اساتذہ بھرتی کے امیدواروں کا بی جے پی ریاستی دفتر پر مظاہرہ

تاثیر،۲۵  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

لکھنؤ، 25 نومبرـ 69000 اساتذہ کی بھرتی میں ریزرویشن کو نافذ کرنے میں ہوئی بے قاعدگی کی وجہ سے تقرری سے محروم رہ جانے والے دلت و پسماندہ طبقے کے امیدواروں نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی دفتر پر احتجاج کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو زبردستی وہاں سے ہٹا دیا۔
امیدواروں کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت تمام 6800 منتخب پسماندہ طبقے کے امیدواروں کو ان کے حقوق دے کر تقرری کرے۔
احتجاج کرنے والے امیدواروں نے بتایا کہ 69,000 اساتذہ کی تقرری گھوٹالے کی وجہ سے ان کی تقرری نہیں ہوسکی ہے، جب کہ حکومت نے اس تضاد کو دور کرتے ہوئے 6,800 دلت پسماندہ طبقے کے امیدواروں کی سلیکشن لسٹ جاری کی تھی اور ان کی تقرری کا وعدہ کیا تھا۔
وزرا اور عہدیدار بار بار میٹنگ میں صرف یقین دہانیاں کرتے ہیں لیکن معاملہ حل نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے یہ مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ امیدواروں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ آئندہ اسمبلی اجلاس کے دوران اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے۔
تحریک کی قیادت کر رہے وجے یادو نے کہا کہ 69,000 اساتذہ کی بھرتی میں ریزرویشن کو نافذ کرنے میں زبردست بے ضابطگیاں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ریزرو زمرے کے امیدواروں کو نوکریوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں کئی مظاہروں کے بعد ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے معاملے کا نوٹس لیا اور اس بے ضابطگی کو دور کرتے ہوئے افسران کو حکم دیا کہ وہ مظلوم دلت پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو تقرریاں دیں، جس کی بنیاد پر افسران نے بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اس تضاد کو درست کیا۔ اصلاح کے بعد ایک فہرست جاری کی گئی جس میں 6800 دلت پسماندہ طبقے کے امیدواروں کو تقرری دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن آج تک انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔