تاثیر،۳ اکتوبر:- ایس -ایم-حسن
۱۹۲۵ میں آئے اور ہمیشہ کے لئے اپنی یادگارتحریر چھوڑ گئے
خدا بخش لائبریری میں مہاتما گاندھی پر کتابوں کی نمائش اورلکچر
پٹنہ: ۳؍اکتوبر۲۰۲۳۔گاندھی جینتی کے موقع پر خدا بخش لائبریری میں کتابو ں کی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔اس میںمہاتما گاندھی کی کتابوں کے ساتھ ان پر لکھی گئی ہندی،انگریزی اور اردو زبان کی کتابیں پیش کی گئیں۔اس کے علاوہ گاندھی جی کی وہ تحریر بھی نمائش میں رکھی گئی جس میں انہوں نے خدا بخش لائبریری میں تشریف لانے بعد اپنے خیالات پیش کئے تھے۔اس موقع پر گاندھی جی پر شائع لایبریری کی مطبوعات بھی رکھی گئیں جن میں شریمد بھاگوت گیتا از گاندھی جی، مہاتما گانندھی کا سندیش،مہاتما گاندھی: ۱۵۰ برس،گاندھی جی اور ہندو مسلم ایکتا،گاندھی کی لاٹھی،گاندھی جی اور ہندو مسلم اتحاد،مہاتما گاندھی کا پیغام،بھارت سپوت :مہاتما گاندھی پر ۱۹۲۱ کی ایک یادگار تحریرقابل ذکر ہیں۔اس نمائش کا افتتاح شری بھیرو لال داس، پٹنہ نے کیا۔
نمائش کے بعد مہاتما گاندھی پرلکچر اور فلم شو کا احتمام بھی کیا گیا۔لکچر کے آغاز میں اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے فرمایا کہ خدا بخش لائبریری کی روایت رہی ہے کہ وہ اپنے بڑوں کو، اپنے عظیم رہنماؤں کو محبت و عزت سے یاد کرتی آئی ہے ۔ گاندھی جی کی تعلیمات ہمیں ستیہ اور اہنسا سکھاتی ہے۔ان کے خیالات اپنی زندگی میں اپنا کر دیش اور سماج کی خدمت کر سکتے ہیں۔آج گاندھی جی دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے کیوں کہ انہوں نے پورے خلوص کے ساتھ دیش کی خدمت کی ،دیش کو پیار کیا اور بغیر کرسی یا عہدے کی لالچ کے انہوں نے اپنی پوری زندگی دیش کے لئے وقف کر دی تھی۔
ڈاکٹر بھیرو لال داس نے اپنے لکچر کے آغاز میں کہا کہ گاندھی جی ایک شخص کا نام نہیں، بلکہ وچاردھارا کا نام ہے۔انہوں نے دل کو دل سے جوڑنے کا کام کیا۔اس کے لئے مادری زبان کا استعمال کیا تاکہ بات دلوں میں سما جائیں۔گاندھی جی نے نیل کی کھیتی کرنے والوں کے حقوق کے لئے چمپارن میں آتھ مہینے قیام کر تشدد کے بغیر کامیابی حاصل کی۔اس تحریک میں ایک بھی لاٹھی نہیں چلی لیکن چوری چورا تحریک میں جب انہیں اندازہ ہوا کہ تشدد بھڑک سکتا ہے تو انہوں نے تحریک واپس لے لی۔آپ نوجوانوں سے میری گزارش ہے کہ آپ گاندحی جی کا مطالعہ واٹس ایپ کے بدلے کتابوں کے ذریعہ کریںتو آپ کے لئے زیادہ مفید ہوگا۔
گاندھی جی کی تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ کائر ہوکر زندگی مت گزارئیے ،ہمیشہ ستیہ بولئے اور نا انصافی کا منھ توڑ جواب دیجئے۔گاندھی جی نے ایسی تعلیم کی تلقینکی ہے جس میں ہنر بھی شامل ہو تاکہ خودمختار بن سکیں۔تعلیم کا مقصد بہتر سماج بنانیمیں ہونا چاہئے۔تجارتی ادارہ کو کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ سماج کی بھلائی کے لیئے فلاحی کام میں حصہ لیں۔انہوں مزید فرمایا کہ گاندھی جی کے وچار زندہ ہیں اور مستقبل میں ہمارا مارگ درشن کرتے رہیں گے۔لکچر کے اختتام کے بعد گاندھی جی پر دوکومینٹری فلم بھی دکھائی گئی جسے طلباء نے دلچسپی سے دیکھا۔

