تل کا تا ڑبنا ر ہی بی جے پی، مرکز کے اشارے پر سازش، وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ کے مطالبہ پر وجے چودھری برہم

تاثیر،۸  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ، 8 نومبر: بہار میں نتیش کمار کے متنازعہ بیان سے سیاسی گلیا رو ں میں بیان بازی جا ری ہے۔ اگرچہ وزیر اعلی ٰ نتیش کمار نے اپنے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے ، لیکن بی جے پی کا کہنا ہے کہ معافی کافی نہیں، استعفیٰ کی ضرورت ہے۔ وجے کمار چودھری نے اس بیان پر بی جے پی پر سازش کا الزام لگایا ہے۔
بدھ کے روز سرمائی اجلاس کے تیسرے دن وزیر خزانہ وجے کمار چودھری نے میڈیا سے خطاب کیا۔ جب میڈیا نے بی جے پی کے بیان پر بات کی تو انہوں نے بی جے پی پر سازش کا الزام لگایا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ لوگ مرکز کے کہنے پر ایسا کر رہے ہیں۔ جب وزیراعلیٰ نے بیان دیا تو احتجاج کیوں نہیں ہوا؟
میڈیا نے پوچھا کہ جس وقت نتیش کمار بیان دے رہے تھے ، اس وقت بی جے پی کے ریاستی صدر سمراٹ چودھری نے اس کی مخالفت کی تھی۔ سمراٹ نے کہا تھا کہ ‘ا?پ گارجین ہیں ، اس قسم کی زبان استعمال نہیں کر سکتے ہیں ‘۔ اس پر وجے چودھری نے کہا کہ انہوں نے کہاں احتجاج کیا تھا۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنا بیان واپس لے لیا، تو اب وہ کس بات پر احتجاج کر رہے ہیں؟
اس دوران وجے کمار چودھری نے کہا کہ جب نتیش کمار نے دونوں ایوانوں میں یہ کہا تو اس وقت موجود کسی نے احتجاج نہیں کیا اور ا?ج وہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے میں مصروف ہیں۔ ذات پر مبنی گنتی کامیاب ہونے پر بی جے پی والوں کو چکر ا? رہاہے۔ کل ایوان میں وہ انتہائی پسماندہ دلتوں کے لیے ریزرویشن بڑھانے کے معاملے پر بے چین ہو گئے۔
منگل کے روز وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایوان میں خواتین کو لے کر قابل اعتراض بیان دیا۔ نتیش ا?بادی کنٹرول کی بات کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد رات کو کیا ہوتا ہے؟ وزیراعلیٰ نے اور بھی بہت سی باتیں کہی جو لکھی نہیں جا سکتیں۔ اس کے بعد سے مسلسل احتجاج جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔