تاثیر،۴ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن
بہار میںذات کی بنیاد پر مردم شماری کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد سے آبادی کے لحاظ سے حصہ داری کا معاملہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ کچھ سیاسی مبصرین اس معاملے کو مسلمانوں سمیت او بی سی کی حق ماری کی نظرسے بھی دیکھ رہے ہیں۔ آبادی کے اعداد و شمار کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ پچھلے 76 سالوں میں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقے کے لوگ 35 سال اور 89 دن سے بہار میں اقتدار کے اعلیٰ مقام پر رہے ہیں۔باقی دنوں میں اقتدار کی کمان اونچی برادری کے لوگوں کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ یعنی اوبی سی سےدو سال زیادہ 37 سال 197 دن تک اونچی ذات کے رہنما وزیر اعلیٰ کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔درج فہرست ذاتوں کو یقینی طور پر تین بار نمائندگی دی گئی، لیکن اس زمرے کے لوگ صرف ایک سال اور 327 دن تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ اس کے ساتھ ہی اقلیتی برادری یعنی مسلم کمیونیٹی کے کسی رہنما کو صرف ایک بار وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کا موقع ملا ہے، وہ بھی ایک سال 283 دن کے لیے۔
پچھلے 35 سالوں میں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کے اقتدار کا سب سے بڑا مقام صرف سات لوگوں کے پاس رہا ہے۔ نتیش کمار 17 سال سے زیادہ عرصے سے وزیر اعلیٰ ہیں۔ رابڑی دیوی سات سال 190 دن تک وزیر اعلیٰ رہیں۔ لالو پرساد سات سال 130 دن تک وزیر اعلیٰ رہے۔ داروغہ پرساد رائے 310 دن، ستیش پرساد سنگھ 5 دن اور بی پی منڈل 51 دن تک بہار کے وزیر اعلیٰ رہے۔ اقتدار کی چوٹی پر صرف ایک نام انتہائی پسماندہ طبقے کا ہے، ان میں سب سے پہلے کرپوری ٹھاکر کا نام آتا ہے۔ وہ دو سال 98 دن تک بہار کے وزیر اعلیٰ رہے۔
بہار میں گزشتہ 76 سالوں میں اعلیٰ ذات برادری کی اقتدار میں موجودگی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس برادری کے لوگ 37 سال 197 دن تک وزیر اعلیٰ رہے، لیکن ان میں سے صرف دو ایسے تھے جنہوں نے اپنی مدت پوری کی۔ یعنی انھوں نے پانچ سال یا اس سے زیادہ دنوں تک اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی۔باقی صرف زیادہ سے زیادہ تین سال تک رہے۔ پہلے وزیر اعلیٰ شری کرشنا سنہا نے 17 سال 52 دن کام کیا۔ دوسرے نمبر پر جگناتھ مشرا کا دور ہے، جنہوں نے پانچ سال اور 180 دن تک بہار کی باگ ڈور سنبھالی۔ جبکہ کے بی سہائے تین سال 154 دن، بندیشوری دوبے دو سال 338 دن، ونودانند جھا دو سال 226 دن، چندر شیکھر سنگھ ایک سال 210 دن، کیدار پانڈے ایک سال 105 دن، بھاگوت جھا آزاد ایک سال 24 دن، مہامایا پرساد سنگھ 329 دن، ستیندر نارائن سنہا 270 دن، ہری ہر سنگھ 117 دن اور دیپ نارائن سنگھ صرف 17 دن بہار کے وزیر اعلیٰ رہے۔ بہار میں درج فہرست ذات (ایس سی) کے لوگوں کو تین بار وزیر اعلیٰ کے عہدے تک پہنچنے کا موقع ملا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس عہدے پر ایک سال کی مدت پوری نہیں کی۔ رام سندر داس 302 دن، جیتن رام مانجھی 278 دن اور بھولا پاسوان شاستری 112 دن وزیر اعلیٰ رہے۔ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے عبدالغفور ایک سال 283 دن تک وزیر اعلیٰ رہے۔
بہار میں بر سر اقتدار رہنے کی مدت کوبہار کی سروے رپورٹ کے تناظر میں دیکھنے اور حقوق کی بازیابی کی بات کرنے والوں کا کہنا ہے سروے رپورٹ کے اعدا د و شمار کو دیکھ کر بی جے پی کے سینے پر سانپ لوٹ رہا ہے۔جبکہ پسماندہ سماج جوش سے بھرا ہوا ہے۔جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا کا کہنا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری رپورٹ کی وجہ سے بی جے پی مشکل میں ہے۔ دوسری طرف مردم شماری سے متعلق اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد سے دلت، پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کے لوگ جوش و خروش سے بھر ے ہوئے ہیں۔ جے ڈی یو کے ریاستی صدر کا سیدھا الزام ہے کہ بی جے پی کے لوگ سروے کے کام کو روکنے کے لئے ہرممکن کوشش کرتے رہے ہیں۔وہیں نتیش کمار نے’’ سماجی انصاف‘‘ کے اصول کو زمین پر اتارنے کے لئے زبردست پہل کی ہے۔ اس کے مثبت نتائج آنے والے دنوں میں یقیناً نظر آئیں گے۔ جے ڈی یو کے ریاستی صدر کا ماننا ہے کہ اب آبادی کی بنیاد پر حصہ داری کا نئے سرے سے فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
جے ڈی یو کے قومی ترجمان راجیو رنجن اور دوسرے رہنماؤں کا بھی یہی کہنا ہے کہ سماج میں قائم عدم مساوات کی روایت کو ختم کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ سامنے آنا چاہئے، لیکن بی جے پی میں اتنی ہمت اور حوصلہ نہیں ہے کہ اس مہم میں ہمارا بڑھ چڑھ کر ساتھ دے۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے جب ذات پر مبنی سروے کرانے کا فیصلہ لیا تھا، اس میں بی جے پی کی بھی حمایت شامل حال تھی اور آج جب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا ہے تو بی جے پی کو اب تک یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری رپورٹ جاری ہو چکی ہے ۔ اسی ڈپریشن کی وجہ سے کچھ لوگ اول جلول بیانات دے رہے ہیں۔چند سیاسی مبصرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ اب آبادی کے اعتبار سے حصہ داری کا مطالبہ کی مہم شروع ہو چکی ہے تو اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی کوشش یہی ہوگی کہ یہ مہم ملک گیر ہو جائے۔ جبکہ شروع کے دنوں میں ذات پر مبنی سروے کی حمایت کرنے والی ریاستی بی جے پی کو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اس مہم کی کھل کر کیسے مخالفت کی جائے۔اس مقام پر آکربی جے پی کی حالت کھسیانی بلّی جیسی ہو گئی ہے۔
******************

