نواز شریف وطن واپس آنے پر جیل نہیں جائیں گے

تاثیر،۱۹  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

اسلام آباد ،19اکتوبر: مسلم لیگ ( ن ) کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے لئے پاکستان لوٹنے کیلئے راستہ صفاف ہوگیا ہے۔ او ران کو جو غیرضمانتی وارنٹ جاری کی گئی تھی اس کو منسوخ کردیا گیا ۔ نواز شریف اشتہاری ملزم بھی تھے اور انہیں تاحیات نااہل بھی قراردیا گیا تھا ۔ احتساب عدالت اسلام آباد نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی توشہ خانہ کیس میں وارنٹ معطلی کی درخواست منظور کرلی جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ کیسز میں ان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا۔احتساب عدالت کے جج محمدبشیر کی عدالت میں نوازشریف کی وارنٹ معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی، نوازشریف کے وکیل قاضی مصباح اور نیب پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہوئے۔وکیل صفائی قاضی مصباح نے جج محمد بشیر کی ہمشیرہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد مؤقف اپنایا کہ نوازشریف کی وارنٹ معطلی پر کل درخواست دائر کی تھی، نوازشریف کو توشہ خانہ کیس میں اشتہاری قرار دیاتھا، نوازشریف عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہتیہیں، 21 اکتوبر کو پاکستان آرہے، نوازشریف کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیں۔جج محمد بشیر نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف توشہ خانہ کیس نیب کورٹ 3 کا معاملہ ہے، وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا کہ 24 اکتوبر کو آپ کی عدالت میں سماعت مقرر ہے، نوازشریف عدالت پیش ہونا چاہتے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف کے کیس کا ریکارڈ طلب کرلیا، جج نے وکیل صفائی سے مکالمہ کیاکہ آپ کو کافی کیسز ملتیہیں، جس پر قاضی مصباح نے کہاکہ بس مؤکل کا اعتماد ہے ہم پر۔وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا کہ نوازشریف نے کیوں پاکستان چھوڑا ؟ تمام دستاویزات میں تحریر کردیاہے، انڈرٹیکنگ شہبازشریف نے دی ہوئی ہے،جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ کیا اس کیس میں ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت دائر کی؟ وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر نہیں کی۔وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں وارنٹ جاری ہوئے ہیں، فیصلہ نہیں ہوا تھا، اسحٰق ڈار کے اسی نوعیت کے کیس میں وارنٹ معطل ہوئے تھے، 9 ستمبر 2020 کے فیصلے کے احتساب عدالت نے نوازشریف کو اشتہاری قرار دیاتھا۔جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ نوازشریف کے نہ ا?نے کی کیا وجہ تھی؟ وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا کہ جب نوازشریف نے پاکستان چھوڑا تو طبیعت بہت ناساز تھی، طبی رپورٹ لگی ہوئی ہے، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست ابھی بھی پینڈنگ ہے، صوبائی حکومت نے چیلنج نہیں کیا، نوازشریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ بھی ساتھ منسلک کردی ہے۔وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا کہ نوازشریف احتساب عدالت پیش ہوں گے، وارنٹ گرفتاری معطل ہونے کے بعد ملزم عدالت پیش ہوتاہے، عدالت ملزم کی درخواست کو دیکھتے ہوئے وارنٹ گرفتاری معطل کرلیتی ہے، نیب کی جانب سے نوازشریف کا کوئی وارنٹ گرفتاری نہیں، نوازشریف احتساب عدالت آکر پیش ونا چاہتیہیں، وارنٹ معطل کردیں تاکہ عدالت آنے کا راستہ مل جائے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نوازشریف نے دو ریلیف مانگے ہیں، نوازشریف کہہ رہے ہیں کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا چاہتیہیں، نوازشریف سرنڈر کرنا چاہتیہیں تو وارنٹ معطل کردیں، نوازشریف کے 24 اکتوبر تک وارنٹ معطل کردیں۔