تاثیر،۲۲ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
حیدرآباد،22نومبر: تلنگانہ اسمبلی انتخاب کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ریاست میں سرگرمی بڑھی ہوئی ہے اور سبھی پارٹی امیدوار اپنی اپنی جیت کے لیے جی توڑ محنت کر رہے ہیں۔ ریاست میں مقابلہ خاص طور سے بی جے پی، کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان ہے۔ حالانکہ اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم بھی کچھ سیٹوں پر مخالفین کو سخت مقابلہ دے گی۔ ایک طرف جہاں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تلنگانہ میں بی جے پی حکومت بننے پر مسلم ریزرویشن ختم کرنے کا وعدہ کر ہندوتوا کارڈ کھیلتے ہوئے ہندو ووٹرس کو پولرائز کرنے کی کوشش کی ہے، تو وہیں دوسری طرف دیگر پارٹیاں مسلم ووٹرس کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اس درمیان کانگریس کو ایک بڑی خوشخبری ملی ہے۔دراصل تلنگانہ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ تلنگانہ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اس اعلان کے مطابق کمیٹی نے ا?ئندہ اسمبلی انتخاب مین ریاست کے سبھی مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کانگریس کے حق میں ووٹ کریں اور اپنی طاقت دکھائیں۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ اگر ریاست میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو پھر جے اے سی کے مسلم منشور میں شامل وعدوں کو نافذ کرنے کا دبائوکانگریس پر بنانے میں وہ اہم کردار ادا کرے گی۔جے اے سی کے ریاستی کنوینر سید سلیم پاشا اور شریک کنوینر شیخ یوسف بابا کا اس تعلق سے کہنا ہے کہ ا?ئندہ سال ہونے والے لوک سبھا انتخاب میں کمیٹی کا رخ کس طرف ہوگا، یہ اس بات پر منحصر کرے گا کہ کانگریس حکومت مسلم طبقہ کے تئیں کیے اپنے وعدوں کو کتنی شدت کے ساتھ پورا کرتی ہے۔ کمیٹی لیڈران کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی کی اقلیتی اعلامیہ مسودہ کمیٹی نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ انھوں نے مسلم جے اے سی کے منشور میں شامل 8 مطالبات کو اپنے اقلیتی اعلامیہ میں شامل کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 11 نومبر کو جے اے سی کی ریاستی کمیٹی اور ضلع کمیٹیوں کے سربراہان کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس دوران بتایا گیا تھا کہ بیشتر لوگوں کا رجحان کانگریس پارٹی کی طرف ہے۔ ایسے میں کانگریس کی حمایت کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔تلنگانہ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بی ا?ر ایس پر مسلم طبقہ کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ریاست کی بی ا?ر ایس حکومت قصداً مسلم ا?بادی کے تئیں اپنے عزائم سے پیچھے ہٹی ہے۔ اب جبکہ کمیٹی نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، تو یہ بی ا?ر ایس کے ساتھ ساتھ اویسی کی پارٹی اے ا?ئی ایم ا?ئی ایم کے لیے بھی شدید جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ تلنگانہ کی 3.51 کروڑ ا?بادی میں 13 فیصد مسلم ووٹرس ہیں۔ ریاست کی 119 اسمبلی سیٹوں میں سے تقریباً 45 اسمبلی سیٹوں پر مسلم ووٹرس کا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایسے میں سبھی کی نظر مسلم ووٹرس پر ہے۔ اس ریاست میں 30 نومبر کو سبھی 119 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی اور 3 دسمبر کو ووٹ شماری ہوگی۔

