تاثیر،۲۷ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
اسلام آباد،27اکتوبر:پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھینجنے کے لیے اعلیٰ سطح کنٹرول روم قائم کیا جا رہا ہے۔خیبر پختونخوا میں اب تک لگ بھگ 47 ہزار غیر قانونی پناہ گزینوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں واپس آنے والے افغان شہریوں کے لیے ایک اعلٰی سطحی 31 رکنی کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔ جس میں واپس آنے والے افغان شہریوں کو رہائش اور دیگر ضروریات فراہم کرنے کے انتظام کیے جائیں گے۔پشاور میں محکمہ داخلہ کی جانب سے ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جو ایک اعلٰی سطح کے افسران کی نگرانی میں کام کرے گا۔یہ کنٹرول روم محکمہ پولیس، فوج، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے، نینشل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی نادرا، اور پاسپورٹ امیگریشن محکمہ کے حکام کے زیر انتظام فعال رہے گا۔کنٹرول روم سے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے اور اس کمیشن میں گریڈ 17 سے اوپر کے افسران شامل ہوں گے۔اس کے علاوہ صوبے کے تمام شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کا ڈیٹا میں حاصل کر لیا گیا ہے اور ذرائع کے مطابق ان کی تعداد اس وقت تک 47 ہزار کے لگ بھگ بتائی گئی ہے جس میں 12 ہزار مرد، 11 ہزار خواتین اور کوئی 24 ہزار تک بچے شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد پشاور میں بتائی گئی ہے۔ ادھر افغان حکام نے بھی اس بارے میں تیاریاں شروع کر دی ہیں۔افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امارت اسلامی کے سپریم لیڈر کی جانب سے جاری حکم کے مطابق پاکستان سے افغان شہریوں کو نکالنے کے عمل کو تمام روایات کے خلاف قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں ایک اعلٰی سطحی 31 رکنی کمیشن قائم کیا گیا ہے جس کی سربراہی مولوی عبدالسلام حنفی کریں گے۔ یہ کمیشن پاکستان اور دیگر ممالک سے نکالے گئے افغان شہریوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے لایحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔اس کے لیے 12 کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن میں سے تین کمیٹیاں واپس آنے والے افغانوں کو رہائش، صحت اور ان کی شناخت کے بارے میں کام کرے گی۔اس کے علاوہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کاروباری شخصیات اور صنعتکاروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔افغان حکام نے دیگر ممالک کو چلے جانے والے افغان شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بھی وطن واپس آکر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

