راہول گاندھی کار پینٹر بنے، کب کہاں جاءیں گے، کہنا مشکل، ریلوے اسٹیشن، سلیپر کلاس میں سفر،قلی بنیں، کسان بنیں، ٹریکٹر چلاءے، اور دیکھیں آگے کیا کیا۔۔2024 میں…؟ ایم اے فردین‎

تاثیر،۳  اکتوبر:- ایس -ایم-حسن

خصوصی اسٹوری/ نجانے 2024 کے آتے آتے راہول گاندھی جی کیا کیا بننا پسند کریں گے کار پینٹر بن گئے کاریگروں کے درمیان پانچ گھنٹے گذارے اسی طرح قلی کے درمیان بھی اپنا وقت خوب دیے اور کسان کے کھیتوں میں بھی ٹریکٹر چلانے سے لیکر دھان بونے تک کسانوں کے ساتھ رہے، راہول گاندھی جی میں ایک خوبی خوب ہے کہ وہ جہاں جاتے ہیں ان جیسا ہو جاتے ہیں، غریبوں سے ملاقات کے دوران گھر کھانے پر سب کو لے آءے جہاں سونیا گاندھی پرینکا گاندھی راہول گاندھی نے لوگوں کے ساتھ گھل مل کر کھانا کھاءے، یہ بہترین خوبیاں ہیں راہول گاندھی جی میں، مگر سب تیاری مودی جی کو شکست دینا ہے، آسان تو نہیں مشکل تو ہے’مگر راہول گاندھی کے گراف میں اضافہ ہوا ہے، کل کیا ہوگا کہنا مشکل ہے مگر مقبولیت سیاست میں اب خوب ہونے لگی ہے اور وزیراعظم کو کسی نہ کسی بہانے تنقید کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے، اب آنیوالے دنوں میں پانج ریاستوں کے الیکشن میں کانگریس کی کارگذاری کیا رہتا ہے وہ دیکھنا ہے اور سب کچھ اگر کرناٹک کے جیسا نتائج ملے تو پھر انڈیا جماعتوں کے لیے بھی صحت مند نتائج کی امید کر سکتے ہیں
راہول گاندھی قلی بننے کے بعد ریل سفر سلیپر کلاس میں مسافروں سے ملے اور سفر سروس میں مشکلات و دیگرے معلومات حاصل کیے، قلی بننے کا ویڈیو واءیرل ہوا تو قلی کی نیی نسل نے اپنے درمیان راہول گاندھی کو پاکر اس قدر خوشی سے سرشار ہوءے کے دعاءیں دینے لگے 2024 کے الیکشن میں کامیابی اور قلی خاندان کے لوگوں میں جوش و خروش آگیا اور اگلا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں کہتے ہیں کہ سیاست خاندانی ہوا تو بھی آتے آتے ہی سیکھنے میں آتا ہے ادھر بھارت جوڑو یاترا کے بعد سے عوام کے درمیان رہنے کا اور عام لوگوں سے ملنے اور انکی سادگی و محبتوں کا قاءیل ہو گیے ہیں انکو بھارت جوڑو یاترا نے لاکھوں لاکھ لوگوں سے قریب سے ملنے اور ہندوستان کے عوام کی خدمت کا جذبہ سے سرشار ہوءے ہیں اور عوامی تکالیف کو محسوس کرنے لگے ہیں ورنہ اتنی مصیبت بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے سے کون اٹھاتا ہے ہزاروں کیلومیٹر کا یاترا سے زمینی رابطہ اور حقیقی سیاست کا منظر پس منظر دیکھکر عوام نے گلے لگاءے اور مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور ایک بہترین رہبر کے طور پر ابھرے ہیں اور اس یاترا کا پہلا فاءیدہ عوام نے تحفہ میں کرناٹک دیا اور جس سے عوام میں کانگریس کے تییں اعتماد لوٹ آنے لگا ہے
ابھی راہول گاندھی جی کو سیاست میں اور زیادہ کہنہ مشق ہونے کی ضرورت ہے انکے ساتھ کویی بہت زیادہ بھروسہ مند سیاستداں ہونے کی ضرورت ہے جو ہر ایک جگہ پر بہترین اسپیچ اور نوٹ بنا کر دے سکیں جس سے کے وہ عوام کے درمیان انکی ضرورت اور احساسات کا اظہار کرسکیں اور بہتر انداز میں، آج بی جے پی کے پاس جسطرح کا پروپگنڈا میڈیا ہے اور راہول گاندھی جی کی تمام کارکردگی پوزیٹو سوچ وفکر کو نیگیٹیو لاءین میں ڈالنے کا ہنر رکھتے ہیں آءیی ٹی سیل، اسکا مقابلہ کرنے کے لئے بہت strong stmnt کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں ایک ٹیم کی ضرورت ہے جو قدم قدم پر رہبری کرسکے اس میں شک نہیں کہ اب پہلے سے لاکھ گنا سیاسی سمجھ رکھتے ہیں اور عوام میں کانگریس کی شاخ بحال ہونے لگی اور مقبولیت کی بلندی پر آنے لگی ہے
“راہل گاندھی لگتا ہے اب سیاست کے سارے ہنر سیکھ چکے ہیں ۔وہ سمجھ چکے ہیں کہ جاہلوں کو خاموش رکھنے کے لئے کب پارلیمنٹ میں انگریزی بولنا ہے اور لہکانے کے لئے کب ھندی۔کب کسی کی نیند اڑانے کے لئے کسانوں کے کھیت میں پہنچ جانا ہے کب کسی ریلوئے اسٹیشنوں پر موجود قلیوں کے بیچ۔ دراصل یہ بندہ لگتا ہے فیصلہ کر چکا ہے کہ سیاست کرنا ہے تو دور کی سیاست کرنا ہے گویا پی ایم عہدے کے لئے اپنی جان نہیں کھپانا۔
  آج راہل گاندھی کے ایک قریبی بتانے لگے کہ بندہ مطالعے کا بہت شوق رکھتا ہے۔فرصت کے لمحات میں ان کا زیادہ وقت مطالعے میں ہی گزرتا ہے۔اس کے علاؤہ اس بندے میں جو ایک بڑی خوبی ہے وہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بڑوں کی بڑی عزت کرتے ہیں اور خرابی یہ ہے کہ وہ حد سے زیادہ جذباتی بھی ہیں۔جسے لے کر کبھی کبھی ان کی ماں سونیا گاندھی بھی پریشان ہو جاتی ہیں”
راہول گاندھی جی یاترا کے ذریعے سے عوامی تحریک بنکر ابھرے ہیں اور وزیراعظم کیلیے ایک طرح سے سیاسی درد سر، اسلیے کے اب آہستہ آہستہ سیاسی ماحول اور عوام تبدیلی چاہتی ہے اور انڈیا گٹھ بندھن سے کانگریس پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے لگی ہے
قلی کے درمیان حالیہ دورہ اور انکے درمیان یونیفارم پہن کر حقیقی قلی کے روپ میں سر پر بوجھ اٹھاءے، قلی اپنے درمیان راہول گاندھی کے ساتھ ملکر حوصلہ ملا اور قلی بہت خوش ہوئے قلیوں کے اندر سیاسی شوق پیدا ہوا اور اپنے محبوب لیڈر کو اپنے درمیان پاکر خوش ہوءے قلی برادری کے لوگ۔۔۔۔۔۔۔یہ‌تو سچ ہے کہ راہول گاندھی کے اندر عوامی تحریک سے جوڑنے اور خدمات کا جذبہ رکھتے ہیں اور اس لیے وہ پھر سے یاترا تحریک کے ذریعے سے عوامی مقبولیت اور اپنے کو انکے درمیان پاکر حقیقی خوشی کا اظہار کرچکے ہیں
تمام سیاسی جماعتوں کی نگاہ 2024 ہے اور اب دیکھنا ہے کہ عوام اپنا اعتماد کس سیاسی پارٹی کو ووٹ دیکر کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے، عوام میں مقبولیت جسطرح سے وزیراعظم نے حاصل کی ہے اسپر راہول گاندھی شفقت حاصل کر سکتے ہیں کیا، اسکا فیصلہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ۔۔۔۔۔۔۔2024 کسکے لیے بہتر ثابت ہوگی، جبکہ مودی جی نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ پھر میری واپسی ہوگی تیسری بار، جبکہ عوام بھی تبدیلی کے خواہاں ہیں مگر کیا کانگریس کرناٹک کی مثال دوبارہ قائم کر سکتی ہے اسلیے کے پانچ ریاستوں کے الیکشن بھی ایک بڑی تبدیلی لا سکتی ہے اگر ان ریاستوں میں کانگریس نے جیتی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ایک بات تو طے ہے کہ راہول گاندھی اب لیڈرشپ کی قابلیت حاصل کر لی ہے، قلی بنکر، کسان بنکر، عوام کی ضروریات کا ہیرو بنکر۔۔۔۔۔آکے آگے دیکھیے سیاسی صبح امید کی کرن لیکر کب راہول گاندھی کے سیاسی قسمت کا سکندر کب کہلاتا ہے……… راہول گاندھی جی کہتے ہیں کہ اپنے عوامی بوجھ اٹھاءیں گے اور غریبوں کو اسکا حق دلانے میں کویی کسر نہیں چھوڑی جائے گی آپ ڈریں نہیں بلکہ آپ اپنی بات کھلکر میرے ساتھ کریں، یہ ملک جمہوریت پر یقین رکھتا ہے اور اپنے حق کی آواز بلند کریں ہم ساتھ ہیں آپکے!