بہت اہم ہےوزیر داخلہ کا یہ بہار دورہ

تاثیر،۳  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

ملک کے وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر امت شاہ کل( 5 نومبر) مظفر پور آ رہے ہیں۔ وہ ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ اس کے لیے بی جے پی کی جانب سے زبردست تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ پورے میدان کو بھر دینا ہے، اس کے لیے پورے بہار سے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش آخر آخر تک جا ری ہے۔ اس کے لیے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو ڈیوٹی پر لگا دیا گیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ امت شاہ کا یہ دورہ بہت خاص ہونے والا ہے۔ دراصل، اس کی وجہ یہ ہے کہ ذات کی بنیاد پر مردم شماری کے اعداد و شمار بی جے پی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسے میں یہ مانا جا رہا ہے کہ وزیر داخلہ کے اس بہار دورے کا مقصد ذات پات کے سیاسی تانے بانے کو توڑناہے۔ بہار میں عظیم اتحاد کی حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں مثلاََ جے ڈی یو، کانگریس، آر جے ڈی ذات اور بائیں بازو کی جماعتیںذات کی بنیاد پر آئے اعداد و شمار کے حوالے سے الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہی ہیں ۔جہاں جے ڈی یو پسماندہ اور انتہائی پسماندہ ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہیں کانگریس کی نظر سورن اور پسماندہ طبقات پرہے۔ آر جے ڈی اپنے مسلم اور یادو ووٹروں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے۔ مجموعی طور پر ان تمام جماعتوں کی کوششیں بہار کے ہر ایک طبقے کے رائے دہندگان پر اپنی پکڑ مضبوط بناکر انتخاب کے میدان میں اترنا ہے۔
جب ہم بہار کی موجودہ سیاسی پارٹیوں کے ذات پر مبنی سیاسی تانے بانے پر نظر ڈا لتے ہیں اور پارٹیوں کی حکمت عملی کو دیکھتے ہیں تو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ سبھی کی کوشش یہی ہے کہ پسماندہ سماج ان کے ساتھ آ جائے۔بی جے پی نے بھی بہار کی سیاست میں اپنا ایجنڈا بدل لیا ہے۔اب وہ بھی مسلمان اور پس ماندہ ہندو ذات کےووٹروں بھجن کرتن گانے بجانے میں مصروف ہے۔درحقیقت، بہار میں راجپوت، برہمن، بھومیہار، کائستھ اور ویشیہ سماج کی کل آبادی 15 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس لیے بہار کی ذات پر مبنی سیاست پسماندہ طبقات پر مرکوز نظر آتی ہے۔ ایسے میںسورن طبقے کے لوگوں کو ساتھ لیکر چلنے کے ساتھ ساتھ بی جے پی اس بار جے ڈی یو، کانگریس اور آر جے ڈی کی ذات کی ذات پر مبنی سیاست میں سیندھ لگانے کی بھی کوشش کرے گی۔
بہار میں ذات پر مبنی سروے رپورٹ آنے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ پہلی بار بہار کا دورہ کر رہے ہیں۔ ایسے میںبہار کی عظیم اتحاد حکومت سے وابستہ سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی کو کمزور کرنا وزیرداخلہ امت شاہ کی ترجیح ہوگا۔ اس وجہ سے اس بار ان کا مظفر پور کا دورہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ دراصل اونچی ذات برادری کی آبادی کے لحاظ سے مظفر پور کا اپنا ایک خاص مقام ہے۔ مظفر پور ضلع میں بھومیہار برادری کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ بھومیہار یہاں فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔ اس کے علاوہ بنیا برادری کے لوگوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر امت شاہ 5 نومبر کی ریلی میں ووٹروں کوبی جے پی کے حق میں متحد کرنے کے لئے کون سی طلسماتی تدبیر کرتے ہیں۔
اِدھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف کھڑے نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کی حکمت عملی اپنا کام کر تی ہوئی نظر آ رہی ہے۔بی جے پی 82 فیصد ہندوؤں کو اپنے حق میں لانے کے لیے ایکشن پلان بنا نا شروع کر دیا ہے۔دراصل بہار میں 17 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ان کے علاوہ 15 فیصدیادو برادری کے لوگ ہیں۔مانا جاتا ہے کہ یہ دونوں ووٹرز آر جے ڈی کے ساتھ ہیں۔حالانکہ جے ڈی یو اور آر جے ڈی دونوں ہی پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ایسے میں آئندہ لوک سبھا انتخابات بی جے پی کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔چنانچہ امت شاہ کی 5 نومبر کی تقریر طے کرے گی کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کا خاکہ کیا ہوگا۔حالانکہ یہ مانا جا رہا ہے کہ اس بار بی جے پی پوری طرح سے بہار کے 82 فیصد ہندوؤں کو اپنے ’’ہندتو‘‘ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے گی۔
مرکزی وزیر امت شاہ کے بہار دورے کی بات کی جائے تو ان کا کل کا دورہ ایک سال میں چھٹھا دورہ ہوگا۔ گزشتہ ماہ ہی 16 ستمبر کو انہوں نے مدھوبنی کے جھنجھار پور میں منعقد جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے پورنیہ، چھپرا، والمیکی نگر، نوادہ اور لکھی سرائے میں جلسوں سے خطاب کیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ بہار بی جے پی نے ریاست میں جے ڈی یو کے قبضہ والی سیٹوں پر خود قابض ہونے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ریاست کی تمام 40 سیٹیں جیتنے کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر، ریاستی صدر سمراٹ چودھری نے گزشتہ بدھ کو سپول، پورنیہ، بھاگلپور، بانکا، مدھے پورہ، نالندہ اور گوپال گنج لوک سبھا حلقوں کے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔جن پارلیمانی حلقوں کے لیے میٹنگ ہوئی ،انھیں بی جے پی اپنے لئے بہت اہم مان رہی ہے۔ پارٹی کی نظریں سب سے پہلے ان لوک سبھا سیٹوں پر ہیں جہاں اس کی مضبوط گرفت ہے۔حالانکہ بی جے پی کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ بہار کی عظیم اتحاد حکومت نے ذات پر مبنی سروے کے ذریعہ بہار میں جس سیاست کی بنیاد رکھ دی ہے، اسے ہلا پانا اس کے لئے بہت آسان نہیں ہے۔چنانچہ امت شاہ کا کل کا دورہ بہت حد تک یہ بھی صاف کرے گاکہ لوک سبھا انتخابات 2024 میں بہار کتنا ان کے ساتھ ہے۔