تاثیر،۱۷ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
۱۷؍۱۰؍۲۰۲۳ء: خدا بخش لائبریری اپنے بڑوںکو یاد کرتی رہی ہے تاکہ آنے والی نسلیں ان بڑوں کے نقش قدم پر چلیں۔گاندھی جی، رینو،دنکر،رام موہن رائے اور آج سر سید کو یاد کیا جا رہا ہے۔۱۷؍ اکتوبرسر سید کا دن ہے۔ان کی یاد میں خدا بخش لائبریری نے۱۷ اکتوبر کو گیارہ بجے دن میںان پر کتابوں کی نمائش لگائی گئی اور اسی تعلق سے ایک لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔اس نمائش میں سر سید کی تصنیفات ،ان پر لکھی گئی کتابوں کے علاوہ سر سید سے متعلق لائبریری مطبوعات بھی پیش کی گئیں۔ان میں سر سید کا اخبار سائٹفک سوسائٹی علی گڑھ ،سر سید اور علی گڑھ تحریک پر دو اہم تحریریں،سیداحمد خاں اور ہندو مسلم اتحاد ،سر سید کا مذہبی فکر،سر سید پر انگریزی مصنفین کی تحریریں قابل ذکر ہیں۔
قدرت نے ہندوستان کی دھرتی کو یہ تحفے دئے۔یہ انسانیت کے کے بڑے تحفے تھے۔راجا رام موہن رائے،سر سید اور مدن موہن مالویہ، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں Basically educationistتھے۔خوشی کی بات ہے کہ خدا بخشلائبریری نے تینوں پر اچھی اچھی کتابیں شائع کی ہیں۔
،ڈاکٹرشائستہ بیدا،ڈائریکٹر خدا بخش لائبریری نے اپنے افتتاحی کلمات میں فرمایا سر سید نے Interfaith understanding پر تبیین الکلام لکھی جو بائبل کی تفسیر ہے۔یہ اپنے عہد کا اس موضوع پر شاندار کام ہے۔سرسید احمد خاں انیسویں صدی کے ایک حقیقت و عملیت پسند رہنما اورایک تعلیمی مصلح تھے۔ ان کے نظریات کی ترجمانی اورتشریح و تفہیم پہلے سے زیادہ اب محسوس کی جارہی ہے۔سرسید کا مشن مذہبی ہم آہنگی ، رواداری او رافہام و تفہیم کا تھا۔سر سید نے ملک کو محبت کا پیغام دیا او راپنی تحریرو ں اور تقریروں میں باہا اس کو واضح کیا۔ سر سید نے نامساعد حالات میں جس استقلال و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ہمیں اسکی تقلید کرنی چاہئے۔
اس موقع پر مہمان مقرر ماہر تعلیم عبید الرحمن صاحب نے اپنے لکچر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ سر سید ڈے آج پوری دنیا میںمنایا جا رہا ہے۔تمام علیگ برادری میں ایک اتحاد پایا جاتا ہے۔ سر سید ایک شخص کا نام نہیں بلکہ ایک ادارہ اور ایک فکر کا نام ہے۔ سر سید نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس پرکتابیں بھی لکھیں۔سر سید آج بھی Inspiring ہیں۔آج طاقت کے بجائے تعلیم کا دور ہے۔تعلیم کے ذریعہ آپ پوری دنیا پر چھا کر سکتے ہیں۔سر سید نے Regional Language میں تعلیم کی وکالت کی اور اس کے لئے تحریک چلائی۔نصاب تعلیم میں بھی سر سید نے اصلاح کی۔ایسی تعلیم کا خاکہ تیار کیا جس میں صرف نوکری پیشہ ہی نہ بنے بلکہ سائنسداں اور Researcher بھی تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ گیان اور وگیان دونوں کی تعلیم ضروری ہے۔آپ ایسا کام کریں کہ آپ کے مرنے بعد بھی لوگ یاد رکھیں۔
محمد شریف صاحب(پرنسپل ،پٹنہ لا کالج) نے فرمایا کہ ہر سال سر سید ڈے پر ہر سال بہت کچھ لکھا جا تا ہے مگراب بھی وہ بہت کم ہے۔سر سید احمد خاں نے تعلیم کو اس لئے چنا کہ تمام مشکلوں کا حل صرف تعلیم میں ہے۔۔کسی ملک کو تباہ کرنا ہے تو اس کے تعلیمی معیار کو پست کر دیں اور امتحان میں چوری کی اجازت دے دیں ،وہ ملک اپنے آپ تباہ ہو جائے گا۔تعلیم کا معیار بلند ہو نا ضروری ہے۔سر سید نے عورتوں کی تعلیم پر توجہ دی۔سر سیدنے سو سال قبل جو کام کیا اس پر ہم آج سو سال بعدسونچ رہے ہیں۔آپ سب تعلیم حاصل کرنے میں ایماندار بنئے ، کام کرنے میں ایماندار بنئے۔سر سید کو اپنے اندر زندہ رکھیں۔
زیڈ ۔کے۔ فیضان صاحب(ایڈوکیٹ)نے کہا کہ ہمیں سر سید کے اصولوں کو آگے لے جانا ہے۔سر سید کی شخصیت وہ شخصیت ہے جس کا آنے والے دنوں میں قد بڑھتا رہے گا۔سر سید نے علم کے تعلق سے تحریک چلائی اور اس تحریک سے کئی ادارے قائم ہوئے۔سر سید بنیادی طور پر ریفارمر تھے۔ان کا ماننا تھا کہ مذہبی جھگڑوں میں الجھ کر ملک کی ترقی نہیں ہو سکتی۔اتحاد ضروری ہے۔
اس تقریب میں محترمہ شیزہ صاحبہ(لکھنؤ)،نصر الہدی(اٰیڈوکیٹ، پٹنہ) ، ڈاکٹر اعجاز حسین صاحب(ماہر تعلیم،پٹنہ)نے بھی سر سید سے متعلق اپنے خیالات رکھے۔اس تقریب میں شری سنجے کمار(پریس بیورو آف انڈیا) بھی موجود تھے ۔پروگرام کے آخر میں سر سید پر ایک ڈوکومنٹری فلم بھی دکھائی گئی۔

