تاثیر،۲۶ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
راجستھان اسمبلی انتخابات میں اب تک کسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت کی لہر نہیں نظر آ رہی ہے۔ گہلوت حکومت کے خلاف کچھ لوگوں میں عدم اطمینان ضرور ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ریاست میں بی جے پی بے انتہا سرد مہری اور گروہ بندی کا شکار ہے۔ یہ صورتحال راجستھان کی سیاست کے لیے کوئی حیران کن نہیں ہے۔ راجستھان کے ووٹروں کی ایک بڑی خاصیت یہ ہے کہ ان کی ایک بڑی اکثریت آخری وقت میں یہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیں گے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ووٹروں کی تقریباً ایک تہائی ووٹرز بنیادی طور پر اپنے مقامی امیدواروں کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ ٹرینڈ یہ بھی ہے کہ تقریباً 20 فیصد ووٹروں نے گزشتہ دو دہائیوں میں مستقل طور پر آزاد یا تیسری پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیا ہے۔
بی جے پی اور کانگریس، اس بار دونوں کی حکمت عملی ان منحرف ووٹروں کو راغب کر نے کی رہی ہے۔ تاہم، اس الیکشن میں ایک اہم تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ دونوں ہی جماعتوں کی توجہ کسی کرشمائی یا قابل اعتماد شخصیت کو سامنے رکھ کر ووٹ حاصل کرنے پر ہے۔ اس کے لیے کانگریس نے سی ایم اشوک گہلوت کا چہرہ سامنے کر دیاہے جبکہ بی جے پی نے پی ایم نریندر مودی کو اپنا ٹرمپ کارڈ مان رکھا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ راجستھان کی سیاست میںدرباری سازش اور پارٹیوں کے اندر بغاوت کی تاریخ رہی ہے۔ 1980کی دہائی میں کانگریس کے تین وزرائے اعلیٰ ہوئے، جو باری باری سے عہدے پر فائز رہے۔ مثال کے طور پر، راجستھان کے پہلے دلت وزیر اعلیٰ جگناتھ پہاڑیا کوکانگریس ہائی کمان نے گروہ بندی کو متوازن کرنے کے لیے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ اس وقت راجستھان کانگریس کے اندر گروہ بندی میں برہمن اور جاٹ ایلیٹ کلاس کا غلبہ تھا۔
1990کی دہائی میں، بھیرو سنگھ شیخاوت، اشوک گہلوت اور (بعد میں) وسندھرا راجے جیسے لیڈروں کے درمیان اتفاق رائے ہوا کہ ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کو ہوا نہیں دینی ہے۔ تصور کریں کہ کس طرح اشوک گہلوت نہ صرف 2020 میں سابق ریاستی صدر سچن پائلٹ کے تختہ پلٹ کی کوشش سے نہ صرف بچ گئے، بلکہ پارٹی ہائی کمان کی طرف سےاپنے خلاف چلی مہم کو بھی بے اثر کر دیا۔ اس کے بعد ہی ا شوک گہلوت راجستھان کی سیاست کے ایک اعلیٰ لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ یہ بات کانگریس پارٹی کے ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ بدعنوانی کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ ایم ایل ایزکے ٹکٹوں میں زبردست کٹوتی کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ کانگریس کے اندرونی سروے میں بھی بڑی تعداد میں سیٹوں پر حلقہ کی سطح پر شدید عدم اطمینان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بہر حال، گہلوت اپنے زیادہ تر ایم ایل ایز اور وزراء کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں، اور غالباََ وہ ایسے بی ایس پی اور آزاد ایم ایل ایز کو بھی ٹکٹ د لواد ینے کی پوزیشن میں ہیں، جو ان کے وفادار ہیں۔
سچن پائلٹ کے حامیوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے، لیکن پارٹی نے جس طرح سے ٹکٹوں کی تقسیم کی ہے، اس سے ایسا نہیں لگتا کہ پائلٹ نے جو گہلوت حکومت میںبدعنوانی کا ایشو اٹھایا تھا،اس پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ الزام ہے کہ گہلوت نے ذاتی وفاداری کے بدلے اپنے ایم ایل ایز پر آنچ نہیں آنے دی ہے۔دوسری جانب یہ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو بیوروکریسی کے ذریعے اپنی فلاحی اسکیمیں چلانے کی آزادی حاصل ہے ۔ گہلوت کی اس حکمت عملی کو شاید گانگریس اعلیٰ کمان نے بھی تسلیم کرلیا ہے اور یہ مان لیا ہے کہ اپنی سماجی بہبود کی اسکیم کو آگے بڑھاکرکانگریس گہلوت کی قیادت میں الیکشن لڑ رہی ہے۔حالانکہ سچن پائلٹ تین دہائیوں سے راجستھان میں کانگریس کی سیاست پر گہلوت کی گرفت کو کمزور کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی راجستھان میں کافی مقبول ہیں، اس لیے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کو ان سے سخت ترین مقابلے کا سامنا ہے۔ پہلی فہرست میں، بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کے لیے کئی ممبران پارلیمنٹ کو میدان میں اتاردیا ہے، جو وزیر اعظم کے ذاتی سفیر کے طور پر مؤثر طریقے سے الیکشن لڑیں گے۔ بہر حال سیاسی مبصرین کا یہی ماننا ہے کہ جے پی راجستھان اسمبلی الیکشن کو قومی انتخابات کے سیمی فائنل کے طور پر لڑ رہی ہے اور پی ایم نریندر مودی ذاتی مینڈیٹ کی تلاش میں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ راجستھان کی 200 اسمبلی سیٹوں کے لیے 25 نومبر کو ووٹنگ ہوگی ۔ ووٹوں کی گنتی کے ساتھ رزلٹ کا اعلان 3 دسمبر کو ہوگا۔ اس سے قبل راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کانگریس پارٹی کی دو ضمانتوں کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت بنتے ہی ریاست کے 1.05 کروڑ خاندانوں کو 500 روپے میں کچن گیس سلنڈر دیا جائے گا۔اس کے علاوہ ’’گرہ لکشمی گارنٹی‘‘ کے تحت خاندان کی خاتون سربراہ کو سال میں10 ہزار روپےدئے جائیں گے۔ یہ رقم دو سے تین قسطوں میں دستیاب کرائی جائے گی۔اس اعلان پر تنقید کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا ہے کہ ’’ریوڑی‘‘ بانٹنے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ جبکہ راجستھا ن کی زمینی حقیقت سے واقف سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس بار بھی ریاست میںمذہبی منافرت کی آگ پر چناوی روٹی سینکنے کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔
*****************************

