چین کے مکاو میں کرانا کی دکان میں فروخت ہو تا ہے نیپالی پاسپورٹ

TAASIR NEWS NETWORK  UPDATED BY- S M HASSAN -02 OCT

کٹھمنڈو، 02 اکتوبر:چین کے خود مختار علاقے مکاو میں ایک کرانا کی دکان پر آسانی سے نیپالی پاسپورٹ بنانے اور اس کی تجدید ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیپال کے تقریباً 35 ہزار شہری مکاو میں رہتے ہیں۔ وہاں ہر ماہ تقریباً ایک ہزار شہری سیر وسیاحت کے لئے آتے ہیں۔
مکاؤ میں نیپال کا کوئی سفارت خانہ یا قونصلر یا عارضی کیمپ آفس نہیں ہے۔ مکاو کا علاقہ ہانگ کانگ میں نیپالی سفارت خانے کے تحت آتا ہے۔ اگر یہاں رہنے والے نیپالی شہری اپنے پاسپورٹ کی تجدید کرنا چاہتے ہیں یا کسی کا پاسپورٹ کھوگیا ہے یا کسی اور وجہ سے دوسرا پاسپورٹ بنوانا ہو تو وہ مکاو میں واقع ہمالیہ ٹریڈرز گروسری اسٹور سے براہ راست رابطہ کرتے ہیں۔ ان کا کام پل بھر میں ہو جاتا ہے۔
گزشتہ ہفتے جب مکاوپولیس اس اسٹور کے سامنے ایک لمبی قطار دیکھ کر وہاں پہنچی تو اس پورے معاملے کا پردہ فاش ہوگیا۔ اس سٹور پر نصب کیمروں سے تصاویر لی جا رہی تھیں۔ دکان پر بائیو میٹرک مشین بھی نصب ہے۔ یہ دکان ایک غیر رہائشی نیپالی تنظیم این آر این کے مکاو چیپٹر کے صدر بھیم سین شریسٹھ کی ہے۔
اس بارے میں بھیمسین شریسٹھ کا کہنا ہے کہ مکاو میں مقیم نیپالی شہریوں کو پاسپورٹ بنوانے کے لیے ہانگ کانگ نہ جانا پڑے ، اس لیے انہوں نے قونصلیٹ جنرل کی درخواست کے بعد یہ سروس شروع کی ہے۔ اس کی تصدیق کے لیے ہانگ کانگ میں مقیم نیپالی قونصل جنرل ادے رانا مگر سے فون پر رابطہ کیا گیا۔ قونصل جنرل مگر نے اعتراف کیا کہ ہم نے یہ ذمہ داری مکاو میں این آر این کے دفتر کو دی ہے۔ بھیمسین شریسٹھ نے دلیل دی کہ این آر این کا دفتر کم جگہ پر ہے۔ اس وجہ سے دفتر کے نیچے کریانہ کی دکان سے تمام کام ہوتے ہیں۔ پاسپورٹ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد تقسیم کیا جاتا ہے۔
دعوے کچھ بھی ہوں، اس عمل میں بے ضابطگی تو ہوتی ہی ہے۔ مثال کے طور پر پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے نیپالی شہریت کے سرٹیفکیٹ کی اصل کاپی اور ورک پرمٹ کی اصل کاپی دکھانا لازمی ہے۔ لیکن اس دکان پر فوٹو کاپی دیکھ کر ہی پاسپورٹ دیا جاتا ہے۔ این آر این کے صدر رانا مگر کا کہنا ہے کہ حکومت پاسپورٹ کی تقسیم کے لیے علیحدہ فنڈز فراہم کرے۔ کچھ اور عملہ بھرتی کیے جائیں۔ اس وقت وہ پاسپورٹ کا کام دکان کے ملازمین سے ہی لیتے ہیں۔
متعلقہ وزارت کی ترجمان سیوا لمسال کا کہنا ہے کہ اس کی انہیں معلومات نہیں ہے۔ وہ ہانگ کانگ میں قونصلیٹ جنرل سے معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی جواب دیں گی۔ اس حوالے سے ریٹائرڈ آئی جی پی پرکاش آریال کا کہنا ہے کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ حال ہی میں سونے کی اسمگلنگ کیس میں پکڑے گئے چینی شہریوں سے نیپالی پاسپورٹ کی وصولی اور ہانگ کانگ سونے کی اسمگلنگ کا نیا اڈہ بننا کچھ اور ہی اشارہ دے رہا ہے۔