ذات پر مبنی مردم شماری بہاریوں کے ساتھ کھلواڑ: آر سی پی سنگھ

تاثیر،۱۱  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

بہار شریف 12 اکتوبر(محمد دانش)بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کی رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد چھیڑا گھماسان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ایک طرف حکومت اپنی تعریف کر رہی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں حکومت پر الزامات لگا رہی ہیں۔ سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر آر سی پی سنگھ نے ذات پر مبنی مردم شماری پر بڑا سوال اٹھایا ہے۔آر سی پی سنگھ نے کہا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری میں مسلم کمیونٹی کی شیعہ برادری کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عیسائیوں کو بھی ہریجن کا لفظ استعمال کرتے ہوئے شامل کیا گیا ہے اور بدھ اور جین کا کوئی نام و نہیں ہے۔آر سی پی سنگھ نے کہا کہ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ بہار میں تمام مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ نالندہ مہاویر اور بدھ کی نگری ہے تو ان مذاہب کے ماننے والے کہاں گئے؟ نتیش کمار نے بہار کی شاخ کو تار تار کرنے کا کام کیا ہے۔ آر سی پی سنگھ نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر براہ راست الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بنیا برادری کے لوگوں کے ساتھ بھی ذات پر مبنی مردم شماری میں امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہی نتیش کمار جنہوں نے شیعہ بورڈ بنایا تھا انہوں نے اس مردم شماری میں شیعہ برادری کے لوگوں کو چھوڑ دیا۔ اس لیے اس مردم شماری کے اعداد و شمار پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نتیش کمار نے بہار یوں کے ٹکڑے کر کے بہاری کے وقارلکے ساتھ بڑا کھیل کھیلا ہے۔