تاثیر،۹ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن
بیدر۔9؍اکتوبر۔ یونائیٹیڈ کونسل فار ایجوکیشن اینڈ کلچر کے زیر اہتمام اور فیڈریشن آف مائناریٹی ایجوکیشن آرگنائزیشن،وارسین حرف و قلم اورنگ آباد،غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی،سالار پبلیکیشن ٹرسٹ بنگلور،MEFASAمولانا آزاد فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن اینڈ سوشیل امیٹی کولکتہ، اُردو میگزین گل بوٹہ اورشاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس بیدر کے اشتراک سے ملک گیر سطح پر غزل سرائی کا مقابلہ ” رنگ غزل” کے عنوان پرجو بغیر موسیقی اور ساز صرف آواز اور انداز میں غزل سرائی کا ملک گیر سطح کا مقابلہ کا آغاز بیدر کے شاہین ادارہ جات کے العزیز آڈیوٹیوریم میں شاندار پیمانے پر آغاز ہوا۔ پروگرام کی صدارت محترمہ مہر سلطانہ صاحبہ ڈائریکٹر شاہین ادارہ جات بیدر نے کی ،جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے محترمہ شائستہ یوسف صاحبہ صدر محفلِ نساء بنگلور، جبکہ مہمانان کی حیثیت سے محترمہ ذکیہ بیگم صاحبہ ڈائریکٹر شاہین ادارہ جات بیدر ،جناب محمود شاہد صاحب ایڈیٹر وسیلہ چینل آندھرا پردیش ،جناب سید خورشید قادری صاحب ای سی او محکمہ تعلیماتِ عامہ بیدر ،جناب مرزا انصار اُللہ بیگ صدر کرناٹک راجیہ اُردو ٹیرچس اسو سی ایشن ضلع بیدر ،ضلعی کنوینرس رنگ ِ غزل جناب شیخ مسیح الدین صاحب اورت محترمہ روحی سجِیل فاطمہ صاحبہ شریک تھے۔رنگِ غزل پروگرام میں تقریبا92فنکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگاتے ہوئے اپنے فن غزل سرائی کا بہترین مُظاہرہ پیش کیا۔منتخب فنکاردوسرے مرحلہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرسکتے ہیں ۔رنگِ غزل کے اختتام کے موقع پر ایک ’’کاروان رنگِ غزل‘‘ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس سے روانہ ہوا جس کو محترمہ شائستہ یوسف صاحبہ ، محترمہ مہر سلطانہ صاحبہ ،اور جناب خواجہ پٹیل صاحب پرنسپال شاہین کالج بیدر نے سبز پرچم دکھاکر کاروان کو روانہ کیا ۔’’کاروانِ رنگِ غزل ‘‘شہر کے مُختلف راستوں سے گزرتا ہوا بیدر شہر کے قدیم تاریخی یونیوسٹی ’’مدرسہ محمود گاوان ؒ‘‘ پہنچ کر مدرسہ محمود گاوان کی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ۔پھر یہاں سے کاروانِ رنگِ غزل شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس واپس جا پہنچا ۔اس موقع پر محترمہ شائستہ یوسف صاحبہ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ رنگِ غزل کے انعقاد کا مقصد بغیر ساز و موسیقی کے آواز کا جادو جگانے والے ملک بھر کے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ان کی کی فنکارانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔ساز و موسیقی پر تو ہم غزل سرائی کو اب تک دیکھا ہے مگر ہم کوشش کررہے ہیں کہ بغیر ساز و موسیقی کے بھی اپنی آواز کا جادوجگانے والے فنکار ا س ملک کے ہر کونے میں ہمیں ملیں گے ،مگر ہمیں اس طرح کے پروگرام کا انعقاد کرکے ایسے فنکاروں کی تلاش کرتے ہوئے انھیں انعام و اعزاز سے نوازکر ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔جناب سید خورشید قادی نے کہا کہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے پروگرام کے ضلعی کنوینرس جناب شیخ مسیح الدین صاحب اور محترمہ روحی سجِیل فاطمہ صاحبہ کی کافی جدوجہد اور محنت رہی ۔اس موقع پر محترمہ مہر سلطانہ صاحبہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بغیر موسیقی اور ساز کے آواز کا جادو جگانے والے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے اس طرح کے پروگرام گلی گلی و کوچے کوچے میں موجود آواز کے فنکاروں کو موقع فراہم کرنا بہت بہتر اور قابلِ ستائش اقدام ہے ۔آخر میں تمام مہمانانِ خصوصی کے ہاتھوں رنگِ غزل میں اپنی آواز سے سامعین کو محظوظ کرنے والے تمام92فنکاروں کو اسنادات تقسیم کئے گئے ۔غزل گوئی کا شغل رکھنے والے اشخاص ابھی بھی دوسرے مرحلے سے قبل اپنا نام رجسٹریشن کرواکر منتخب شعراء کے کلام بغیر موسیقی و ساز کے اپنی آواز میں بھیج کر اپنا نام رجسٹریشن کرسکتے ہیں ۔واضح ہوکہ رنگِ غزل پروگرام میں غزل کی اسکرپٹ اپنی کسی بھی زبان میں تحریر کرکے اپنی آواز کا جادو جگا سکتے ہیں۔ فارم کے حصول کیلئے اس لنک https://rang-e-ghazal.org/participation-form/پر جائیں۔

