این آر سی اور کسان تحریک سے عام آدمی کی طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے: عارفہ خانم شیروانی

TAASIR NEWS NETWORK  UPDATED BY- S M HASSAN -02 OCT

کلکتہ میں مسلم مجلس مشاورت کا تشدد سے پاک بھارت کے موضوع پر ایک عظیم الشان اجلاس
کولکاتا 02/ اکتوبر (محمد نعیم) ایک ٹمٹماتی روشنی کو بجھنے سے بچانے کے لئے گھیرا بنالیں، جیسا کہ ملک کے کروڑوں لوگ نفرت پھیلانے کے لئے مصروف عمل ہیں اور باقی چند لوگ دور کھڑے ہوکر دیکھ رہے ہوں، بلڈوزر ایک مخصوص طبقہ کے لئے نفرت کی علامت بن گیا ہے، اور انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں۔ یہ باتیں مغربی بنگال مسلم مجلس مشاورت کے زیرِ اہتمام منعقدہ تشدد سے پاک بھارت کے موضوع پر معروف صحافیہ دی وائر کی ایڈیٹر محترمہ عارفہ خانم شیروانی نے کہی، انہوں نے تشدد زدہ نوح کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک کثیر آبادی کے مکانات، دکانیں اور ہوٹلوں پر بلڈوزر چلا کر زیر زمین کردیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جھوٹ کی عمر لمبی نہیں ہوتی، جیت سدا سچائی اور ایمانداری کی ہوئی ہے۔ مسز عارفہ نے کہا کہ این آر سی اور کسان دو ایسی تحریکیں ہیں، جس سے عام آدمی کی طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بس متحد ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تقریب میں شامل گرو سنگھ سبھا کے گرنتھی گیانی جرنیل سنگھ نے کہا کہ ہم سب ایک اللہ کے بندے ہیں، اور انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے، اور ہمیں مختلف مذاہب کے پھول بن کر گلدستہ کی رہنا ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ طارق انور نے کہا کہ ملک انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں ملک کی سالمیت کو بچانے، امن و امان قائم رکھنے اور گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے کے لئے ہر چھوٹی بڑی تنظیموں کے ساتھ اتحاد بنا کر کام کرنا ہوگا، جبکہ پریس کانفرنس آف انڈیا کے صدر جے شنکر گپتا نے کہا کہ اکثر فسادات حکومت کے ایماء پر ہوتے ہیں۔ اگر گجرات دنگے نہیں ہوتے تو آج نریندر مودی وزیر اعظم نہیں ہوتے۔ اس موقع پر جمیل منظر نے تقریب کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج اشوک کمار گنگولی نے کہا کہ اگر ملک میں انصاف قائم رہے گا تو تشدد کو کسی بھی خطے میں جگہ نہیں ملے گی۔ دیگر اہم مقررین میں بنگلہ روز نامہ قلم کے ایڈیٹر اور اقلیتی کمیشن کے چیئرمین عمران حسن، اخبار مشرق کے مدیر محمد وسیم الحق، ایڈوکیٹ خواجہ جاوید یوسف، شیخ مطیع الرحمن، قومی صدر ایڈوکیٹ فیروز احمد شامل تھے۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر ایم این حق نے کی، جبکہ نقابت کے فرائض عاصم شہنواز شبلی نے انجام دئیے۔ شرکاء میں سابق وزیر ڈاکٹر عبدالستار، چئیرمین سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ انجینئر محمد ہدایت اللہ، مومن کانفرنس کے صدر عبدالقیوم انصاری، فادر ڈی سوزا اور ویمن سیل کے کنوینر عظمیٰ عالم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔