تاثیر،۱۹ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
سوشلسٹ پس منظر کے رہنما اورسابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے ایک بار پارلیمنٹ میں کہا تھا ’’جذبات کو ابھار کر ووٹ حاصل کئے جا سکتے ہیں، حکومت بنائی جا سکتی ہے، لیکن ملک کی تعمیر نہیں ہو سکتی ہے‘‘ یہ تب کی بات ہے، جب مرکز میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت تھی۔ سیاق و سباق میں جائے بغیر اس بیان کو موجودہ معیار کے تناظر میں دیکھیں توبات سمجھ میں آجائے گی۔ منڈل کمیشن (بی پی منڈل کمیشن) کی رپورٹ نافذ ہوئی تو ملک میں اقتدار بدل گیا۔بہار میںبھی لالو پرساد یادو وزیراعلیٰ بن گئے۔ ملک میں زبردست خونریزی ہوئی۔ بہار کی سیاست بھی منڈل کمیشن کی ریزرویشن سے متعلق سفارشات کے ارد گرد گھومتی رہی ہے۔ اگرچہ منڈل کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے والی حکومت نے خوب واہ واہی لوٹی، لیکن ان کی ہوا بھی بعد میں خراب ہوگئی۔ اب بہار میں ذات پر مبنی سروے کی رپورٹ آ ئی ہے تو پھر ایک بار ہنگامہ کھڑا ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
منڈل کمیشن کی سفارشات کے حوالے سے تھوڑا پیچھے نظر ڈالتے ہیں تو یہی نظر آتا ہے کہ ملک میں نافذ ایمرجنسی کے بعد انتخابات ہوئے تو جنوبی بھارت کے علاوہ ہر جگہ کانگریس کا صفایا ہوگیا۔کئی ریاستوں کی حکومتیں بھی بدل گئیں۔ مرکز میں جنتا پارٹی کی حکومت بنی اور مرار جی دیسائی پی ایم کی کرسی پر بیٹھے۔ پھر جنتا پارٹی کی لہر میں پسماندہ طبقے کے کئی لیڈر جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچے تھے۔ اس میں لالو پرساد یادو، ملائم سنگھ یادو، شرد یادو اور رام ولاس پاسوان جیسے لیڈر شامل تھے۔ سب نے پسماندہ طبقات کے لیے کمیشن بنانے کا مشورہ دیا۔ بہار کے ممبر پارلیمنٹ بی پی منڈل کو کمیشن کا چیئرمین بنایا گیا۔ اس سے پہلے کہ کمیشن اپنی رپورٹ پیش کر پاتا اور اس پر کوئی پالیسی بن پاتی ، جنتا پارٹی کی حکومت گر گئی۔ اندرا گاندھی دوبارہ اقتدار میں واپس آگئیں۔ معاملہ سرد خانے میں چلا گیا۔
70سال پہلے بھی پسماندہ طبقات کے لیے ایک کمیشن بنا تھا۔ جواہر لال نہرو کے وزیر اعظم رہتے 1953 میں حکومت نے کاکا کالیلکر کمیشن تشکیل دیا تھا۔ کالیلکر کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ پیش کی، لیکن کمیشن کی سفارشات پر عمل نہیں ہوسکا۔ کالیلکر کمیشن کی رپورٹ ہندوؤں کی پسماندگی کے پیش نظر تیار کی گئی تھی ۔خیر، جنتا پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد، 20 دسمبر، 1978 کو، مرار جی دیسائی کی حکومت نے بی پی منڈل کی صدارت میں پسماندہ طبقات کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد منڈل کمیشن نے جنوری 1979 سے کام شروع کیا۔ تاہم، وہ رپورٹ پیش کر پاتے، اس سے پہلے ہی مرار جی دیسائی کی حکومت جولائی، 1979 میں چلی گئی اور بات وہیں رک گئی۔
جب وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے تو انہوں نے 1989 میں منڈل کمیشن کی رپورٹ کو ٹھنڈے بستے سے نکالا۔ دسمبر 1980 میں منڈل کمیشن نے اپنی رپورٹ اس وقت کے وزیر داخلہ گیانی ذیل سنگھ کو سونپی تھی۔ اس بار رپورٹ میں تمام مذاہب کے پسماندہ لوگوں کو شامل کیا گیا۔ ساڑھے تین ہزار سے زائد ذاتیں درج فہرست تھیں۔ منڈل کمیشن نے سرکاری ملازمتوں میں پسماندہ لوگوں کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کی سفارش کی تھی۔ وی پی سنگھ نے 1990 میں منڈل کمیشن کی فائل نکالی۔ملک میںپسماندہ طبقات کے لئے منڈل کمیشن کی سفارشیں 7 اگست 1990 نافذ کرنے کا اعلان ہوگیا۔
منڈل کمیشن کی سفارشات کے مد نظرپسماندہ طبقات کو سرکاری ملازمتوں میں 27 فیصد ریزرویشن کا اعلان ہوتے ہی پورا ملک آتش فشاں میں تبدیل ہو گیا۔ وی پی سنگھ کابینہ کے ایک ساتھی دیوی لال اس سے اتنے ناراض ہوئے کہ انہوں نے استعفیٰ ہی دے دیا۔ لالو یادو جیسے لیڈروں کی تو بانچھیں کھل گئیں۔ بہار میں منڈل کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے پر لالو یادو اس وقت کے پی ایم بی پی سنگھ کے ساتھ رہے۔ ملک کے ساتھ ساتھ بہار میں بھی سیاست کے دو دھارے بن گئے، ایک منڈل حامی اور دوسرا منڈل مخالف۔لالو کے سامنے آنند موہن جیسے اونچی ذات کے لیڈر ابھر کر سامنے آئے۔ زبردست تشدد کے درمیان بہار کا اقتدار لالو یادو کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ منڈل کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے کی ہمت کرنے والے وی پی سنگھ کو لوگ بھلے بھول گئے ہوں ، لیکن پسماندہ طبقات کے درمیان لالو سماجی انصاف کے مسیحا بن گئے۔ اس کے بعد لالو خاندان لگاتار 15 برسوں تک بہار میں برسراقتدار رہا۔
مرکزی حکومت کے انکار کے بعد حکومت بہارنے اپنے خرچ پر ریاست میں ذات پر مبنی سروے کرایا ہے۔2 اکتوبر کو اس کی رپورٹ آنے کے ساتھ ہی حمایت اور مخالفت میں لوگ کھڑے ہو گئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ منڈل کمیشن کی سفارشات کے نفاذ کے بعد ملک میں چاروں طرف آگ لگ گئی تھی، اس بار ابھی تک امن ہے۔اسی لئے کہ ذات پر مبنی سروے کی بنیاد پر ابھی تک پسماندہ طبقات کے لیے فائدہ کی کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی ہے۔ حالانکہ اس سال پانچ ریاستوں میں ہو رہے اسمبلی انتخابات اور اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر اسے کافی کارگر سمجھا جا رہا ہے۔ الیکشن سے بے فکر رہنے والی بی جے پی کو بھی اس سے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے۔ بی جے پی نے اس کی کاٹ یہ کہہ کر کھوجی ہے کہ ملک میں ابھی صرف دو ذاتیں ہیں، امیر اور غریب۔لیکن بی جے پی کو بھی یہ معلوم ہے کہ اس جملہ بازی سے کام نہیں چلنے والا ہے ۔ چنانچہ اس نے ایک نئی حکمت عملی پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔حالانکہ لالو پرساد یادو پر مشہور کتاب’’ گوپال گنج سے رائسینا روڈ ‘‘ لکھنے والے نلن ورما کا کہنا ہے کہ منڈل کمیشن کی رپورٹ کی طرح ہی ذات پر مبنی ،بہار کی سروے رپورٹ کا بھی ملک کی سیاست پر زبردست اثر ہوگا۔ بس مناسب وقت کا انتظار ہے۔
*******************

