تاثیر،۲۸ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 28اکتوبر: ورلڈ کپ کے 26ویں میچ میں پاکستان کو جنوبی افریقہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ سے باہر ہونے کی دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ اس میچ میں امپائرس کال کو لے کر کافی تنازعہ ہو رہا ہے۔ ہربھجن سنگھ کا کہنا ہے کہ پاکستان یہ میچ امپائرس کال کی وجہ سے ہارا ہے۔آئیے جانتے ہیں کہ امپائرس کال کیا ہے؟ اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ سابق کرکٹرز اس پر کیا سوچتے ہیں اور اس پر اتنا تنازع کیوں ہورہا ہے؟ ان سبھی سوالات کے جوابات جاننے سے پہلے آپ کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کرکٹ میں امپائرس کال کیا ہوتا ہے؟امپائرس کال کرکٹ میں ڈی آر ایس کا ہی ایک حصہ ہے۔ جب کوئی بلے باز فیلڈ امپائر کے فیصلے سے خوش نہیں ہوتا ہے تو وہ اس کے خلاف ریویو لیتا ہے یعنی تھرڈ امپائر کے پاس جاتا ہے۔ پھر ایل بی ڈبلیو کی صورت میں ٹی وی امپائر ری پلے اور بال ٹریکنگ کے ذریعے نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ موجودہ قوانین کے مطابق اگر امپائر کی ناٹ آؤٹ کال کو چیلنج کیا جاتا ہے، تو بلے باز کو ریویو پر ایل بی ڈبلیو قرار دینے کے لئے گیند کا کم از کم 50 فیصد حصہ تین اسٹمپ میں سے کسی ایک سے ٹکرانا چاہئے۔اگر گیند اور اسٹمپ کے درمیان ٹکرانے کا فاصلہ بہت کم ہو یا اس میں کوئی شک ہو تو تھرڈ امپائر اسے امپائرس کال کہتا ہے۔ یعنی گراؤنڈ امپائر کی طرف سے دیا گیا فیصلہ حتمی سمجھا جاتا ہے۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کیخلاف میچ میں تبریز شمسی کے معاملہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ حارث رؤف کی گیند ان کے پیڈ سے ٹکرائی۔ اس کے بعد پاکستان نے ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی، لیکن امپائر نے آؤٹ نہیں دیا۔ پاکستان ٹیم نے فیلڈ امپائر کے اس فیصلے کیخلاف ریویو لیا۔ بال ٹریکنگ میں یہ نظر آیا کہ گیند لیگ اسٹمپ سے ٹکرا رہی تھی، یعنی شمسی آؤٹ تھے، لیکن امپائرس کال کی وجہ سے شمسی کو ناٹ آؤٹ قرار دیا گیا۔ اس حوالے سے ایک ہنگامہ برپا ہوگیا ہے کہ اگر گیند اسٹمپ سے ٹکرا رہی ہے تو 50 فیصد اصول صحیح نہیں ہونا چاہئے۔اس اصول پر آئی سی سی کا کہنا ہے کہ امپائرس کال ڈی آر ایس کا ہی حصہ ہے، جس میں کئی مواقع پر آن فیلڈ امپائرز کا فیصلہ درست ہوگا۔ یہاں بال ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے ذریعہ پتہ لگایا جائے گا کہ گیند امپیکٹ میں ہے یا پھر وکٹ زون میں۔سچن تیندولکر، شین وارن اور دیگر سمیت کئی معروف کھلاڑی ماضی میں اس اصول پر ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کے بقول اگر گیند اسٹمپ سے ٹکراتی ہے تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ یہ مارجینل ہے یا نہیں اور اسے آؤٹ ہونا چاہئے۔ ہربھجن سنگھ کا بھی کہنا ہے کہ اگر گیند اسٹمپ کو چھو رہی ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ امپائر نے آؤٹ دیا ہے یا نہیں۔تاہم انگلینڈ کے سابق کرکٹر ناصر حسین اس بارے میں الگ رائے رکھتے ہیں۔امپائرس کال پر تنازع کے بعد ان کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ امپائرس کال کو ڈی آر ایس کا حصہ رہنا چاہئے، کیونکہ ٹیکنالوجی ایک ذریعہ ہے یہ پتہ لگانے کا کہ گیند پیڈ سے ٹکرانے کے بعد کہاں جا رہی ہے۔ اس میں پوری سچائی نہیں ہوتی۔ اگر امپائرس کال ختم کردیا جائے تو ٹیسٹ میچ دو دن سے زیادہ نہیں چلے گا کیونکہ پھر گیند پیڈ سے ٹکراتے ہی گیند باز بار بار اپیل کریں گے اور اگر 50 فیصد مارجن ختم کردیا جائے تو بلے باز آؤٹ ہو جائے گا۔

