سلوواکیہ میں روس نواز حکومت بننے کا امکان، رابرٹ فیکو بن سکتے ہیں وزیراعظم

تاثیر،۳  اکتوبر:- ایس -ایم-حسن

بریتیسلاوا، 3 اکتوبر: یورپی ملک سلوواکیہ میں روس نواز حکومت کے قیام کے امکانات ہیں۔ سلوواکیہ کے عام انتخابات کے نتائج کے بعد روس نواز رابرٹ فیکو کے ایک بار پھر وزیر اعظم بننے کی امید ہے۔ رابرٹ فیکو کو روس نواز سمجھا جاتا ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے حکومت بننے کی صورت میں یوکرین کو دی جانے والی فوجی امداد روکنے کی بات کی تھی۔
سابق وزیراعظم رابرٹ فیکو کی بائیں بازو کی جماعت سمیر کو عام انتخابات میں 22.9 فیصد ووٹ ملے۔ ایسی صورت حال میں سمیر پارٹی کو 150 ایم پی کے ساتھ سلواکیہ کی پارلیمنٹ میں 42 سیٹیں ملیں گی۔ اگر سمیر پارٹی اتحاد بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو 59 سالہ رابرٹ فیکو چوتھی بار سلواکیہ کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ سلوواکیہ کی صدر زوزانا کیپوٹووا کو امریکہ نواز سمجھا جاتا ہے اور رابرٹ فیکو نے ان پر امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ جس کی وجہ سے صدر کیپوٹووا نے رابرٹ فیکو کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔
فیکو کے سابق معاون پیٹر پیلیگرینی کی بائیں بازو کی جماعت ہالاس کو 14.7 فیصد ووٹ ملے۔ پیٹر نے 2020 کے انتخابات میں جھگڑے کی وجہ سے فیکو سے تعلقات توڑ لیے۔ اب یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ رابرٹ فیکو کی حمایت کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ ایک اور روس نواز جماعت سلواک نیشنل پارٹی نے 10 اور کنزرویٹو کرسچن ڈیموکریٹس پارٹی نے 12 نشستیں حاصل کی ہیں۔
رابرٹ فیکو کو پروگریسو سلواکیہ پارٹی سے مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ جماعت مغرب کی حامی سمجھی جاتی ہے اور اس نے 18 فیصد ووٹ حاصل کر کے 32 نشستیں حاصل کی ہیں۔ عام انتخابات میں یہ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ اگر رابرٹ فیکو اتحاد بنانے میں ناکام رہے تو پروگریسو سلوواکیہ پارٹی حکومت بنا سکتی ہے۔ سلواکیہ کا الیکشن یوکرین کی جنگ کے لیے بھی اہم ہے اور رابرٹ فیکو کی حکومت بننے سے یورپی یونین اور نیٹو کے درمیان اتحاد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔