سپریم کورٹ نے منیش سسودیا کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ رکھا

تاثیر،۱۷  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 17 اکتوبر: سپریم کورٹ کے جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی بنچ نے منگل کو منیش سسودیا کی ضمانت کی عرضی پر دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ 16 اکتوبر کو عدالت نے ای ڈی سے پوچھا تھا کہ منیش سسودیا کے خلاف الزامات طے کرنے پر بحث ابھی تک کیوں نہیں شروع ہوئی ہے۔ آپ کسی کو اس طرح جیل میں نہیں رکھ سکتے۔
ای ڈی نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ہم اس معاملے میں عام آدمی پارٹی کو بھی ملزم بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ قبل ازیں سماعت کے دوران عدالت نے ای ڈی پر بڑے سوالات اٹھائے تھے اور پوچھا تھا کہ وہ سرکاری گواہ کے بیان پر کیسے اعتماد کریں گے۔ کیا یہ بیان قانون میں قابل قبول ہوگا؟ کیا یہ بات کہی سنی نہیں ہے ؟ عدالت نے کہا تھا کہ سب کچھ ثبوت پر مبنی ہونا چاہیے ورنہ جرح میں کیس دو منٹ میں گر جائے گا۔
5 اکتوبر کو سماعت کے دوران منیش سسودیا کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا تھا کہ سسودیا کے پیسے وصول کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ سسودیا کا وجے نائر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ نائر پارٹی کا کارکن تھا اور وہ آتشی اور سوربھ بھردواج کو رپورٹ کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سسودیا 26 فروری سے جیل میں ہیں۔
سماعت کے دوران ای ڈی نے سسودیا کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پالیسی کو شفاف ہونا چاہیے تھا۔ جہاں شراب پالیسی کے تحت پیسہ کمانے کی سازش رچی گئی، وہیں پیسے لے کر چھوٹ فراہم کی گئی۔ ای ڈی نے کہا کہ ایک طرف یہ لوگ پالیسی میں تبدیلی کر رہے تھے اور دوسری طرف وجے نائر شراب کے تاجروں سے مل کر رشوت لے رہے تھے۔ رشوت براہ راست وجے نائر نے مانگی تھی۔ ای ڈی نے کہا تھا کہ وجے نائر منیش سسودیا کے کہنے پر کام کر رہا تھا۔
4 اکتوبر کو سماعت کے دوران جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی بنچ نے پوچھا تھا کہ مبینہ طور پرجس سیاسی جماعت کوفائدہ پہنچا، اسے ملزم کیوں نہیں بنایا گیا؟ سماعت کے دوران سنگھوی نے کہا تھا کہ اس معاملے کے سبھی ملزمین کو ضمانت مل گئی ہے، لیکن ہائی ٹارگیٹ لوگوں کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی ہے۔ سنگھوی نے کہا تھا کہ کیس میں 50 ہزار سے زیادہ دستاویزات اور پانچ سو سے زیادہ گواہ ہیں۔ سسودیا سے ایک پیسے کی بھی منی لانڈرنگ کا پتہ نہیں چلا ہے۔ سرکاری گواہوں کے بیانات میں سسودیا کا لنک نہیں ملا ہے۔ سنگھوی نے کہا تھا کہ تمام الزامات منیش سسودیا کے قریبی ساتھی وجے نائر پر رک جاتے ہیں۔
سی بی آئی نے منیش سسودیا کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل جوابی حلف نامہ میں سی بی آئی نے سسودیا کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سسودیا کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔ سی بی آئی نے کہا ہے کہ سسودیا ایسے معاملات میں ضمانت کے لیے طے شدہ ٹرپل ٹیسٹ کو بھی پورا نہیں کرتے ہیں۔ سی بی آئی نے سسودیا کو یہ کہتے ہوئے ضمانت نہ دینے کی درخواست کی ہے کہ وہ پہلے ہی ثبوت کو تباہ کر چکے ہیں اور پوچھ گچھ کے دوران بھی تعاون نہیں کر رہے تھے۔ وہ سیاسی طور پر بھی ایک بااثر شخص ہیں۔ ایسی حالت میں سسودیا کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ سی بی آئی نے اپنے حلف نامہ میں منیش سسودیا کی بیوی کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیوی کی بیماری کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کی بیماری کا علاج گزشتہ 23 سال سے جاری ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ بھی ان کی ضمانت کی بنیاد نہیں بن سکتی۔