تاثیر،۶ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن
قاہرہ،6اکتوبر:مصر کے کم از کم دو بینکوں نے ملک سے باہر مصری پاؤنڈ کے ڈیبٹ کارڈز کا استعمال معطل کر دیا ہے تاکہ ملک میں کرنسی کی قلت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکا جا سکے۔کئی صارفین کے مطابق عرب افریقن انٹرنیشنل بینک نے بدھ کو نوٹس بھیجا اور عرب انٹرنیشنل بینک نے جمعرات کو معطلی کا اعلان کرتے ہوئے ایک نوٹس بھیجا ہے۔عرب افریقی بین الاقوامی بینک کے کسٹمر کے نمائندے نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ ملک میں زرمبادلہ کی کمی ہے۔مصر میں ایک بینکر نے کہا کہ تمام بینکوں کو کرنسی کی قلت کے نتیجے میں ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے لیکن ہر ایک الگ الگ فیصلے کر رہا ہے۔ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز کی ایک بڑی تعداد مصری پاؤنڈ کی کم سرکاری شرح مبادلہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے اکثر متحدہ عرب امارات میں سونے، موبائل ٹیلی فون اور دیگر مصنوعات کی ہول سیل خریداری کے لیے کارڈز کا استعمال کرتی رہی ہے۔ڈیبٹ کارڈ کے لین دین پر ڈالر سے تقریباً 31 پاؤنڈ کی سرکاری شرح پر چارج کیا جاتا ہے جبکہ بلیک مارکیٹ میں ایک ڈالر تقریباً 40 یا 41 پاؤنڈز میں فروخت ہوتا ہے۔ اس وسیع فرق کے باوجود مصر نے مارچ سے اپنی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں مستحکم رکھا ہوا ہے۔بینکر نمائندے نے بتایا کہ امکان ہے کہ دوسرے بینک بھی اسی طرح کی پابندیاں اگلے ہفتے متعارف کرائیں گے۔ حالیہ مہینوں میں بینکوں نے مصر میں غیر ملکی کرنسی خریدنے اور بیرون مصر کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ غیر ملکی کرنسی وصول کرنے پر حد بندی عائد کی ہے۔

