تاثیر،۱۰ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
بہار اسمبلی میں پیش کی گئی ذات کے سروے کی سماجی و اقتصادی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پوری ریاست میں غربت کا راج ہے۔ ریاست کے 2,76,68,930 خاندانوں میں سے تقریباً ایک تہائی یعنی 94,42,786 خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم اس رپورٹ نے سماج کی نسلی تقسیم کے ساتھ یہ واضح کر دیا ہے کہ غربت کا تعلق ذات سے ہے۔ بہار میں، دیگر پسماندہ طبقات کے 66.74 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، وہیں دوسری طرف، نام نہاد آگے کی ذات کے 25.09 فیصد لوگ، جنہیں جنرل کیٹیگری بھی کہا جاتا ہے، خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔وہیں درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے 86.63 فیصد خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
ریاستی سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور انتہائی پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن بڑھانے کے لیے لایا گیا بل جمعرات کو بہار اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ جیسے ہی یہ بل قانون بنتا ہے، بہار حکومت کی نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کی سطح 75 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی نتیش حکومت نے ریاست کے ہر غریب خاندان کے لیے 2 لاکھ روپے کی امدادی رقم اور ان کی حالت بہتر بنانے کے لیے کئی دیگر فلاحی اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے سماج کے اقتصادی طور پر پسماندہ طبقے (ای ڈبلیو ایس) کے لیے دس فیصد کا کوٹہ برقرار رکھا ہے۔ کوٹہ بڑھانے کے سلسلے میں بہار حکومت کے اس فیصلے سے مرکز میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس حکمت عملی کو دھچکا لگا ہے، جس کے تحت وہ تمام ذاتوں کو ہندوتوا کے جھنڈے تلے متحد کرنا چاہتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کامیابی کا سہرا ان کی جارحانہ ہندوتوا یا اقلیتوں کے خلاف ہندوؤں کو مذہبی خطوط پر متحد کرنے کی ان کی حکمت عملی کو قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن سماج کے انتہائی پسماندہ طبقوں (ای بی سی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، ایس سی اور ایس ٹی کے لیے ملازمت کے کوٹہ میں اضافے کے فیصلے نے بی جے پی کی حکمت عملی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بہار میں یہ طبقہ ریاست کی آبادی کا 84 فیصد حصہ ہے۔ اب تک یہ مانا جاتا رہا ہے کہ اس طبقہ نے بھگوا پارٹی کو اپوزیشن سے زیادہ مدد فراہم کی ہے۔ بہار کے ذات پر مبنی سروے سے ،جو تصویر سامنے آئی ہے، مانا جا رہا ہے کہ شمالی ہند کی کچھ دیگر ریاستوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ان میں سے تین ریاستیں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ بھی ہیں، جہاں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں۔ بی جے پی کے خلاف ذات پر مبنی گولبندی کافائدہ اٹھانے کے لیے، 28 اپوزیشن جماعتیں ’’انڈیا‘‘ اتحاد (انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس) کے بینر تلے قومی سطح پر ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ’’انڈیا‘‘اتحاد کے سب سے بڑی اتحادی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اپنی انتخابی مہم میں ذات پر مبنی مردم شماری اور سرکاری ملازمتوں، بیوروکریسی اور سیاسی نظام میں محروم طبقات کے لیے آبادی کے تناسب سے نمائندگی کا وعدہ کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی جب یہ الزام لگاتے ہیں کہ اپوزیشن پارٹیاں ہندو سماج کو تقسیم کرکے ’’پاپ‘‘ کر رہی ہیں، تو اس میں ان کی بے چینی صاف دکھائی دینے لگتی ہے۔ پانچ ریاستوںکی انتخابی مہم سے وقت نکال کر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 6 نومبر کو بہار کے مظفر پورمیں ایک جلسہ عام کے دوران نتیش کمار اور راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو یادو کی ’’تشٹی کرن کی پالیسی‘‘ کے لئے زبردست تنقید کی تھی۔ بی جے پی جب بھی اپنے مخالفین پر خوشامد کا الزام لگاتی ہے تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ہندوؤں کے مفادات پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو ترجیح دے رہی ہے۔
امت شاہ نے 6 نومبر کو اپنی تقریر کے ذریعہ مختلف ہندو ذاتوں کو مذہب کے نام پر متحد رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے ایودھیا میں بن رہے رام مندر کی 22 جنوری 2024 کو منعقد ہونے والی ’’پران پرتشٹھا‘‘ تقریب میں شرکت کی اپیل کی تھی۔انھوں نے سناتن دھرم پر منڈلا رہے خطرے کا ذکر تے ہوئےریاست میں نتیش راج سے چھٹکارا پانے کے لیے بہار کے سب سے مشہور تہوار چھٹھ کا ذکر کیا تھا۔ امیت شاہ نے یہ بھی اعلان کیاتھا کہ 2024 کے لوک سبھا کی انتخابی مہم کے سلسلے میں وہ اگلے 13 ہفتوں میں ریاست کے تمام38اضلاع میں ریلیوں سے خطاب کریں گے۔ظاہر ہے اپنی ان ریلیوں میں بھی ان کا خطاب ہندو مسلم، مندر مسجد اور مذہبی منافرت پر ہی مر کوز ہوگا۔مگر اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان ہتھیاروں سے بہار کا موجودہ سیاسی چکر ویوٹوٹ پائے گا ؟ اسی سال مئی میں ہوئے کرناٹک اسمبلی انتخابات جیت اور ہار کا پیمانہ طے کر دیا ہے۔اسی انتخاب کے بعد سے بی جے پی کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی نے جم کر ہندوتوا کارڈ کھیلا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ووٹروں سے بجرنگ دل کے نام پر ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ لیکن ان سب کے باوجود کرناٹک میں بی جے پی کو کانگریس کے ہاتھوں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑ اتھا۔اب رہی بات بہار کی، توسیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بہار میں سیاسی و سماجی شعور کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
******************

