!دیکھنا ہے کہ کس کا پلڑا بھاری رہتا ہے

تاثیر،۱۸  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

لوک سبھا انتخابات کے مد نظر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ بہارمیں فیلڈنگ شروع کر دی ہے۔پارٹی ایک طرف بوتھ لیول تک اپنے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے میں لگی ہوئی ہے تو دوسری طرف ریاست کی نتیش حکومت کے ذریعہ ذات کی بنیاد پر کرائے گئے سروے کا جارحانہ جواب بھی تیار کرنے میں بھی جی جان سے جٹ گئی ہے۔
بی جے پی بہار کے باشندگان کے اس درد کو اے ٹی ایم کی طرح استعمال کرنا چاہتی ہے، جس میں وہ پچھلی کئی دہائیوں سے مبتلا ہیں۔ بی جے پی کا یہ ماننا ہے کہ تعلیم اور روزگار کے لئے بہار سے نقل مکانی کرکے ملک کے دوسرے شہروں کی خاک چھا ننے والوں کے لئے ان کی حکمت عملی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔بی جے پی ’’بدلیں گے سرکار، بدلیں گے بہار‘‘ مہم کے تحت بہار کی بے روزگاری اور نقل مکانی سے جوجھ رہے بہاری نوجوانوں کو نتیش حکومت کے خلاف غصہ دلا کر ذات پر مبنی سروے سے پیدا سیاسی حالات کو پلٹ دینا چاہتی ہے۔بی جے پی کے مطابق بہار میں ملازمت اور تعلیم کے لیے 25 برسوں سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ ’’بدلیں گے سرکار، بدلیں گے بہار‘‘ مہم کے ذریعہ بی جے پی ریاست کے عوام کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ 10 لاکھ نوکریاں فراہم کرنے کے سلسلے میںتیجسوی یادو کا وعدہ کھوکھلا ہے۔ اس کے علاوہ بے روزگاری کی وجہ سے نقل مکانی کے لیے نتیش کمار کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز نے 2020 میں ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 40 لاکھ بہاری ملازمتوں کے لیے نقل مکانی کرکے دوسری ریاستوں میںجاتے ہیں۔مبینہ غلط تعلیمی پالیسی اور یونیورسٹیوں میں لیٹ سیشن کی وجہ سےپانچ سالہ گریجویشن اسکیم کی وجہ سے طلبا و طالبات کی نقل مکانی کے اعداد و شمار اس میں شامل نہیں ہیں۔ دہلی، نوئیڈا، بھوپال، بنگلورو، حیدرآباد، علی گڈھ اور وارانسی کے تعلیمی اداروں میں بہاری طلبا وطالبات کا ہجوم ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بہار کی نصف آبادی نقل مکانی سے متاثر ہے۔ پچھلے 25 سالوں میں ریاست کے 50 فیصد گھروں میں سے کسی نہ کسی کو نوکری یا تعلیم حاصل کرنے کے لیے بہار سے باہر جانا پڑا ہے۔ حال ہی میں ذات پر مبنی سروے میں حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ اس وقت 53 لاکھ 72 ہزار 22 بہاری ریاست سے باہر ہیں۔ اصلی تعداد اس سے بھی زائد ہوسکتی ہے، اس کا امکان زیادہ ہے۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ بہار کے 6 کروڑ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 2 لاکھ نوکریاں کافی نہیں ہیں۔
بی جے پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت بہارنے ذات پر مبنی سروے کی رپورٹ جاری کر دی ہے، لیکن ذاتوں کی معاشی حالت کے حقائق کو عام نہیں کیا ہے۔ سروے کے یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہو سکتے ہیں۔ سنٹر فار مانیٹرنگ آف انڈین اکانومی نے گزشتہ مارچ میں بے روزگاری کی شرح 7.8 فیصد بتائی تھی۔ پولیس بھرتی امتحان اور بہار ٹیچر کی بھرتی، 2023 حالیہ اضافہ نقل مکانی کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ نقل مکانی کی صورتحال ایسی ہے کہ بہار کے کئی دیہاتوں میں نوجوان کم ہی نظر آتے ہیں۔ گھر میں اکیلے رہنے والے بزرگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
2024 کے لوک سبھا انتخابات کے پہلے تک بی جے پی نقل مکانی کے لئے مجبور بہاری نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کے اس زخم کو کرید کر ہرا رکھنا چاہتی ہے۔بی جے پی نے اپنی مہم ’’ بدلیں گے سرکار، بدلیں گے بہار‘‘ کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آپشن دیا ہے۔ اس کے ذریعے بی جے پی پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارت کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کے دفتر نے 2020 میںسمپل رجسٹریشن سسٹم(ایس آر ایس) رپورٹ جاری کی تھی۔ اس رپورٹ میں چونکا دینے والی یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ بہار کی 57.2 فیصد آبادی 25 سال سے کم عمر کی ہے۔ حال ہی میں بہار کی آبادی 13 کروڑ بتائی گئی تھی، اس لیے بہار میں 6.5 کروڑ نوجوان ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نوجوان بے روزگار ہیں۔
بہار میں 2 اکتوبر کو جب ذات پر مبنی سروے کی رپورٹ جاری ہوئی تھی، تو اسے نتیش کمار کا ماسٹر اسٹروک کہا گیا تھا۔مانا گیا کہ’’ سیاسی ہندوتو‘‘ کا مقابلہ ذات پر مبنی سیاست سے کرنے کی حکمت عملی سےعظیم اتحاد کو فائدہ ہوگا۔ یعنی 63 فیصد او بی سی آبادی کے متحرک ہونے سےجے ڈی یو، آر جے ڈی ، کانگریس اور بائیں محاذ کے اتحاد کو انتخابی فائدہ مل سکتا ہے۔ اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ذات پر مبنی سروے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی تھی ،لیکن رپورٹ کے جاری ہوتے ہی ایک کے بعد ایک سوال اٹھنے لگے۔ کاسٹ پولٹکس کرنے والے زیادہ تر رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ذات کی گنتی میں دھاندلی کی گئی ہے۔ جہاں تک انتہائی پسماندہ طبقے کے ووٹوں کا تعلق ہے، وہ کم و بیش تمام جماعتوں میں تقسیم ہیں۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے او بی سی ووٹروں نے بھی این ڈی اے کو ووٹ دیا ہے۔ اس بات کا بالکل امکان نہیں ہے کہ ذات پر مبنی سروے کے بعد ووٹنگ کا یہ انداز اچانک بدل جائے گا۔ بہر حال آنے والے انتخابات میںیہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ 63 فیصد او بی سی اور 50 فیصد بے روزگار نوجوانوں کے تانے بانے سے بنائی جانے والی انتخابی سیاست میں کس کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔