے لواحقین اور خاندانوں کی طرف سے دائر کردہ پٹیشن پر سامنے آیا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں ایرانی متاثرہ افراد یا خاندانوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔البتہ انہی کی دائر کردہ درخواست پر ایرانی عدالت نے امریکہ کو 420 ملین ڈالر مذکورہ خاندانوں کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکیوں نے ایرانی انقلاب پاسدران میں سے ایک محافظ کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ امریکی آپریشن میں تباہ ہوئے امریکی فوجی آلات کی حفاظت پر مامور تھا۔