تاثیر،۲۷ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
تلنگانہ کے مسلم ووٹر زکس کو ووٹ دیں گے ؟ کانگریس یا کے چندر شیکھر راؤ کی بھارت راشٹرسمیتی (بی آر ایس) کو ؟ اس سوال کا جواب ہی طے کرے گا کہ تلنگانہ میں کون اقتدار میں واپس آئے گا۔ ویسے یہ بات سب کو معلوم ہے کہ تلنگانہ کی 40 اسمبلی سیٹوں پر مسلم ووٹرز کھلے عام جیت یا ہار کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تلنگانہ میں 12.7 فیصد مسلم ووٹر ہیں، جو2014 سے پہلے روایتی طور پر کانگریس کو ووٹ دیتے تھے۔ 2014 میں تلنگانہ کی تشکیل کے بعد کے سی آر سے وابستہ ہوگئے۔کے سی آر نے بھی مسلمانوں کے لیے ریزرویشن اور اماموں کو تنخواہ دینے جیسی کئی اسکیمیں شروع کیں، جن میں انہیں نقد امداد دی جاتی ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پچھلے دو اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں مسلم ووٹروں کو بی آر ایس کے حق میں کھڑا دیکھا گیا۔ تاہم 2023 کے اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹر کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان بنٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
تلنگانہ میں اسمبلی کی 119 سیٹیں ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے 60 سیٹیں درکار ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تلنگانہ کی 29 سیٹوں پر مسلم ووٹروں کی تعداد 15 فیصد سے زیادہ ہے۔ حیدرآباد کی سات سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی 50 فیصد کے قریب ہے اور ان پر اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی اے آئی ایم کی بادشاہت ہے۔ بقیہ 22 سیٹیں گریٹر حیدرآباد، نظام آباد، ظہیر آباد، کریم نگر، سنگاریڈی اور عادل آباد میں ہیں۔ مجموعی طور پر مسلم ووٹروں کی پسند سے 40 سیٹوں پر ایم ایل اے منتخب ہوتےہیں۔ اس بار بھی اے آئی اے آئی ایم صرف 9 سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ باقی سیٹوں پر بی آر ایس کی طاقت مسلم ووٹروں کے ہاتھ میں ہے۔ کے سی آر حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ محمد علی کا دعویٰ ہے کہ 2014 سے تلنگانہ میں مسلمانوں کی حفاظت میں اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ میں فرقہ وارانہ تشدد یا فسادات کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں 2014 اور 2018 میں 8 اقلیتی ایم ایل اے تھے۔ دونوں بار اے آئی ایم آئی ایم کے 7 اور بی آر ایس سے 1 ایم ایل اے تھے۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے کس کا ساتھ دیا ہے، یہ 3 دسمبر کو ہونے والے نتائج سے معلوم ہوگا۔
ایک رپورٹ کے مطابق چھ ماہ قبل تک تلنگا نہ مسلم ووٹرز بی آر ایس کے ساتھ تھے۔ اس دوران دہلی شراب گھوٹالہ کا معاملہ گرم ہونے لگا۔ ای ڈی نے بی آر ایس لیڈروں سے پوچھ گچھ کی۔ بی جے پی کا رویہ بھی اس ایشو پرجارحانہ رہا۔ پھر اچانک یہ معاملہ سرد ہوگیا۔ تب بحث شروع ہوئی کہ بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس کا پیغام بھی مسلم ووٹروں میں بی آر ایس کے خلاف گیا۔ دوسری طرف کرناٹک میں کانگریس کی جیت سے اقلیتی ووٹروں پر پا رٹی کا اثر بھی قائم ہوا ۔ چنانچہ اب صورتحال یہ ہے کہ یہاں کے عام لوگ ہی یہ بتا رہے ہیں کہ کاماریڈی اور نظام آباد کے مسلمان اس بار بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان منقسم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہماری کمیونٹی کو بی آر ایس حکومت سے کوئی شکایت نہیں ہے، لیکن لوگ محسوس کرتے ہیں کہ کانگریس قومی سطح پر بی جے پی سے مقابلہ کر سکتی ہے۔حالانکہ کچھ مسلمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کے سی آر حکومت میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں، اس لیے وہ صرف بی آر ایس کو ووٹ دیں گے۔
اِدھر بی آر ایس کے لیے یہ راحت کی بات ہے کہ اے آئی اے آئی ایم نے ریاست کی 110 اسمبلی سیٹوں پر اس کے حق میں اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم لیڈر سید امین الحسن جعفری کا کہنا ہے کہ پارٹی صرف 9 سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ اس الیکشن میں صرف پرانے حیدرآباد شہر کی سیٹوں پر ہی وہ مقابلہ کر رہے ہیں۔ دیگر 110 سیٹوں پر بی آر ایس کی حمایت کی گئی ہے، کیونکہ کے سی آر حکومت نے اچھا کام کیا ہے۔ تاہم، جوبلی ہلز کے علاقے میں اے آئی ایم آئی ایم کے داخلے سے مسلمان حیران ہیں۔ اس سیٹ پر بی آر ایس ایم ایل اے مگنتی گوپی ناتھ کا مقابلہ کانگریس کے امیدوار محمد اظہر الدین سے ہے۔ کانگریس کے ایک مسلم لیڈر کا دعویٰ ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم نے بی آر ایس کی مدد کے لیے وہاں اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ یونائیٹڈ مسلم فورم بھی بی آر ایس کی حمایت کر رہا ہے جبکہ تحریک مسلم شبان زیادہ تر سیٹوں پر کانگریس کی حمایت میں سامنے آئی ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے دو گروپ میں سے ایک بی آر ایس کے حق میں ہے اور دوسرا کانگریس کے حق میں ہے۔ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ چیپٹر نے 69 اسمبلی سیٹوں پر کانگریس، 41 پر بی آر ایس، 7 پر اے آئی ایم آئی ایم ،ایک سیٹ پر سی پی آئی اور ایک سیٹ پر بی ایس پی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پانچ ریاستوں ایم پی، چھتیس گڑھ، میزورم اورراجستھان میں ووٹنگ ہو چکی ہے۔ صرف تلنگانہ کی انتخابی جنگ باقی ہے۔تلنگانہ اسمبلی کی 119 نشستوں کے لیے ووٹنگ 30 نومبر کو ہوگی۔ تمام 5 ریاستوں کے نتائج 3 دسمبر کو ایک ساتھ آئیں گے۔ آندھرا پردیش سے الگ ہونے کے بعد جب سے تلنگانہ ایک علیحدہ ریاست کے طور پر وجود میں آیا ہے، تب سےریاست پر بی آر ایس (پہلے ٹی آر ایس) کی واحد حکمرانی میں ہے۔ بی آر ایس چیف اور چیف منسٹر کے۔ چندر شیکھر راؤ کی نظراپنے روایتی مسلم ووٹرز پر ٹکی ہوئی ہے۔ کانگریس مسلم ووٹرز کے سہارے تلنگانہ میں کرناٹک اسکرپٹ لکھنا چاہتی ہے ۔ جبکہ بی جے پی اقتدار میں آنے پر مسلم ریزرویشن ختم کرنے کا وعدہ کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہی ہے کہ آخرآخر تک چناؤ کا کون سا رنگ سامنے آتا ہے۔فی الحال تلنگانہ کی انتخابی فضا میںایم فیکٹر کی ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
*********

