ایک بار پھران پر نقبہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے

تاثیر،۱۵  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آٹھ دن ہو چکے ہیں۔ اس تنازع میں اب تک 13 سو سے زائد اسرائیلی اور 2300 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ اسرائیل کی فوج غزہ میں زمینی کارروائی کے لیے سرحد پر تیار کھڑی ہے اور غزہ میں رہنے والے لوگوں کو شمالی علاقوں سے نکل جانے کی وارننگ دے رہی ہے۔ فلسطینی، اسرائیلی اور مشرق وسطیٰ کے میڈیا کے علاوہ دنیا کے میڈیا کی کوریج صرف اس سے متعلق پیش رفت پر مرکوز ہے۔ جنگ کے آٹھویں دن، فلسطینی میڈیا کی کوریج اسرائیل کی بمباری اور اس سے منسلک تباہی اور جانی نقصان پر مرکوز تھی۔ اسرائیل نےغازہ کے لوگوں کو ہفتے کی شام تک شمالی غزہ  چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ اس سے متعلق کئی تجزیے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے انگریزی اور عبرانی میڈیا کی کوریج اسرائیل کی فوجی تیاریوں، غزہ میں مجوزہ زمینی کارروائی، اور حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والوں پر مرکوز تھی۔ حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے افراد کے اہل خانہ نے تل ابیب میں مظاہرہ کیا، اسرائیلی میڈیا نے بھی اس سے متعلق رپورٹس شائع کی ہیں۔ اسرائیلی فوج نےغزہ  کے اسپتالوں کو خالی کرنے کا نوٹس بھی دے دیا ہے۔  اسرائیلی فوج نے کل شام 4 بجے تک کنگز القس اسپتال کو خالی کرنے کی وارننگ دی ہے۔ اس سے متعلق کئی رپورٹیں فلسطینی میڈیا میں شائع ہو چکی ہیں۔
ایک رپورٹ میں 7 اکتوبر کو حماس کے ہلاکت خیز حملے کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیل میں جو افراتفری پیدا ہوئی ہے وہ ایک طرح سے پورے ملک کو متاثر کر رہی ہے۔ نیتن یاہو کے لیے تقسیم کوئی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کی مستقل خصوصیت ہے۔ جبکہ اسرائیل میں اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے ہنگامی حکومت کو تباہی قرار دیا ہے۔ ہارٹز نے حملے کے حوالے سے جاری سازشی تھیوری پر ایک مضمون بھی شائع کیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس حملے میں اندرونی افراد بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
اس مضمون میں اخبار نے لکھا ہے کہ بہت سے بنیاد پرست اسرائیلی غزہ کی جنگ کوآئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) کے اعلیٰ افسران کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ اسرائیل کے مشہور اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ ’’اسرائیل کی قوم کو نظر انداز کیا گیا ہے‘‘  اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس بحران کے تقریباً ہر پہلو میں اسرائیلی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ خود حکومت کے خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مغوی افراد کی پرواہ کیے بغیرغزہ میں زمینی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
  ٹائمز آف اسرائیل نے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ ہمیں غزہ  میں اغوا ہونے والے افراد اور لاشوں کی کل تعداد کا علم نہیں ہے۔ مغوی افراد کے اہل خانہ حکام سے وضاحت کی درخواست کر رہے ہیں  اور یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا جنگ کے بعد اغوا ہونے والے افراد کے معاملے پر بات کی جائے گی ؟  اب یہ لوگ اسرائیل کو ان علاقوں پر بمباری کرتے دیکھنے پر مجبور ہیں، جہاں ان کے پیاروں کو اغوا کر کے رکھا گیا ہو گا۔ یہ ایک ناقابل تصور صورتحال ہے۔’’آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے خیال کو اسرائیل میں فی الحال زیادہ حمایت حاصل نہیں ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ’’ نیتن یاہو نے اچانک قوم کے نام ایک پیغام کا اعلان کیا ،لیکن اس میں کوئی اہم بات نہیں تھی۔ اخبار نے لکھا ہے ’’  نیتن یاہو کے اعلان سے ملک میں بے چینی پھیل گئی، لیکن ان کی تقریر میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جو فوری طور پر قوم کو بتانے کی ضرورت تھی۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، غزہ میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور عالمی ردعمل کا ذکر کیا ہے۔ فلسطینی امور پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ مانڈووائزمیں اپنے تجربے کے بارے میں لکھتے ہوئے ایک رپورٹر نے لکھا کہ میں نے ’  نقبہ‘کے بارے میں بہت سی کہانیاں لکھی تھیں، آج میں نےاس نقبے کا تجربہ کیا ہے۔ لفظ  ’ نقبہ‘ کا مطلب المیہ ہے اور فلسطینی اسے 1948 میں اپنی سرزمین سے جبری بے دخلی کے واقعات سے جوڑتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ اسرائیلی فوجیوں کی بار بار فون پر کال آتی ہے اور ہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ’’ تم کو گھر خالی کرنا ہے، جنوب جانا ہے، تم اپنی زندگی کے ذمہ دار خود ہو۔اسی درمیان زوردار دھماکے سے علاقہ دہل جاتا ہے۔ یہ بم دھماکہ اس دھماکے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے، جس کا تجربہ لوگوں نے 1948 میں کیا تھا۔سچ پوچھئے تو اس تجربے کو فلسطینی جی رہے ہیں۔یہ ان کے لئے دوسرا ’’نقبہ‘‘ ہے۔قابل ذکر ہے کہ فلسطینی ہر سال پندرہ مئی کو گھر بدری کے خلاف نقبہ یعنی تباہی اور بے سروسامانی کی مخالفت میں یوم احتجاج مناتے ہیں۔ سن 1948 کی لڑائی کے دوران لاکھوں فلسطینیوں کودوسری جگہوں پر ہجرت کرنا پڑی تھی۔1948 کے بعد ایک بار پھران پر نقبہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔
****************