مقبوضہ کشمیر میں مہنگائی اور حکومت کے نادر برتائوکے خلاف زبردست مظاہرے

تاثیر،۷  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن

مظفرآباد،7اکتوبر:مقبوضہ کشمیر میں پچھلے کئی ہفتوں سے صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے اور عوام بے زوزگاری مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں اضافہ کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ درجنوں مظاہرین کو نہ صرف گرفتار کرلیا گیا بلکہ ان کے خلاف مقدمے بھی جاری کیا گیا اور پولیس نے دھرنوں مقام پر کیمپوں کو اکھاڑڈالا ۔ اکھاڑنے کے خلاف لوگوں نے سڑکوں پر بھرپور اجتجاج کیا ۔ بازار بند کئے گئے اورسڑکوں کو بلاک کیا گیا مظاہرین نے ہر جگہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ جس کی وجہ سے پولیس کو مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس استعمال کیا گیا ۔ مظاہرین نے عوامی ایکشن کمیٹی تشکیل دی ۔ جو ریاست میں حکومت کی زیادتیو ںکے خلاف سرپااحتجاج ہوگئی ہے۔ حالات اتنے بگڑ گئے کے حکومت کو اس کمیٹی کے رہنمائوں کو رہا کرنا پڑا اور ا سکے فوراً بعد کل پیہہ جام تحریک شروع ہوئی جب کہ دکانیں بھی بند کی گئی ۔ حالیہ احتجاج کی وجہ آٹا اوردوسرے آشیاء کر سبسڈی کم کرنا اور بجلی کے بلوں میں اضافہ کرنا ۔ یہ احتجاج رائولا کوٹ سے شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبوضہ کشمیر کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ۔ حالات اس اوقت بے قابو ہوگئے جب بجلی کے بلوں کو نذرآتش کیاگیا ۔ کئی جگہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی او را سکے بعد ایکشن کمیٹی کے کچھ رہنمائوں پر دہشت گرد ی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ مظاہرے کا کہنا ہے کہ چونکہ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی بجلی مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چونکہ کشمیر میں پیدا ہونے والی بجلی واپڈا انتہائی سستے داموں یعنی 1.30 روپے فی یونٹ میں خریدتی ہے اس لیے کشمیر والوں کو یہ اسی قیمت یا کم از کم رعایتی قیمت پر دی جائے۔اس حوالے سے بی بی سی نے جب وزارت اْمور کشمیر کے پبلک ریلیشنز آفیسر مجیب قادر کھوکھر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ بجلی اور بجٹ کے معاملات واپڈا کا محکمہ اور وزارت خزانہ دیکھتی ہے۔دوسری جانب کشمیر میں محکمہ واپڈا کے ایس ڈی او راجہ ارشد کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں میں ٹیکسز اور اضافہ حکومت پاکستان کی ایما پر کیا جاتا ہے اور ڈسڑی بیوٹر کمپنی حکومت کی پالیسیوں پر عملدر آمد کرتی ہے۔نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی سے جب اس بابت رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ اس معاملے پر وزیر خارجہ سے رابطہ کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر کے بازاروں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 3000 روپے ہے جبکہ حکومت کی جانب سے سبسڈائزڈ نرخ 1590 روپے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں گندم کی سالانہ طلب 5 لاکھ ٹن ہے جبکہ حکومت سبسڈائزڈ نرخوں پر تین لاکھ ٹن گندم ہی مہیا کر پاتی ہے۔آٹے کی طلب اور رسد میں بہت زیادہ فرق بھی اس مسئلے کی شدت میں اضافہ کرتا ہیں۔