تاثیر،۸ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن
ریاست بہار کی طرح اب راجستھان میں بھی ذات کی بنیاد پر شہریوں کا سروے ہوگا۔ اشوک گہلوت حکومت نے سروے کرانے کا حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔حکنامہ ہفتہ کی دیر رات جاری کیا گیا۔ ریاستی کابینہ کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے محکمہ برائےسماجی انصاف اور اختیار کاری کی طرف سے جاری اس حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت اپنے وسائل سے ذات پر مبنی سروے کرائے گی۔ یہ حکمنامہ بہار میں ذات پات پر مبنی سروے کے نتائج کے چند دنوں بعد اور اس سال کے آخر میں راجستھان میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے جاری ہوا ہے۔اگر حکمنامے کے مطابق کام انجام تک پہنچ جاتا ہے تو کانگریس کی حکومت والا راجستھان اس طرح کا سروے کرانے والی ملک کی دوسری ریاست ہوگا۔
راجستھان میں بھی ذات کی بنیاد پر سروے کرائے جانے کا حکمنامہ جاری ہونے سے پہلے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’’ اس سلسلے میں جلد ہی حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔ریاستی حکومت، تمام طبقات کی ہمہ جہت ترقی کے لیے پرعزم ہے۔حکومت اپنے وسائل سے یہ سروے کرائے گی۔ مجوزہ سروے میں ریاست کے تمام شہریوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی سطح سے متعلق معلومات اور ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت ایک خصوصی مطالعہ کرے گی اور طبقات کی پسماندگی کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی فلاحی اقدامات اور اسکیموں کو نافذ کرے گی۔اس سے تمام طبقات کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔‘‘
محکمہ کے سرکاری سکریٹری ڈاکٹر سمیت شرما کے دستخط سے جاری اس حکمنامہ کے مطابق سروے کا کام محکمہ منصوبہ بندی (اقتصادی اور شماریات) نوڈل محکمہ کے طور پر انجام دے گا۔ اس کے مطابق تمام ضلع کلکٹر اس سروے کے لیے میونسپلٹی، سٹی کونسل، میونسپل کارپوریشن، گاؤں اور پنچایت سطح پر مختلف محکموں کے ماتحت اہلکاروں کی خدمات لے سکیں گے۔ اس کے مطابق نوڈل ڈپارٹمنٹ کی طرف سے اس کام کے لیے ایک سوالنامہ تیار کیا جائے گا ،جس میں ان تمام ضروری نکات کا ذکر ہوگا تاکہ ریاست کے ایک ایک خاندان اور اس کے تمام افراد کی سماجی، معاشی اور تعلیمی سطح کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جاسکیں۔ سروے کے ڈیٹا کلکشن کے لیے ہائی ٹیک سسٹم ڈیولپ کیا جائے گا۔سروے سے حاصل ہونے والی معلومات اور ڈیٹا کو آن لائن فیڈ کیا جائے گا۔ اس کے لیے انفارمیشن، ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک الگ خصوصی سافٹ ویئر اور موبائل ایپ بنا یا جائے گا۔ اس میں سروے سے جمع کی گئی معلومات کو محفوظ ر کھا جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ کچھ دنوں قبل ہی وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت بہار کے ماڈل کو اپناتے ہوئے ریاست میں ذات پر مبنی سروے کرائے گی۔
وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے میڈیا کو یہ بھی بتایا تھا کہ ہم صرف ذات پر مبنی سروے کرائیں گے۔مردم شماری تو صرف حکومت ہند ہی کرا سکتی ہے۔ہم صرف خاندانوں کا سروے کرائیں گے۔ اس میںایک ایک فرد کی سماجی ،معاشی اور تعلیمی حالت معلو م کی جائےگی۔ میرے خیال سے یہ ایک بہت بڑا فیصلہ، جسے ہماری پارٹی نے لیا ہے۔ یہ ہماری پارٹی کا عزم ہے، ہم اسے آگے بڑھائیں گے۔ رائے پور کے کنونشن میں میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے اس سلسلے کی قرارداد پاس کی تھی۔ ہم اسے آگے لے جا رہے ہیں۔ اس کے شروع ہونے میں تھوڑاوقت لگے گا، لیکن ہم خاندانوں کی مالی حالت جاننا چاہتے ہیں تاکہ یہ مستقبل کے منصوبوں میں کارآمد ہو سکے۔پہلے سروے ہو گا، پھر قانون بنے گا۔اس کے بعداس کی بنیاد پر لوگوں کو خود بخود منصوبہ جاتی مدد ملنی شروع ہو جائے گی۔اگر ریاست میں انتخابات سے متعلق ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہم اچھا کام کر نے جا رہے ہیں۔ذات کی بنیاد پر ملک گیر سروے اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کا ایک اہم ایجنڈا ہے، جس کے بارے میں اپوزیشن اتحاد کا خیال ہے کہ ہندی پٹّی کے علاقوں میں ہونے والے انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کو کافی مدد ملے گی۔قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کے ساتھ ساتھ کانگریس بھی بہار میں حکمران عظیم اتحاد کا حصہ ہے۔
واضح ہو کہ ریاست بہار کی حکومت سے وابستہ سیاسی جماعتوں بالخصوص سابق وزیر اعلیٰ لالوپرساد یادو کے راشٹریہ جنتا دل اور موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی طرح کانگریس اعلیٰ کمان بھی انتخابات میں ذات کی بنیاد پر اپنے سیاسی تانے بانے کو فٹ کرنے کی کوشش کر ہے ہیں۔ اس سلسلے میں وقت وقت پر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے بھی بیانات سامنے آ تے رہے ہیں۔ چھتیس گڑھ میں پرینکا گاندھی نے اس بات کا اعادہ کیا تھاکہ اگر چھتیس گڑھ میں کانگریس پارٹی دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو بہار کی طرح یہاں بھی ذات پر مبنی سروے کرایا جائے گا۔مگر اس حوالے سے بعض سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ذات پر مبنی سروے سے حاصل اعداد و شمار سے انتخابی حکمت عملی مرتب کرنے میں سہولت ضرور ہو سکتی ہے ، لیکن محض اس کے سہارے انتخابات کا دریا پار نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس دریا کو پار کرنے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کے باہمی اتحاد کی مضبوطی پہلی شرط ہے۔
****************************

