تاثیر،۲۸ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
اس بار تلنگانہ اسمبلی انتخابات پچھلی بار کے مقابلے بے حد دلچسپ ہونے والے ہیں۔ جن پانچ ریاستوں میں قانون ساز اسمبلی انتخابات نومبر میںہونے والے ہیں، ان میں جنوبی ہند کی واحد ریاست تلنگانہ ہے۔ ان کے علاوہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان اور میزورم میں بھی انتخابات ہونے ہیں۔ تلنگانہ میں سب سے آخر میں ایک ہی مرحلے میں30 نومبر کو ووٹنگ ہونے والی ہے۔ اس کے بعد دیگر ریاستوں کے ساتھ تلنگانہ کے ووٹوں کی گنتی بھی 3 دسمبر کو ہوگی۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں کل 119 نشستیں ہیں۔ اقتدار کے حصول کے لئےکم سے کم 60 سیٹیں درکار ہیں۔
آندھرا پردیش سے الگ کرکے جون 2014 میں تلنگانہ کے نام سے ایک نئی ریاست تشکیل دی گئی ۔ اس کے بعد دسمبر2018 میں تلنگانہ میںپہلی بار اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ اس بار تلنگانہ میں دوسرے اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس بار تلنگانہ کے انتخابات کئی معنوں میں خاص ہیں۔ بی جے پی کے نقطہ نظر سے بھی اس کی اہمیت دوسری ریاستوں سے زیادہ ہی ہے۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں اقتدار کے لیے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ ان ریاستوں میں جیت خواہ کانگریس کی ہو یا پھر بی جے پی جیتے ، عوامی حمایت اور سیاسی حیثیت سے جڑا سوال بی جے پی کے سامنے نہیں ہے۔ اس تناظر میں تلنگانہ انتخابات بی جے پی کے لیے اقتدار حاصل کرنے سے زیادہ عوامی حمایت کی توسیع اور سیاسی حیثیت بڑھانے سے جڑا ہے۔ تلنگانہ میں اقتدار کو لیکر بی جے پی کی دعویداری میں زیادہ قوت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس کے باوجود اس بار کے الیکشن کی ایک الگ اہمیت ہے۔ ایک نئی ریاست کے طور پر وجود میں آنے کے بعد سے، تلنگانہ کی طاقت اور سیاست بھارت راشٹرا سمیتی سربراہ کے۔چندر شیکھر راؤ کے زیر اثر رہی ہے۔ کے سی آر 2 جون، 2014 سے تلنگانہ کے چیف منسٹر ہیں۔ اس بار بھی ان کی کوشش ہے کہ وہ مسلسل تیسری بار وزیر اعلیٰ بنیں۔ تاہم، گزشتہ نو سالوں میں یہ پہلا موقع ہوگا، جب کے سی آر کو بی جے پی اور کانگریس کی جانب سے سخت چیلنج کا سامنا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
جنوبی ہند کی ریاستوں کے تعلق سے پارٹی کے ارادوں کے نقطۂ نظر سے تلنگانہ کے انتخابات بی جے پی کے لیے ’’کرو یا مرو‘‘ کے مترادف ہے۔ اس سال مئی میں کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کانگریس کے خلاف عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس شکست کی وجہ سے کرناٹک کا اقتدار بھی بی جے پی کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی بھارت کی پانچ بڑی ریاستوں کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو اور کیرالہ میں سے کسی میں بھی بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔کرناٹک میں اب پانچ برسوں کے بعد ہی بی جے پی کے پاس موقع ہوگا۔بی جے پی اس وقت آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ میں انتہائی قابل رحم حالت میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی ان ریاستوں میں آنے والے اسمبلی انتخابات میں اقتدار کے قریب آنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ میں بی جے پی کی عوامی حمایت کی بنیاد بہت کمزور ہے۔ جنوبی بھارت کی پانچ میں سے چار ریاستوں میں مضبوط عوامی حمایت نہیں ہونےکی وجہ سے، ایک پین انڈیا پارٹی کے طور پر بی جے پی کی شناخت کو لیکر بھی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ جنوبی بھارت کی تمام ریاستیں بی جے پی کی کمزور کڑی ہیں۔
اس بار تلنگانہ کے اقتدار پر نظر جمائے بی جے پی نے عام انتخابات 2019 کے بعد سے ہی سب سے پہلے جذباتی ماحول بنانا شروع کردیا تھا۔ عام انتخابات 2019 میں بی جے پی تلنگانہ کی کل 17 لوک سبھا سیٹوں میں سے 4 پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ یہاں سے بی جے پی نے دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ مستقبل میں کے سی آر کے بجائے وہ تلنگانہ کے لوگوں کے لیے نیا متبادل بنے گی۔ پچھلے دو تین برسوںسے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے تلنگانہ پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔ جولائی 2022 میں بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ حیدرآباد میں ہوئی تھی۔ تقریباً 18 سال بعد بی جے پی نے حیدرآباد میں ایسی میٹنگ منعقد کی تھی۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں آئے اچھے نتائج کے بعد سے ہی پارٹی کے سرکردہ قائدین مسلسل تلنگانہ کا دورہ کرتے رہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بارہا تلنگانہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے 2022 میں 4 بار تلنگانہ کا دورہ کیا تھا۔
‘ ’’مشن ساؤتھ‘‘ کے نقطہ نظر سے، فی الحال بی جے پی کی واحد امید تلنگانہ ہی ہے۔جہاں اپنی بہتر کارکردگی سے بی جے پی ثابت کر سکتی ہے کہ وہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھی اپنے قدم پھیلا سکتی ہے۔ وہ بھلے ہی تلنگانہ میں اقتدار حاصل نہ کر سکے، لیکن اگر بی جے پی اہم اپوزیشن پارٹی بننے میںبھی کامیاب ہوجاتی ہے تو، اسے لائق ستائش ہی سمجھا جائے گا۔ آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ میںکارکنوں کی حوصلہ افزائی کے اعتبار سے بھی بی جے پی کی یہ کار کردگی ایک مؤثر پیغام ثابت ہو سکتی ہے۔ اس طرح اگر بی جے پی تلنگانہ میں اہم اپوزیشن پارٹی بننے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ بلا شبہہ ریاست کے عوام کے لیے کانگریس کا متبادل بن جائے گی۔لوک سبھا انتخابات 2019 میں کانگریس ریاست میں 3 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اگر اس بار اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی پچھلی بار سے خراب رہی تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو مل سکتا ہے۔
**************

