کل کس نے دیکھا ہے ؟

تاثیر،۲۹  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

لوک سبھا انتخابات 2024 کے پیش نظر اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور ان کےانڈیاالائنس کی طرف سے ابھی تک کوئی چہرہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ہے۔ دریں اثنا، جنتا دل یونائیٹڈ کی اتر پردیش یونٹ کے ذریعہ بہار کے وزیر اعلیٰ اور جے ڈی یو لیڈر نتیش کمار سے ایک بار پھر ضلع پریاگ راج کے پھول پور لوک سبھا حلقہ سے الیکشن لڑنے کی گزارش کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں کچھ لیڈروں نے نتیش کمار سے ملاقات کرکے ا ن سے پھول پور سیٹ سے الیکشن لڑنے کی درخواست کی ہے۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کے دعوے سامنے آ چکے ہیں، جن میںیہ کہا جاتا رہا ہے کہ نتیش کمار پھول پور سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔ تاہم ابھی تک نتیش کمار کی طرف سے اس پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
  پچھلے کچھ دنوں سے سیاسی حلقوں میں اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ جے ڈی یو کیوں چاہتاہے کہ نتیش کمار جب بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں تو پھول پور سیٹ سے الیکشن لڑیں۔ اگر نتیش کمار چاہیں تو وہاں سے الیکشن لڑ بھی سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ نتیش کمار بہار سے لوک سبھا نہیں گئے ہیں۔ وہ نویں، دسویں، 11ویں، 12ویں اور 13ویں لوک سبھا میں رکن پارلیمنٹ  رہ چکے ہیں۔ نتیش کمار بہار کے باڑھ لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے رہے۔ اس عرصے میں وہ تین تین جماعتوں کے سربراہ رہے۔ 9ویں اور 10ویں لوک سبھا کے دور میں وہ جنتا دل سے ایم پی رہے، 11ویں اور 12ویں لوک سبھا میں سمتا پارٹی سے اور پھر 1999 میں 13ویں لوک سبھا کے دوران وہ جنتا دل یونائیٹڈ سے ایم پی رہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف جے ڈی یو اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کو مضبوط کرنے کی بات کرتا رہا ہے۔ خود سی ایم نتیش کمار یہ بار بار کہتے رہے ہیں وہ صرف تمام پارٹیوں کے لیڈروں کو ساتھ لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ خود کو پی ایم چہرہ نہیں مانتے ہیںلیکن دوسری طرف جے ڈی یو انہیں پھولپور سے الیکشن بھی لڑانا چاہتا ہے؟  اس سوال کے حوالے سے سیاسی مبصرین گرچہ اپنے اپنے ڈھنگ سے قیاس آرائیوں میں لگے ہوئے ہیں، لیکن چند نکات ایسے ہیں ،جو پارٹی کے اراکین سمیت سبھی کے خیالوں میںموجود ہیں۔
  جے ڈی یو لیڈروں کا ماننا ہے کہ پریاگ راج کی پھول پور سیٹ پر تقریباً 20 فیصد امیدوار کرمی ذات سے ہیں۔ اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اب تک کرمی ذات کے 9 رہنما لوک سبھا میں اس خطے کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ایسے میں جے ڈی یو اس سیٹ کو نتیش کمار کے لیے محفوظ سمجھ رہی ہے۔ یہی نہیں اس سیٹ پر کرمیوں کے علاوہ مسلمانوں اور یادوؤں کا بھی اہم رول ہے۔ صرف یہی نہیں اس سیٹ سے دو  ایسے لیڈر ہوئے ہیں ، جن کا سیاسی سفر ملک کے وزیر اعظم کی کرسی تک گیا ہے۔ پہلا نام پنڈت جواہر لال نہرو کا ہے، جو اس سیٹ سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے بھی اس سیٹ سے الیکشن لڑا اور پھر پی ایم بنے۔ ایسے میں جے ڈی یو چاہتا ہے کہ نتیش کمار پی ایم کے چہرے کے طور پر ضرور الیکشن لڑیں۔اس کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے دعوؤں کے حوالے بھی یہ بات کہی جا رہی کہ اگر نتیش کمار جیسا بڑا چہرہ اس سیٹ سے الیکشن لڑتا ہے تو کم از کم 20 سیٹوں کا فائدہ ہوگا۔ ساتھ ہی یہ خیال بھی سامنے آ رہا ہے کہ جے ڈی یو سمیت پوری اپوزیشن جماعتیں اس علاقے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ وہ اپنی پوری طاقت یہاں لگا دے اور دوسری سیٹوں پر اس کی گرفت کمزور ہو جائے۔ مانا جا رہا ہے کہ اگر پی ایم نریندر مودی ایک بار پھر وارانسی سے الیکشن لڑتے ہیں تو نتیش کمارکا پھو لپور سے چناؤ لڑنا سیاسی نقطۂ نظر سے سودمند ہوگا۔اس کے علاوہ یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ اتر پردیش میں کُرمی برادری کا تناسب کل آبادی کا تقریباً 9 فیصد ہے۔اس طرح کرمی برادری کے ووٹرس ریاست کی 10 سے 12 لوک سبھا سیٹوں اور تقریباً 36 اسمبلی سیٹوں پر خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور اگر ریاست کی او بی سی آبادی کے نقطۂ نظر سے بات کی جائے تو یہ تعداد تقریباً  35 فیصد ہو جاتی ہے۔  چنانچہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اتر پردیش کے پھول پور پارلیمانی حلقہ سے نتیش کمار کو چناؤ لڑانے کا واحد مقصد غالباََ یہی ہے کہ اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا ‘‘ کے ساتھ ساتھ جے ڈی یو بھی مزید مضبوط ہو سکے۔
اِدھرجے ڈی یو کے قومی صدر للن سنگھ کا نتیش کمار کے پھولپور سے الیکشن لڑنے کے سوال پر کہنا ہے کہ پارٹی کارکنان کی خواہش  ضرورہے، لیکن آخری فیصلہ صرف نتیش کمار کو ہی کرنا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر نتیش کمار وہاں سے الیکشن لڑیں گے تو بی جے پی کو ووٹ نہیں ملیں گے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو فرضی نجومی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جہاں بھی گئے انہوں نے کہا کہ حکومت دو تہائی اکثریت سے ان کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے وہ بنگال میں ہارے، ہماچل میں ہارے، کرناٹک میں ہارے۔ ان کے ساتھ اب یہی ہونے والا ہے۔ للن سنگھ کے پاس چند سوالات بھی ہیں۔ وہ بی جے پی کے لیڈروں سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ 9 سالوں میں کیا کیا ہے؟  اجولا اسکیم کی حالت خراب ہے، مہنگائی نہیں رکی، کالا دھن نہیں آیا، لیکن مزید کالا دھن باہر جا رہا ہے۔ للن سنگھ کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کے لیڈروں کے پاس ان بنیادی سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔انھوں نے اشارہ دیا ہے کہ بھلے ہی اپوزیشن جماعتیں اسمبلی انتخابات میں بِکھری ہوئی نظر آ رہی ہیںلیکن لوک سبھا انتخابات میں ہم سب ایک ہیں۔اس دعوے پر سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ کل کس نے دیکھا ہے  ؟