تاثیر،۲۸ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
تھیرواننتھا پورم ، 28 اکتوبر:نیشنل کاونسل فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے درسی کتابوں میں ‘انڈیا’ کے لفظ کو ‘بھارت’ سے بدلنے کی تجویز کو کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینا رائی وجیئن نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سنگھ پریوار کے اشارے پر پیش کی گئی یہ تجویز غیر دستوری اور ناقابل قبول ہے۔ وزیر اعلیٰ وجیئن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” این سی ای آر ٹی کی سوشیل سائنسس کمیٹی نے انڈیا کی جگہ بھارت لفظ استعمال کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ دستور میں ہمارے ملک کو انڈیا اور بھارت کے ناموں سے درج کیا گیا ہے۔ سنگھ پریوار انڈیا کے نام سے وجود میں آنے والے مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم سے خوفزدہ ہے اسی وجہ سے لفظ انڈیا سے ان کو نفرت ہوگئی ہے۔ وجیئن کا کہنا ہے کہ اب انڈیا لفظ بدلنے کی یہ تجویز اس سے پہلے مغلیہ دور کی تاریخ ، گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر لگی پابندی جیسے موضوعات پر درسی کتابوں سے اسباق ہٹانے کے جو متعصبانہ اقدامات کیے گئے تھے، اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ آر ایس ایس کی طرف سے تاریخ مسخ کرنے کی مہم کو این سی ای آر ٹی کی طرف سے مسلسل حمایت دی جا رہی ہے۔ ٹیکسٹ بک کمیٹی سنگھ پریوار کی طرف سے پیش کی جا رہی مسخ شدہ اور نقلی تاریخ کو فروغ دینے کے لئے بے چین نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ پریوار ہمیشہ باہمی بقا اور تکثیری سماج کے تصور کا مخالف رہا ہے۔ اس لئے ‘اختلاف میں اتحاد’ کے اصولوں پر بنے انڈیا کے تحفظ کے لئے تمام باشندوں کو متحد ہونا چاہیے۔ وزیر برائے جنرل ایجوکیشن وی سیون کٹی نے اس طرح کی تبدیلی لانے کے لئے تجویز پیش کرنے سے قبل ریاستی حکومتوں سے مشورہ نہ کرنے پر مرکزی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کیرالہ کی ریاستی حکومت این سی ای آر ٹی کی پیش کردہ تجاویز کو قبول نہیں کرے گی۔ ہم پوری طاقت کے ساتھ ان تجاویز کی مخالفت کریں گے۔ خیال رہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اس سے قبل درسی کتابوں میں اس قسم کی تبدیلی کی ہدایت ملنے پر کیرالہ کی ریاستی حکومت نے اس سے انحراف کیا تھا اور این سی ای آر ٹی کی کتابوں میں حذف کیے گئے موضوعات پر اسباق بحال رکھنے کے لئے اپنی طرف سے اضافی درسی کتابیں شائع کی تھیں۔

