تاثیر،۱۴ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
چنڈی گڑھ،14نومبر: پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے کتا کاٹنے کے بڑھتے واقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک انتہائی اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ سڑکوں پر ا?وارہ کتوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں اگر کسی کو یہ کتے کاٹتے ہیں تو دونوں ریاستوں (پنجاب و ہریانہ) کو اس کا معاوضہ دینا ہوگا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ متاثرہ کو جسم پر ہر ایک دانت کے نشان کے لیے 10 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے۔ یعنی کتے کے کاٹنے پر متاثرہ شخص کو کم از کم 10 روپے معاوضہ ملنا یقینی ہے۔جسٹس ونود ایس بھاردواج کی بنچ نے چنڈی گڑھ میں کتا کاٹنے کے بڑھتے واقعات پر فکر کا اظہار کیا ہے ساتھ ہی ریاستی حکومتوں کو اس کے لیے گائیڈلائن بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔ بنچ نے 193 عرضیوں کا نمٹارہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ بنچ کا کہنا ہے کہ اگر کتے کے کاٹنے سے دانت کے نشان بنتے ہیں تو متاثرہ کو فی دانت کے نشان پر 10 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ اگر کتے کے کاٹنے سے زخم ہوتا ہے یا گوشت نکل جاتا ہے تو فی 0.2 سنٹی میٹر زخم کے لیے کم از کم 20 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے۔پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے کہا کہ معاوضہ کی ادائیگی دونوں ریاستوں کو کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی بنچ نے کہا کہ معاوضہ کی رقم ریاستی حکومت اس انسان یا ایجنسی سے وصول سکتی ہے جس کا کتے سے کوئی کنکشن ہو۔ عدالت نے کہا کہ کتا کاٹنے کے واقعات میں گلاتار اضافہ ہو رہا ہے اور کئی لوگوں کی اس سے موت بھی ہو گئی ہے۔ اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو معاملے مزید بڑھتے جائیں گے۔ اس لیے اب ریاستی حکومت کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔

