تعلیم : حکومت بہار حد درجہ سنجیدہ ہے

تاثیر،۱۷  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

 بہار میں پچھلے 6 مہینوں سے پرائمری ، میڈل اور سیکنڈری اسکولوں میں درس و تدریس کے نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کے کے پاٹھک کی خصوصی دلچسپی نے آج وہ کارنامہ کر دکھایا ہے، جو آسان نہیں تھا۔ اساتذہ کو وقت کا پابند ہو جانا اور اپنے اپنے اسکولوں میں 70 سے 80 فیصد طلبا و طالبات کی حاضری کو ممکن بنا دینے کا سہرہ اگر کسی کے سر جاتا ہے تو وہ کے کے پاٹھک ہی ہیں۔ ظاہر ہے کے کے پاٹھک جس طاقت سے یہ سب کچھ کر رہے ہیں، وہ ریاستی حکومت کی ہی طاقت ہے۔بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ریاست کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے ہی محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ان جیسے سنجیدہ ، سمجھداراور ایماندار سنیئر آئی اے ایس افسر کو دی ہے۔
ظاہر ہےریاستی حکومت ترجیحی بنیاد پر تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے مقصد سے بڑے پیمانے پر اساتذہ کی بحالی کر رہی ہے۔پرائمری، میڈل اور سکنڈری سطح کے اب تک مجموعی طور پر کل 1.20 لاکھ تقرریاں ہو چکی ہیں۔بیشتر نو منتخب اساتذہ نے اپنے اپنے اسکولوں میں جوائننگ بھی دے دی ہے۔باقی اساتذہ کی جوائننگ بھی ایک دو دنوں کے اندر مکمل ہو جائے گی۔پھر ان کی ٹریننگ پوری ہونے کے بعد سبھی اساتذہ درس و تدریس کے کام میں لگ جائیں گے۔ابھی ایک طرف یہ سب ہو ہی رہاہے تب تک دوسری جانب دوسرے مرحلے کی اساتذہ تقرری کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں بہار پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ایک تازہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ نوٹفکیشن کے مطابق پرائمری اساتذہ کی بھرتی کے لیے ہونے والا تحریری امتحان جلد ہی لے لیا جائے گا۔ امتحان150 نمبروں کا ہوگا۔ امتحان کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے کا ہوگا۔امتحان کے سوالیہ پرچے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس کے تحت پہلا سیکشن زبان کی اہلیت کا ہوگا اور دوسرا سیکشن جنرل نالج کا اور تیسرا مضمون کا ہوگا۔ تحریری امتحان کثیر انتخابی ہوگا۔ غلط جوابات پر منفی مارکنگ نہیں ہوگی۔
تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لئے حکومت بہار کانٹرکٹ پر درس و تدریس کا کام انجام دے رہے تقریباََ چار لاکھ اساتذہ کو جلد ہی ریاستی ملازمین کا درجہ دینے والی ہے۔ محکمہ تعلیم کے ذریعہ اس سلسلے کا ضابطہ جلد ہی منظوری کے لیے نتیش کابینہ کو بھیجا جائے گا۔ اگلے ہفتے ہونے والی ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں اسے منظوری مل سکتی ہے ۔ نتیش کابینہ کی اگلی میٹنگ 22 نومبر کو بلائی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے کانٹرکٹ پر کام کر رہے اساتذہ کو سرکاری ملازمین کا درجہ دینے کے لیے مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق اس قبیل کے تمام اساتذہ کو ایک اہلیتی امتحان دینا ہوگا۔امتحان پاس کرنے والے اساتذہ کو سرکاری ملازمین کا درجہ ملے گا۔ انہیںبی پی ایس سی اساتذہ کی بحالی کے امتحان میں شر یک نہیں ہونا ہوگا۔ حال ہی میں بی پی ایس سی امتحان سے منتخب اساتذہ کو اہلیت کا امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کابینہ سے منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس کے بعد نئے ضابطے نافذ ہو جائیں گے۔ محکمہ تعلیم دسمبر میں اساتذہ کے لیے اہلیتی امتحان منعقد کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ بھی چند روز میں جاری کر دیا جائے گا۔ اس میں کامیاب ہونے والےاساتذہ کو بی پی ایس سی سے منتخب اساتذہ کے برابر تنخواہ ، ترقی اور دوسری سہولیات ملیں گی۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل نتیش حکومت نے ضابطے میں تبدیلی کرتے ہوئے ریاستی ملازم کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کانٹریکٹ پر بر سر کار اساتذہ کے لئے بی پی ایس سی امتحان پاس کرنا لازمی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد اساتذہ یونین نے تحریک شروع کی۔  حکومت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اور اب نئے ضابطے کو نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔نئےضابطے کے بارے میں اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق سرکاری ملازم بننے کے لیے ملازمت کرنے والے اساتذہ کو اہلیتی امتحان دینا ہوگا۔ امتحان اگلے مہینے یعنی دسمبر میں لیا جا سکتا ہے۔ اگر اساتذہ اس امتحان میں ناکام بھی ہو جائیں تو انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں یہ امتحان پاس کرنے کے لیے تین مواقع دیے جائیں گے۔ مانا جا رہا ہے کہ یہ بی پی ایس سی کے اساتذہ کی بحالی کے امتحان کی طرح مشکل نہیں ہوگا۔اگر کوئی استاد اہلیتی امتحان کی تینوں کوششوں میں ناکام ہو جاتا ہے تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امتحان پاس نہ کرنے والے اساتذہ کی ملازمت خطرے میں بھی پڑ سکتی ہے۔ اس ضابطے کے خلاف متعلقہ اساتذہ نے احتجاج بھی کیا تھا، لیکن اس احتجاج کو حکومت نے نظر انداز کر دیا۔
واضح ہو کہ اہلیتی امتحان پاس کر کے سرکاری ملازمین بننے والے اساتذہ کو وہی فائدے ملیں گے ، جو بی پی ایس سی سے منتخب اساتذہ کو ملنے والے ہیں۔یعنی انہیں وہی پے سکیل، پروموشن کے فوائد اور دیگر سہولیات ملنی شروع ہو جائیں گی جو کہ بی پی ایس سی کے ذریعہ مقرر کردہ اساتذہ کو ملنے والی ہیں۔ اہلیتی امتحان پاس کرنے والے اساتذہ ضلعی کیڈر میں شامل ہو جائیںگے۔انھیں ٹرانسفر کا فائدہ  بھی ملنا شروع ہو جائے گا۔ ضلع کے اندر یا ضلع سے باہر وہ اپنا تبادلہ کرانے کے اہل ہو جائیں گے۔یعنی ریاست کے تمام اساتذہ ایک زمرے میں شامل ہو جائیں گے۔آپس میں کوئی امتیاز نہیں رہ جائے گا۔اساتذہ اساتذہ کے درمیان کوئی سیاست نہیں رہ جائے گی اور پرائمری سے لیکر سکنڈری تک تعلیم کا معیار پہلے سے بہت بہتر ہو جائے گا۔اس کے بعد ہائر ایجوکیشن یعنی یونیورسیٹی سطح پر تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے پر غور کیا جائے گا۔حکومت بہار اس معاملے میں بھی حد درجہ سنجیدہ ہے۔