بائیڈن کا غزہ پر اسرائیل کے حملے میں تاخیر کا عندیہ

تاثیر،۲۱  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،21اکتوبر:امریکی وائٹ ہاؤس سے منسوب ہفتے کے روز سامنے آنے والے موقف میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی کو ملتوی کرنے کے بارے میں سوال نہیں سنا اور سوچا کہ سوال اس بارے میں ہے کہ کیا وہ مزید یرغمالیوں کو رہا کرنا چاہتے ہیں۔خبر رساں اداروں نے بائیڈن کے حوالے سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل مزید یرغمالیوں کی رہائی تک غزہ کی پٹی پر اپنے ممکنہ زمینی حملے کو ملتوی کر دے۔حماس نے جمعے کے روز دو امریکی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے اور مزید سویلین قیدیوں کو رہا کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ اسرائیل نے چودہویں روز بھی غزہ کی پٹی پر بمباری جاری رکھی ہے۔
مسلسل بمباری کے ساتھ ساتھ غزہ کی ہر طرح سے کی گئی ناکہ بندی کیباعث وہاں کے باشندے دہری مشکلات میں مبتلا ہیں۔توقع ہے کہ آج بروز سنیچر رفح کراسنگ سے امدادی سامان سے لدے ٹرک داخل ہوں گے۔حماس نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے یرغمال بنائی گئیں امریکی ماں بیٹی کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ قدم “قطری کوششوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد امریکی عوام اور دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا ہے کہ بائیڈن اور اس کی فاشسٹ انتظامیہ کے دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔امریکی صدر جو بائیڈن نے جوڈتھ تائی رعنان اور نتالی شوشنا رعنان کی رہائی پر اپنی “بے حد خوشی” کا اظہار کیا۔ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے دیگر یرغمالیوں کے خاندانوں کے لیے اس پیش رفت کو”امید کی کرن” قرار دیا۔ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی ان دونوں مغویوں کو غزہ کی سرحد پر لے آئی جہاں ایک اسرائیلی ایلچی ان کا انتظار کر رہا تھا۔ انہیں وسطی اسرائیل کے ایک فوجی اڈے پر منتقل کر دیا گیا، جہاں اسرائیلی حکام اور ان کے اہل خانہ ان سے ملنے کے منتظر ہیں۔دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ “ہر یرغمالی کو رہا کیا جانا چاہیے اور یہ ابھی ہونا چاہیے۔فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے زور دے کر کہا کہ پیرس آنے والے “گھنٹوں اور دنوں” کے دوران مزید اسی طرح کی کارروائیاں جاری رکھنا چاہتا ہے تاکہ یرغمالیوں، خاص طور پر ہمارے یرغمالیوں کو وہاں سے نکلنے دیا جائے۔قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے قطری مذاکرات اسرائیل اور حماس کے ساتھ جاری رہیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کوششیں تمام اقوام کے تمام سول یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنیں گی۔حماس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ “تمام ثالثوں” کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے کہ “اگر مناسب سکیورٹی حالات دستیاب ہوں تو سویلین (قیدیوں) کو رہا کیا جا سکتا ہے لیکن اس نے اپنے مطالبات کی تفصیلات کا اعلان نہیں کیا‘‘۔